ہم جس دور پُرفتن میں زندگی کے روز و شب بسر کر رہے ہیں، اس کی پیشین گوئی کرتے ہوئے کبھی اکبر الٰہ آبادی نے کہا تھا:
یہ موجودہ طریقے راہیٔ ملک عدم ہوں گے
نئی تہذیب ہوگی اور نئے سامان بہم ہوں گے
نہ خاتونوں میں رہ جائے گی پردے کی یہ پابندی
نہ ایسا پیچ زلفوں میں نہ گیسو میں یہ خم ہوں گے
عقائد پر قیامت آئے گی ترمیم ملت سے
نیا کعبہ بنے گا مغربی پتلے صنم ہوں گے
حالیہ دنوں میں ملک کے طول و عرض میں پیش آنے والے روح فرسا واقعات اور مسلم لڑکیوں میں تیزی کے ساتھ پھیل رہے ارتداد کے اسباب پر غور کرتے ہوئے اچانک ہی مذکورہ اشعار ذہن کے پردے پر رقص کرنے لگے۔ جس وقت کبر نے یہ اشعار کہے تھے، خود انہیں بھی یہ اندازہ نہیں ہوگا کہ قوم مسلم کی غیرت کا جنازہ اس طرح نکلے گا۔ یہ واقعہ ہے کہ ہم نے دین رحمت اسلام کی مقدس تعلیمات کو اپنی زندگیوں سے نکال کر اپنی ذلت کا سامان خود ہی فراہم کیا ہے۔ جہاں تک اسلام دشمن عناصر کی ان مکروہ حرکتوں کا سوال ہے تو ہمیں ان سے کوئی شکوہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ آفرینش عالم طاغوتی طاقتیں اسلام کے خلاف صف آرا رہی ہیں۔ ہر دور ہر زمانے میں وہ نت نئے ہتھیار کے ساتھ قلعۂ اسلام پر حملہ آور ہوئی ہیں۔ بقول شاعر:
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی
لہٰذا جس قوم یا جماعت کی بنیاد ہی اسلام دشمنی پر رکھی گئی ہے اسے اپنی بربادی کے لیے قصوروار ٹھہرانا ایک جذباتی اقدام ہوسکتا ہے لیکن منطقی سطح پر ہمادایہ رویہ مستحسن قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اگر ہم واقعی مسلم لڑکیوں میں پھیل رہے ارتداد اور تباہی کی طرف بڑھ رہے، ان کے قدم سے پریشان ہیں اور اس فتنے کا سدباب کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنی مسلم بہنوں کی اخلاقی تربیت کا سامان کرنا ہوگا۔ ان کے دلوں میں دین کی محبت پیدا کرنی ہوگی۔ اس لیے کہ ہماری نئی نسل کا سب سے بنیادی المیہ یہ ہے کہ اس کا دین سے کوئی تعلق باقی نہیں رہ گیا ہے۔ وہ احکام شریعت سے محض رسمی طور پر وابستہ ہیں۔ ان کی اس حالت کے ذمہ دار وہ نام نہاد روشن خیال والدین ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کواُن بڑے بڑے اسکولوں میں ڈال کر انہیں دینی تعلیم سے بیگانہ کردیا۔ یہ بات محتاج وضاحت نہیں کہ ہمارے یہاں نوے فیصد سے زیادہ اسکولوں کا نظام تعلیم غیر اسلامی ہے، جہاں ہماری قوم کے نونہالوں کو تعلیم دے کر عقیدہ توحید سے دور کردیا جاتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ مخلوط نظام تعلیم کی برکتوں سے ہماری نوجوان نسل بے حیائی کے سمندر میں غوطے لگا رہی ہے۔ اب ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنے شریک حیات کے انتخاب میں شرعی ضابطوں کا احترام کریں گی، احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ چنانچہ اپنی ملی غیرت کو بچانے کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ ہم نسل نو کی اسلامی تربیت کی فکر کریں۔ اس سلسلے میں والدین کا کردار سب سے اہم ہے۔ اسلام نے ماں کی گود کو بچے کی اولین درس گاہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا آج کی مسلم مائوں کا یہ فرض ہے کہ اپنی ذاتی مصروفیتوں سے کچھ وقت نکال کر خود دین سیکھیں، عقیدہ توحید کی عظمتوں کو دل میں اتاریں اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ماتھے کا جھومر بنائیں۔ بعد ازاں اپنے بچوں کو قصے او رکہانیوں کے ذریعہ دین سے قریب کریں۔ انہیں نبیوں کے قصے سنائیں اور انبیا کی سیرت کو بیان کرتے ہوئے توحید کے تقاضوں کو سمجھائیں۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری پیاری سنتوں پر خود بھی عمل کریں اور اپنے بچوں کو بھی اس کی ترغیب دلائیں۔
