جموں//پونچھ میں حد متارکہ پر ایک بار پھر ہندوپاک افواج کے درمیان شدید گولہ باری کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں سرحدی علاقوں میں رہائش پزیر آبادی میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ۔پونچھ کے خادی کارمر علاقے میں پاکستانی افواج نے دن کے لگ بھگ 11 بجے گولہ باری کا سلسلہ شروع کیا اورسرحدی چوکیوں کے علاوہ شہری آبادی کو بھی نشانہ بنانے کی غرض سے زوردار گولہ باری کی جس کے نتیجے میں ان علاقوں میں سخت خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ۔ پاکستانی افواج نے اس دوران ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا ۔ تاہم گولہ باری کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ اس دوران دونوں اطراف سے گولہ باری کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز 9 فروری کو بھی پاکستانی گولہ باری کے نتیجے میں 3 فوجی جوان زخمی ہوئے جبکہ اس سے پہلے 8 فروری کو پاکستانی گولہ باری کے نتیجے میں ایک45 خاتون کرشنا گھاٹی سیکٹر میں جاں بحق ہوئی تھی ۔
فوج کی گولیوں سے ہلاک خاتون کا شیر خوار انصاف کا منتظر
ا