بلال احمد پرے
قرآن کریم میں تمام چیزوں کا علم موجود ہے ۔ یہ اس دائمی معجزہ سے واضح ہے کہ ’’ اس کے اندر کوئی خامی یا کسر (الکھف۔1) باقی نہیں ہے ۔ اور اسی مقدس اور عظیم کتاب میں مختلف حضرات انبیاء کرام کا تذکرہ ملتا ہے ۔ جن کی مبارک سیرتوں کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ دین کی دعوت، حفاظت، اشاعت اور خدمتِ خلق کے علاوہ اُن کا کوئی نہ کوئی حلال پیشہ ضرور تھا ۔ جو آگے منتقل ہوا اور اسبابِ معاش کا یہ سلسلہ بنتا چلا آیا ۔ حضرت آدمؑ سے انسانیت کی نسل آگے چلیں اور آپؑ نے کاشت کاری سیکھی، بیج بویا اور کھیتی باڑی میں مشغول ہو گئے ۔ اسی طرح حضرتؑ اور حضرت لوط ؑ کا مشغلہ کھیتی باڑی تھا ۔
اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت کی تنظیم (UNFAO) کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی آدھی قابل رہائش زمین کھیتی باڑی کے لیے استعمال ہوتی ہے ۔ عالمی سطح پر زرعی زمین کا رقبہ تقریباً پانچ بلین ہیکٹر جو کہ عالمی سطح کا 38 فیصد کا حصہ ہے ۔ آبپاشی کے لحاظ سے ایشیا میں سب سے زیادہ قدریں 40 فیصد زمین کھیتی باڑی کے لئے دستیاب ہے ۔ زراعت کے اعتبار سے دنیا میں سب سے زیادہ دستیاب زمین چین، امریکہ، آسٹریلیا، برازیل، کزاکستان، روس اور ہندوستان کے پاس بالترتیب موجود ہے ۔
کھیتی باڑی کا شعبہ اس قدر وسیع بن گیا ہے کہ زرعی یونیورسٹیوں کی بنیاد اسی پر مبنی ہے ۔ جہاں پیشہ ورانہ ڈگریاں کرانے کے ساتھ ساتھ تحقیق، تجربات و نت نئی ایجادات پہ کام ہو رہا ہے ۔ آج بھی لوگ نیچرل اور آرگینک فارمنگ کرنے میں دلچسپی لیں رہے ہیں ۔ ہرے بھرے پودوں کے درمیان صاف و شفاف ماحول ملتا ہے اور اس میں واقعی سبھی انسان رہنا پسند کرتے ہے ۔ قدرت کی رنگا رنگ خوبصورت نظارے انسان کو قدرت کے قریب تر لے جاتے ہیں ۔
حضرت نوح ؑ کے تذکرہ سے پتہ چلتا ہے کہ آپؑ کا پیشہ بڑھئی (carpenter) سے بڑھ کر تھا ۔ آپؑ کا لکڑی کاٹنا، اس سے ایک بڑی کشتی بنانا کئیں اہم پہلو کو اُجاگر کرتا ہے ۔ اس پیشے کو آج کے جدید دور میں ہنرمند (skilled) مانا جاتا ہے ۔ اور بیرون ملکوں میں اس طرح کے ہنر مند نوجوانوں کے لئے روزگار کے بے شمار مواقع میسر ہیں اور بہت اچھی معقول تنخواہ بھی ملتی ہے ۔
ہمارے یہاں ریاست میں گورنمنٹ آئی ٹی آئی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس (ITI’s) میں carpenter کورس کی شاخ موجود ہے ۔ جس میں ہنر مند بنانے کے لئے باضابطہ طور پر داخلہ ہوتا ہے ۔جس کے مکمل ہونے پر بعد سپر واءزری (Supervisor) کے عہدہ کے روزگار کے مواقع حاصل ہو سکتے ہیں ۔ جب کہ نجی سطح پہ اس طرح کے افراد تعمیراتی کاموں میں بہ آسانی اپنا روزگار حاصل کر سکتے ہیں اور اس سے اپنا اسبابِ معاش اختیار کر کے خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں ۔
حضرت داؤد ؑکے لئے اللہ تعالیٰ نے لوہے کی معدنیات نرم کر رکھی تھی ۔ اور آپؑ لوہے سے مختلف قسم کا سامان بناتے تھے ۔ جس میں جنگوں کے دوران زرّہ بنانا خصوصی طور پر شامل ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’اور ہم نے حضرت داوؤدؑ کے لئے لوہا نرم کر دیا‘‘ (سبا۔ 10)۔اسی طرح اپنے زمانے کے سُپر مین، عظیم، متقی اور نیک دل بادشاہ حضرت ذوالقرنین نے لوہے اور تانبے سے مضبوط ترین دیوار بنا کر دو وحشی قبیلوں یعنی یاجوج و ماجوج کو بند کر رکھا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’میرے پاس لوہے کے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔۔۔۔ اس پر پگھلا ہوا تانبا ڈال دوں ۔‘‘ (الکہف۔ 96)
