راجوری //راجوری اور پونچھ اضلاع میں عسکریت پسندی کی کارروائیوں کے حالیہ واقعات کے سلسلہ میں پولیس سٹیشنوں میں درج کیسوں کی جاری تحقیقات کے دوران انٹیلی جنس ایجنسیاں وادی کشمیر اور پیر پنجال خطہ کے درمیان نقل و حرکت کیلئے عسکریت پسندوں کی طرف سے مغل روڈ کے کسی بھی ممکنہ استعمال کی بھی تحقیقات کر رہی ہیں۔مغل روڈ سے متعلق انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تحقیقات ایک ایسے وقت میں جاری ہیں جب چند ماہ قبل پوشانہ میں سخت حفاظتی چیکنگ میکانزم میں کچھ حد تک نرمی کی گئی تھی۔سرکاری ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ مختلف سیٹ اپ کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اب عسکریت پسندوں کی طرف سے تاریخی مغل روڈ کے کسی ممکنہ استعمال کی بھی تحقیقات کر رہی ہیں۔جڑواں تصادم یعنی چمر اڑانکاؤنٹر اور بھاٹہ دھوڑیاں انکاؤنٹر ان علاقوں میں ہوئے جو ان سڑکوں سے زیادہ دور نہیں ہیںاور دونوں سڑکیں مغل روڈ کو براہ راست منسلک بھی ہیں اور اس نے ایجنسیوں کے درمیان اس سڑک کے ممکنہ استعمال کے بارے میں ایک معمولی شک پیدا کر دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مغل روڈ سے ملحقہ علاقوں جیسے بہرام گلہ ،بفلیاز، ڈی کے جی جنگلات، چمرڑ، چندی مڑھ میں 2000 کے اوائل میں عسکریت پسندی کا ماضی کا ریکارڈ ہے اور 13 دسمبر 2020 کوچھتہ پانی کے قریب پوشانہ میں بھی ایک انکاؤنٹر ہوا جس میں دو عسکریت پسند مارے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بات کا شبہ ہے کہ عسکریت پسندوں نے مغل روڈ کو پیر پنجال کے علاقے اور وادی کشمیر کے درمیان نقل و حرکت کیلئے استعمال کیا ہو گا اور اس میں کوئی ثبوت تلاش کرنے کیلئے ان خطوط پر تفتیش جاری ہے۔