اپنی بچیوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں حیا کا سبق پڑھائیں اور اس سلسلے میں نازل ہونے والی قرآنی آیات و حدیث رسولؐ کا مفہوم پیارے اور احسن طریقے سے سمجھائیں۔
کفور الحاد کی اس آندھی میں بنت مشرق کے ایمان کے تحفظ کی سب سے بہترین صورت یہی ہے کہ انہیں یہ احساس کرادیا جائے:
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی
یہ واقعہ ہے کہ جب تک قوم مسلم نے اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھا، دنیا کی تمام شیطانی قوتیں مل کر بھی ان کا بال بیکا نہ کرسکیں۔ لیکن جب انہوں نے دین کا دامن چھوڑ دیا اور دنیا کی رنگ رلیوں میں مصروف ہوگئے تو ذلت و مسکنت ان کے اوپر تھوپ دی گئی۔ آج ملک کے مختلف حصوں سے مسلم لڑکیوں کے ارتداد کی جو خبریں آ رہی ہیں اس کا واحد سبب ان کے والدین کا ان کی دینی و اخلاقی تربیت سے مجرمانہ غفلت ہے۔ اگر قوم کی ان بیٹیوں کی نشو و نما دین کے سایۂ رحمت میں ہوئی ہوتی تو انہیں قرآن کا یہ فرمان یاد ہوتا:
’’اے نبیؐ! اپنی بیویوں بیٹیوں اور مومن عورتوں سے فرمادو کہ وہ اپنے اوپر چادریں لٹکا لیا کریں، اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہوجائے گی۔ پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ (احزاب:۵۹)
اور وہ ہرگز بھی اپنی حدود سے آگے نکل کر غیر مسلموں کی جانب دوستی کا ہاتھ نہیں بڑھاتیں اور شرم و حیا کو پامال کرتے ہوئے انہیں اپنا رفیق سفر نہیں بناتیں۔ اس لیے کہ تب ان کے دلوں میں حدیث رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کی قندیل روشن ہوتی جو انہیں شرک کے شر سے نجات عطا کرتی۔ لیکن ہائے افسوس کہ:
وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
آج کے اس مشینی دور میں اطلاعاتی ٹکنالوجی کی ہوش ربا ترقی نے جہاں ایک طرف ہمیں بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں، دوسری جانب شرم و حیا کا جنازہ نکال دیا ہے۔ ملٹی میڈیا موبائل اور اسمارٹ فون کی برکتوں سے اب قوم کی بیٹیاں اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ آج کے روشن خیال والدین کا حال یہ ہے کہ وہ پڑھائی کے نام پر اپنی بچیوں کو موبائل اور لیپ ٹاپ خرید کر دے دیتے ہیں اور اس بات سے بالکل بے نیاز ہوجاتے ہیں کہ وہ بند کمرے کے اندر کس شیطانی عمل میں مصروف ہیں۔ ایک ایسے معاشرہ میں جہاں اسلام مخالف قوتیں ہر پل ہمارے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے میں مصروف ہیں۔ ہمارا اپنی بچیوں کی تربیت سے غافل ہوجانا اپنی بربادی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں ک ہم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے ایمان کا تحفظ اللہ کی رسّی کو مضبوطی کے ساتھ تھامے بغیر نہیں کرسکتے۔ اس لیے کہ موجودہ دور کی یہ مادی ترقی اپنے ساتھ فحاشی و عریانیت کا عذاب بھی لے کر آئی ہے۔ بقول شاعر مشرق ؎
دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
ایمان ہی وہ شئے ہے جو بے حیائی اور ارتداد کے اس طوفان میں ہماری ناخدائی کرسکتا ہے۔ لیکن یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ ہم نے مسلمان بیٹیوں کو ایمان سے قریب کرنے میں کتنی توانائی صرف کی؟ کیا ہم نے کبھی اپنی بیٹیوں کو حجاب کی فرضیت کے بارے میں بتایا؟ کیا انہیں محرم اور غیر محرم رشتوں کی تفصیل بتائی، کیا کبھی ہم نے اس مسئلے پر ان سے سنجیدہ گفتگو کی کہ حیا ایمان کی شاخوں میں سے ایک ہے اور رسول اللہ ﷺ نے حیا کو عورت کا سب سے قیمتی زیور قرار دیا ہے۔
