مینڈھر//پٹھانہ تیر و گرد و نواع کے لوگوں نے پی ایم جی ایس وائی کے آفیسران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پٹھانہ تیر سے اپر گورسائی سڑک کا کام کئی سال سے چل رہا ہے جو مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا ۔سردار محمد شمیم خان سابق رینج آفیسر ،محمد مشتاق خان سابق نائب سرپنچ،سفیاز علی خان،فیصل حسین شاہ،محمد جمیل خان،شوکت علی خان اورشاہجان خان کا کہنا ہے کہ سڑک کا دس کلو میٹر کاٹینڈر پڑا ہے لیکن ٹھیکیدار سست رفتاری سے کام کر رہا ہے اور اس وقت سڑک کی یہ حالت ہے کہ اس پر گاڑیوں کا چلنا ہی مشکل ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تک ٹھیکیدار نے تمام کام گورسائی کے علاقہ میں شروع کیا ہے اور وہاں پر ہی ڈنگے وغیرہ تعمیر کئے جارہے ہیں جبکہ ایک بڑی آبادی والے علاقہ کو جا رہی سڑک کا کام بالکل چھوڑدیاگیاہے جس کے نتیجہ میں اس پر جگہ جگہ کھڈے بن گئے ہیں۔ان کاکہناہے کہ کئی سال گزر جانے کے باوجود سڑک کا کام مکمل نہیں ہوا جس کی انکوائری ہونی چاہیے ۔لوگوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ملازمین جان بوجھ کر سڑک کا کام نہیں کروا رہے جبکہ پٹھانہ تیر سے اپر گورسائی جاری رہی دس کلو سڑک پر بے شمار لوگ سفر کرتے تھے اور سرنکوٹ سے ہوتے ہوئے لوگ جموں کی طرف بھی جاتے تھے لیکن محکمہ کی لاپرواہی کی وجہ سے اب ان کو کئی کلو میٹر سفر زیادہ طے کرکے مینڈھر والے راستے سے جانا پڑتا ہے۔انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ محمد اعجاز اسد سے اپیل کی کہ وہ خود اپر گورسائی سے پٹھانہ تیر سڑک کا معائنہ کریں اور سڑک کی حالت کو بہتر بنانے میں اہم رول ادا کریں۔ان کا کہنا تھا کہ ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جائے جو سڑک کی خستہ حالت کا جائزہ لے کر ان آفیسران کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کرے جنہوںنے غفلت کا مظاہرہ کیاہے جس کی وجہ سے آج تک لوگوں کو مشکلات کاسامناہے۔انہوںنے کہاکہ اگر سڑک کو قابل آمدورفت نہ بنایاگیاتو وہ احتجاج کریںگے ۔رابطہ کرنے پر پی ایم جی ایس وائی کے اے ای ای اظہر احمد خان نے کہاکہ اس وقت پی ایم جی ایس وائی کی بہت ساری سڑکوں کا کام جاری ہے تاہم بجری کی کمی پائی جارہی ہے جس کیلئے ٹھیکیدار نے دو دن کا وقت مانگاہے ۔انہوںنے کہاکہ بہت جلد یہ کام شروع ہوگا اور ان کی کوشش ہوگی کہ اسے اگلے سال مکمل کرلیاجائے ۔