سرینگر+نئی دہلی//جموں کشمیرپولیس گرفتار کئے گئے پیپلزڈیموکریٹک پارٹی یوتھ صدروحیدالرحمن پرہ ،پران الزامات کہ اُس کے سرحدپار جنگجوئوں کے ساتھ روابط تھے، کے فون ریکارڈ کی انٹرنیٹ پروٹوکول ڈیٹیل ریکارڈ (IPDR)کی جانچ کررہی ہے۔اس جانچ سے فون پر سے کئی گئی کال یاپیغام کی تفصیلات جیسے کس نمبر پر کال کی گئی،کس ملک کو کئی گئی اور کس دن اور کس وقت کی گئی ،معلوم ہوں گی ۔یہ ٹیکنالوجی2جی سہولیات میں زیادہ بہتر طور کام کرسکتی ہے ۔پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق وحید پرہ ،جسے جموں کشمیر پولیس کے سی آئی ڈی کے جرائم سے متعلق شعبے نے گرفتار کیاتھا،کے فون ریکارڈ کی جانچ کی جارہی ہے۔ وحیدالرحمن پرہ کے ضمانتی درخواست کی سماعت کے دوران سوموار کوپولیس نے قومی تحقیقاتی ایجنسی کی خصوصی عدالت کو سرینگرمیں بتایا کہ اُس کی رہائش گاہ سے ضبط کئے گئے فون اور دیگر سازوسامان کوفورنسک جانچ کیلئے بھیجا گیا ہے ۔عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم کے کچھ فونوں کے ’سی ڈی آر/آئی پی آر ڈی ‘حاصل کئے گئے ہیں اور ان کی جانچ کی جارہی ہے ۔ابتدائی جائزے سے پتہ چلاہے کہ پرہ کے روابط سرحد کے اُس پاراُس کے مشتبہ معاونین اور پاکستانی آقائوں کے ساتھ تھے ۔اب تک کی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ ملزم(پرہ)کا متعدد جنگجوئوں کے ساتھ رابطہ تھا۔پروفیسررنجن بوس،آئی آئی ٹی پروفیسر کے تحقیقی مقالے کے مطابق،یونیورسٹی آف میری لینڈ کے کمپوٹر سائنس طالب علم آدیہ وی جوشی،جس نے 2017-18میں دلی پولیس کے ساتھ انٹرن شپ کی تھی اورآئی پی ایس افسر مدن اوبرائے ،جو اس وقت انٹر پول کے ایگزیکیٹوڈائریکٹر ہیں،نے موبائل صارفین کے رمزی پیغامات کاجائزہ لے کرکامل کال گراف اس ڈاٹا سے حاصل کیا۔ تحقیقی مقالے کے مطابق جب دومشتبہ ایک دوسرے سے وٹس ایپ پر بات کررہے ہوتے ہیں،ان کے جی پی آر ایس اور سی ڈی آر کاجائزہ لینے سے پتہ چلے گاکہ وہ دونوں رابطے میں تھے۔اس کے برعکس تاہم صحیح نہیں ہے۔کیوں کہ دولوگ وٹس ایپ کے ساتھ ایک ہی وقت میں جڑے ہیں ،کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ بات کررہے ہیں ۔ اسمیں کہاگیا ہے کہ تاہم اگر دولوگ زیادہ تر ایک ہی وقت میں وٹس ایپ سے جڑے رہتے ہیں تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ بات کررہے ہیں ۔اس کا مطلب ہے کہ جی پی آر ایس سی ڈی آرز کاجائزہ لینے سے اس بات کا پتہ چلے گا کہ دو مشتبہ لوگ کتنی زیادہ ایک ہی وقت میں ایک ہی سروس کا استعمال کرتے ہیں اور اس بات کا نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ایک ہی وقت میںرابطے میں ہیں۔تینوں نے یہ تحقیقی مقالہ انسٹی چیوٹ آف الیکٹریکل اینڈ الیکٹرانکس انجینئرنگ جس کے دنیا بھر میں 160ممالک میں4لاکھ ممبر ہیں ،کی چوتھی بین الاقوامی کانفرنس میں پیش کیا۔اس تیکنالوجی سے اشارہ پاکر پولیس پر ہ کے فون کا جائزہ لے رہی ہے اور عدالت سے اس ڈاٹاکاجائزہ لینے کیلئے مہلت طلب کی ہے تاکہ فارنسک سائنس لیبارٹری ماہرین کی طرف سے دستیاب کئے گئے کثیر ریکارڈکی جانچ کی جائے۔