جموں// جموں وکشمیر نیشنل پنتھرس پارٹی نے جمعرات کو یہاں ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرنے کے مطالبے کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کر کے مرکزی حکومت کے خلاف زبر دست نعرے بازی کی ۔ جے کے این پی پی کے چیئرمین اور سابق ریاستی وزیر ہرش دیو سنگھ کی قیادت میں پارٹی کارکنوں نے پریس کلب جموں کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ریاستی اسمبلی کو جلد ازجلد تحلیل کرنا کا مطالبہ کیا ۔ احتجاجی کارکنوں کی قیادت کر رہے ہرش دیو سنگھ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ جموں وکشمیر میں چار ماہ قبل حکومت گرگئی تھی لیکن اب تک ریاستی کی معطل اسمبلی کو تحلیل نہیںکیا گیا ،ریاست میں اسے حالات پہلے بھی سامنے آئے ہیں جب تین دنوں میں ریاستی معطل اسمبلی کو تحلیل کر دیا گیا تھا ‘۔انہوں نے بتایا کہ ’جب 2008میں سابق وزیر علیٰ غلام نبی آزاد کی حکومت گری ،7جولائی کو اسمبلی کو معطل کر دیااور 10 جولائی کو تحلیل کر دیا گیا تھا‘۔ انہوں نے بتایا کہ’ ’چار ماہ سے معطل ا سمبلی کوتحلیل کیوں نہیں کیا جا رہاہے یہ کو ئی بتانے کے لئے تیا ر نہیں ہے ،اس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے ، ہم دہلی (مرکزی حکومت ) والوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ کہ پاس کوئی جواب ہے تو بتائے اورایسا ملک میں کہیں اور ہوا ہے تو وہ بھی بتائے ،روززبردستی سے آپ نے اسمبلی ممبران کو سبھی سہولیا ت دینے کے خاطر اسمبلی کو معطل رکھا ہوا ہے‘۔ بقول ان کے اس طرح غیر قانونی طریقے سے اسمبلی کو معطل رکھ کر آئین اور قانون کی دھجیاں اُڑائی جا رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے ریاست میں قانون کے ساتھ مسلسل کھلواڑ ہو تارہاہے اسی وجہ سے ریاست کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر ریاست کی معطل اسمبلی کو جلد از جلد تحلیل نہیں کیا گیا تو نیشنل پینتھرس پارٹی دہلی پارلیمنٹ کے سامنے احتجا جی مظاہر ہ کرے گی ۔