آج کے جدید دور میں سائنس نے اس قدر ترقی کی ہے کہ لوہے اور تانبے سے بے شمار چیزیں تیار کئے ہیں ۔ جس سے مختلف قسم کی انجینئرنگ کے شعبہ جات وجود میں آگئے ہیں ۔ یہ اس قدر وسیع شعبے بن گئے ہیں کہ لوہار سے مینکنیکل انجینئرنگ تک پھیلی ہوئی ہے ۔ سائنس نے لوہے سے نہ صرف تعمیراتی کام لے لیا بلکہ اس سے مزید نرم کر کے جدید ترین ہتھیار تیار کر کے دئے اور ساتھ ہی ان ہتھیاروں سے بچنے کے لئے بُلٹ پروف جیکٹ و ٹوپیاں بھی مہیا کر رکھی ہے ۔اسی طرح تانبا کی صنعت (Copper Industry) بہت ہی پرانی مانی جاتی ہے ۔ جس سے بے شمار تاجر، کاریگر اور مزدور وابستہ ہیں اور نقل و حمل کرانے کے لئے اس سے دو گُنا پیشہ ورانہ لوگ جڑے ہوئے ہیں ۔ وادئ کشمیر میں تانبے کے برتن بڑے ہی مشہور و معروف ہیں ۔ ہمارے یہاں شادی کے خصوصی موقع پر انہی برتنوں کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ یہ ہنر کشمیری ثقافت میں صدیوں سے جڑی ہوئی ہے ۔ مورخین کے مطابق اس خوبصورت فن کو ایران اور عراق کے کاریگروں اور تاجروں نے سات سو سال قبل متعارف کرایا تھا ۔ جس کا سہرا حضرت میر سید علی ہمدانی ؒ کو جاتا ہے ،جس نے مقامی لوگوں کو تربیت دینے کے لیے وسطی ایشیا سے کاریگروں کی ایک بڑی جماعت اپنے ساتھ یہاں لائی اور یہاں کے لوگوں کو دینداری کے ساتھ ساتھ کاری گر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔
تاہم تانبے کے برتنوں کا ہنر زین العابدین المعروف بڈشاہ کے دور میں فروغ پایا ہے ۔ آج کل خوبصورت طریقے سے ڈیزائن کیے گئے تانبے کے برتن نہ صرف ہمارے گھروں میں کھانا پکانے اور مہمانوں کو پیش کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر شادیوں اور دیگر تقریبات میں بھی استعمال ہوتے ہیں ۔ عام طور پر استعمال ہونے والی مصنوعات میں طشتری Taesh Naer، ترامی، پلیٹ، گلاس، ہانڈی، صراحی، سماوار وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔ جن پر نہایت ہی خوبصورت نقش و نگاری کی ہوتی ہے ۔ کشمیری فنکاروں نے اسے شاندار شکل دینے کے لیے پیچیدہ پھولوں کی شکلیں، خطاطی اور چنار کے پتوں کا استعمال کیا ہے ۔ سرینگر کے شہر خاص (Downtown) کو تانبے کے برتنوں کا مرکز مانا جاتا ہے ۔ جہاں یہ برتن نہایت ہی خوبصورت اور دلکش انداز میں سجائے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ زینہ کدل کے پرانے بازاروں میں اب بھی یہ شاندار کاریگری موجود ہے ۔
سماوار کا گرم قہوہ اور نمکین چائے اپنے آپ میں ذائقہ دار اور شاہی انداز پیش کرتی ہے ۔ اور آج کی تاریخ میں سماوار کو خاص طور پر جھیل ڈل کے اندر اور لیتھ پورہ (پانپور) کے زعفران کے کھیتوں میں دیکھا جاتا ہے ۔ جس سے مقامی لوگوں اور سیّاحوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے توجہ کا مرکز بنایا گیا ہے ۔
تانبا کی صنعت کے ساتھ وادئ کشمیر سے تقریباً 28000 کاری گر وابستہ ہے ۔ جس کے لئے جموں و کشمیر میں تانبے کی تجارت سے وابستہ کاریگروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے مشین سے برتنوں کی تیاری پر پابندی لگا دی گئی تھی ۔ اور اس سے باضابطہ طور پر ایکٹJammu and Kashmir prohibition on the manufacture of specific copper utensils (by Machines) Act 2006 کی شکل میں منظور بھی کیا گیا تھا ۔ حالانکہ اس ایکٹ کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اس صنعت سے وابستہ سبھی کاریگروں کے ذریعہ معاش کو محفوظ بنا کر موثر اقدام اٹھانے کی ضرورت کو پورا کیا جائے ۔