مذکورہ تمام سوالات ہمارے لیے اتنے ہی اہم ہیں جتنا کہ انسانی زندگی کے لیے آکسیجن! لیکن شرم اور افسوس کی بات یہ ہے کہ قوم مسلم کی دینی غیرت ابھی تک بیدا رنہیں ہوئی ہے۔ ایک طرف جہاں مسلم لڑکیاں،جن میںکالج اور یونیورسٹیز میں زیر تعلیم مسلم لڑکیاں بھی شامل ہیں کو مرتد بنانے کی باضابطہ پلاننگ چل رہی ہے اور قوم کا دانشور طبقہ خواب غفلت کی نیند سورہا ہے۔خود تصور کیجئے کانوینٹ اور مشنریز کے اسکولوں سے نکل کر کالج اور یونیورسٹیز کا رخ کرنے والی وہ مسلم لڑکیاں جو اسلام کے بنیادی ارکان تک سے واقف نہیں، جن کی ذہنی و اخلاقی نشو و نما عقیدہ توحید سے ناآشنا غیر اسلامی ماحول میں ہوئی ہے وہ بھلا کیوں کر ارتداد کے اس فتنے سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔ ان کے نزدیک شادی محض اپنی جسمانی ضرورتوں کی تکمیل کا نام ہے۔ جب انہیں ان کے والدین نے یہ بتایا ہی نہیں کہ نکاح محض اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کا نام نہیں بلکہ ایمان کی تکمیل کا نام بھی ہے۔ یہی وہ ادارہ ہے جس سے جنسی بے راہ روی سے پاک ایک صالح معاشرہ کی بنیاد پڑتی ہے۔ ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنی شادی کے لیے کسی مسلم مرد کا انتخاب کریں گی، خود کو فریب دینا ہے۔ فلم اور کھیل سے وابستہ سینکڑوں مسلم لڑکیوں نے پہلے بھی غیر مسلموں سے شادیاں کی ہیں اور انہیں اپنے فیصلے پر کبھی کوئی شرمندگی نہیں ہوئی۔ مخلوط تعلیم اور اسمارٹ فون کی بدولت ارتداد کا یہ فتنہ اب ہمارے گھروں تک پہنچ چکا ہے۔ ان پُر آشوب حالات میں نجات کی صرف ایک صورت ہے۔ ہم اپنی خدا بیزار زندگی سے توبہ کریں اور اپنے بچوں کی اسلامی تربیت کے سلسلے میں غیر معمولی سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ مسلم تنظیموں کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ دخترانِ ملت کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لیے اپنی خانقاہوں سے نکل کر میدان عمل کی جانب پیش قدمی کریں۔ اس سلسلے میںضروی ہے کہ ہم اپنے گھروں میں اسلامی ماحول قائم کریں۔اپنی بیٹیوں سے دوستانہ تعلق قائم کریں اور ان سے شرعی مسائل پر کھل کر باتیں کریں۔ نیز ان کے سامنے اسلام میں عورتوں کے حقوق کو وضاحت کے ساتھ بیان کریں۔اپنی بیٹیوں کو امہات المومنین کے واقعات سنائیں اور ان کے دلوں میں اسلام کی محبت پیدا کریں۔مسلم مائوں کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اسلامی حجاب کا پابند بنائیں۔مسلم لڑکے اور لڑکیوں کو بروقت شادی کی ترغیب دلائیں۔ نئی نسل میں اسلامی احکام سے انحراف کا ایک سبب بروقت شادی کا نہ ہونا بھی ہے۔مخلوط تعلیم گاہوں میں پڑھنے والی لڑکیوں کے ایمان کی حفاظت کے لیے مسلم تنظیموں کو جنوبی ریاستوں کی طرز پر خاتون مبلغین کی ٹیم تیار کرنی چاہیے جو گھر گھر جاکر دعوت و تبلیغ کے فرائض انجام دے سکے اور اسلام کے خلاف ہورہے پروپگنڈوں کا بھی منہ توڑ جواب دیں۔مسلم معاشرہ کے لیے ناسور بن چکے جہیز کی ناجائز رسم کے خلاف علماء کے ذریعہ انقلابی مہم چلانی چاہیے تاکہ ان مسلم لڑکیوں کو مرتد ہونے سے بچایاجاسکے جو غربت و مفلسی کا شکار ہونے کے سبب بے دینی کے راستے پر چل پڑی ہیں۔اخیر میں دعا ہے کہ رب کریم ہمیں دین سے وابستہ ہونے اور اپنے گھروں میں اسلامی ماحول کو قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم مسلم بیٹیوں کی عزت و ناموس کی حفاظت کرسکیں۔
پتہ ۔ دہلی