بلال فرقانی
سرینگر //جموں سے پہلی وندے بھارت ایکسپریس ٹرین جمعرات کو سرینگر کے نوگام ریلوے سٹیشن پرپہنچی، جس نے وادی کشمیر کے لیے ریل رابطے میں ایک اہم سنگ میل طے کیا۔ اس پیش رفت کا مسافروں، حکام اور مقامی لوگوں نے خیرمقدم کیا، جنہوں نے اسے ایک تاریخی قدم قرار دیا۔نوگام ریلوے سٹیشن پر سہ پہر 3بجکر 55منٹ پر جب وندے بھارت ایکسپرس نے سیٹی بجائی تو سٹیشن پر موجود سینکڑوں مسافروں نے اسکا استقبال کیا اور تالیاں بجا کر ریلوے حکام کی سراہنا کی۔اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے چیف ایریا منیجر کپل شرما نے کہا کہ ٹرین کی آمد خطے کے لیے ایک جذباتی لمحہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام کشمیری عوام اور پورے ہندوستان کے لیے بہت جذباتی اور اچھا دن ہے۔انہوں نے روشنی ڈالی کہ اپ گریڈ شدہ سروس بھیڑ کو کم کرے گی اور سفری سہولت کو بہتر بنائے گی، اب یہ گنجائش نمایاں طور پر بڑھ کر تقریباً 1450 مسافروں تک پہنچ گئی ہے۔” ۔جمعرات کو وندے بھارت ایکسپرس علامتی طور پر چلائی گئی کیونکہ اسکا باضابطہ آغاز 2مئی سے ہوگا۔ جموں میں براہ راست ٹرین کا افتتاح صبح ساڑھے 11بجے کیا گیا اور سرینگر پہنچنے کیلئے اسکے لئے ساڑھے چار گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا ہے لیکن سنگلدان میں کراسنگ کی وجہ سے اسے اضافی ایک گھنٹہ لگا س کی وجہ سے یہ سرینگر 3.55بجے پہنچ گئی۔ٹرین میں کوئی مسافر سوار نہیں تھا بلکہ اس میں ریلوے ڈویژن جموں اور ناردرن ریلوے کے حکام اور ملازمین سوار تھے۔2مئی سے اسکا باضابطہ آگاز دن میں دو بار کیا جائیگا۔ سرینگر سے پہلی ٹرین صبح8بجے اور دوسری 2بجے نکلے گی جبکہ جموں سے پہلی ٹرین صبح ساڑھے چھ بجے اورڈیڑھ بجے نکلے گی۔ٹرین کابڈگام اور سرینگر سٹیشنوں پر مسافروں نے اس سروس کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ “ہم حکومت کا کافی شکریہ ادا نہیں کر سکتے۔ پہلے سفر مہنگے تھے اور ہائی ویز برف یا بارش کی وجہ سے بند ہو جاتی تھیں، لیکن اب ٹرین سب کے لیے آسان کر دے گی۔”مسافروں نے یہ بھی کہا کہ ہر موسم کا ریل لنک سردیوں کے دوران بڑی راحت فراہم کرے گا جب ہائی ویز اکثر بند رہتی ہیں، جس سے خطے کے لیے سال بھر رابطہ آسان ہو جاتا ہے۔