حضرت سلیمانؑ کو اللہ تعالیٰ نے دُنیا کے لحاظ سے ایسی شان و شوکت سے نوازا تھا، کہ شاندار محل اور سامانِ عیش کے باوجود غرور سے پاک، متقی، نیک نفس پیغمبر تھے ۔ آپؑ کے محل خانہ میں داخل ہوتے ہی صحن میں ایسا حوض تھا، جس کا پانی گہرا نہیں تھا اور اس کے اوپر خوبصورت شیشہ چڑھا ہوا تھا کہ دیکھنے والا اس پر چلنے سے کتراتا تھا ۔ جس سے سبا کی ملکہ بلقیس بھی دیکھ کر حیران ہوئی ۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ ’’ یہ تو محل ہے جو شیشوں کی وجہ سے شفاف نظر آرہا ہے ۔‘‘ (النمل۔ 44)
اس طرح سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تاریخ میں شیشہ گری کا تصّور کس قدر بلند و اعلیٰ ہے ۔ آٹھویں صدی کے ابتدائی دور میں شیشہ گری اپنے بام عروج پر تھی ۔ جس میں ابن الہیثم کی عینک کے شیشوں سے لے کر ابن مہین کے کیمیائی تھرماس تک اور دیگر تعمیر کردہ مساجد و مدارس کے خوبصورت چراغ اور شمع دان از خود یہ دلیل پیش کرتی ہیں اور آہستہ آہستہ یہ کھڑکیوں اور دروازوں پر نصب کرنے کے ساتھ ساتھ ہی رنگین بنائے گئے ہیں ۔ جس کے بعد اِن کی خوبصورتی کو مزید دوبالا کرنے کے لئے مختلف تصاویر کے ساتھ نقاشی کی گئی ۔ آج بھی اسلامی فنون کے نمونوں کی نمائش حیرت انگیز ہے جو صرف ہاتھوں سے تیار کی جاتی تھی ، اب سائنس کی ترقی سے یہ فن آرائشی سامان سے باہر نکل کر دوربین، خوردبین، تھرمامیٹر، کیمرہ، optometry، لیزر، آپٹیکل فیبرز سے سائنسی تحقیق، تجربات و ایجادات کا موجب بن گئی اور اب موبائل سے لے کر ہوائی جہاز تک استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس طرح کی ضرورت بڑھنے سے شیشے کی صنعت میں روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہوئے ہیں ۔
حضرت الیاسؑ کا پیشہ بنکر تھا ۔ جس سے موجودہ اصطلاح میں کپڑے کی صنعت یا Mill Industry کہتے ہیں ۔ اور اسی صنعت پہ انسان کا سب سے زیادہ درامدار ہے ۔ انسان کے تولد سے لے کر دفن تک صرف اسی صنعت کی زیادہ خریداری کی جاتی ہے ۔ اسی صنعت کے ساتھ بنیادی سطح پہ ریشم بنانے کے لئے کئیں گھر وابستہ ہے ۔ ہمارے یہاں وادئ کشمیر میں بھی ریشم کے ریشے بنانے کے لئے شہتوت کے پتوں پر رہنے والا لاروا Bombyx Mori کو تجارتی مقاصد کے لئے پالا جاتا ہے ۔ جس کے روزگار پہ کئیں گھروں کا چولہا جلتا ہے ، اب یہ صنعت ترقی کے منازل طے کرتے ہوئے ٹیکسٹائل انجینئرنگ تک پہنچ گئی ہے ، جس کے ساتھ لاکھوں کی تعداد میں پیشہ ورانہ لوگوں کا روزگار جڑا ہوا ہے ۔گزشتہ سال مرکزی حکومت نے کپڑے کی صنعت میں خود کفیل بھارت بنانے کے لئے سات پی ایم مِترا پارک (PM Mitra) جاری کیا ہے ۔ جس سے 5F فارمولے سے تحریک ملی ہے ۔ جس کا مطلب Farm to Fiber یعنی کھیت سے ریشے تک، Fiber to Factory یعنی ریشے سے کارخانے تک، Factory to Fashion یعنی کارخانے سے فیشن تک اور Fashion to Foreign یعنی فیشن سے بیرون ملک تک کا کاروباری سفر ہے ۔ اس طرح سے بھارت کو مزید سرمایہ حاصل کرنے، روزگار کے موقعوں میں اضافہ کرنے اور کپڑے کی عالمی مارکیٹ میں خود کو ایک مستحکم مقام دینے میں مدد ملے گی ۔
اسی طرح حضرت ادریسؑ کا پیشہ درزی کا تھا ۔ جو آج کی تاریخ میں دیکھا جائے تو سائیکل کی سیٹ سے جہاز تک درکار ہے ۔ اور اسی درزی کے کام کاج کو ترقیاتی دور نے ڈیزائنگ تک پہنچا دیا ہے ۔ کسی بھی کپڑے کو نئی ڈیزائنگ کی شکل دینی ہو تو درزی کا پیشہ ہی در پیش آن پڑتا ہے ۔
الغرض مختلف زمانوں میں مختلف انبیاء کرام علیہم السلام نے مختلف پیشوں سے اپنا ذریعہ معاش اختیار کیا ۔ جس سے اس بات کی خوب عکاسی ہوتی ہے کہ انسان کو روئے زمین پر رہتے ہوئے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کے بجائے حلال رزق کی تلاش کرنی چاہئے ۔ جس پر اُس کا مالکِ حقیقی مزید وسعت دے کر خوشگوار زندگی عطا فرمائے گا ۔ (جاری)
(ہاری پاری گام ترال،رابطہ ۔ 9858109109)
[email protected]