پونچھ//پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے محمد اقبال بٹ نے پونچھ سے اپنے وطن واپسی پر پونچھ کو محبتوں اور امن و آشتی کی سرزمین سے تعبیر کیا۔ موصوف نے کہا کہ اگرچہ اس دھرتی سے میرا براہِ راست کوئی تعلق نہیں تاہم یہ میرے آبا و اجداد کی جائے پیدائش ہے جہاں آکر اُنہیں روحانی سکون اور قلبی راحت ہوئی ۔ اقبال بھٹ نے بتایا کہ وہ یہاں آباد افراد کا آپسی بھائی چارہ اور ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ میں اُن کی بلا امتیاز رنگ و نسل شرکت دیکھ کر بے حد متاثر ہوئے ہیں۔ بھٹ نے کہا کہ بچپن سے ہی وہ اپنے والد سے پونچھ شہرکی تعریف ،اُن کے دوستوں اور یہاں کے باشندگان کے حُسن و اخلاق کے قصے سُنتے آئے تھے جس نے یہاں آنے کے لئے میرے اندر تجسس پیدا کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ان کے والد آخری دم تک اپنی جائے پیدائش کو دوبارہ دیکھنے کی آس لئے اس دارِ فانی سے چل بسے تاہم اُن کی خواہش کے مطابق آج یہاں آکر مجھے ایسے لگا کہ جیسے وہ روحانی طور پر میری رہنمائی کر رہے ہیں۔ موصوف نے کہا کہ اُنہیں اپنے والد کے پُرانے دوستوں نند سنگھ صراف کے افرادِ کُنبہ سے مِل کر انتہائی مسّرت ہوئی اور اُن کے والد کی جانب سے بیان کی گئی اُس کُنبہ کی تعریف کو ہو بہو اُن کے پوتے میں پاکر وہ حیران ہیں کہ کس طرح نسل در نسل وہ اوصاف مُنتقل ہوتے آئے ہیں۔ دریں اثناء وہ اپنی والد ئہ ِ نسبتی کی محلہ سرائے میں رہنے والی بچپن کی سہیلی ہربنس کور کے بیٹے سے بھی مِلے اور اُن سے گفت و شنید کرکے اُنہیں بہت اچھا لگا۔ علاوہ ازیں وہ پونچھ کے دیگر کئی معززین سے بھی ملاقی ہوئے جن سے محوِ گفتگو ہوکر اُنہں بہت اچھا لگا۔ موصوف نے بتایا کہ والد کی نشاندہی کے مطابق جب وہ اپنے آبائی گھر واقع محلہ گردوارہ سنگھ سبھا پہنچے تو اس وقت وہاں آباد جگدیو سنگھ جی نے اُن کا پُرتپاک خیر مقدم کیا جس سے اُنہیں انتہائی خوشی ہوئی اور اُنہیں نیک دُعائوں دیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ اپنے آبا و اجداد کے قبرستان واقع درگاہ سیّد عبد الغفور کی زیارت کے وقت اُن پر عجیب قسم کی کیفیت طاری تھی اور وہ اپنے بُزرگوں کی روحانی کشش سے بار بار اُس طرف کھِینچے چلے جا رہے تھے ۔ اقبال بھٹ نے بتایا کہ وہ پونچھ کے ڈوگرہ راجائوں کی تعمیرات سے بھی بہت متاثر ہوئے ہیں۔