پلوامہ//پلوامہ ضلع میں نوتعمیر کئے گئے اسپتال عمارتوں میں بجلی فراہم نہ کئے جانے کی وجہ سے یہ اسپتال عمارتیں بیکار ُپڑی ہیں اور کروڑوں روپے صرف کرنے کے باوجود لوگوں کو ان کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے ۔ کشمیر عظمی کے پاس دستیاب اعداد شمار کے مطابق ضلع پلوامہ کے چکورہ،پنگلنہ،لاسی پورہ علاقوں میں سرکار کی جانب سے تعمیر کئے گئے ہسپتالوں کا تعمیری کام مکمل ہونے کے باجوود انہیں بجلی سپلائی فراہم نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے شعبہ صحت ان عمارتوں کو حاصل نہیں کر رہا ہے۔ نتیجے کے طور مقامی لوگوں کو علاج معالجے کے لئے طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا 2016میں ان عمارتوں پر کام شروع کیا گیا ہے جن کو آج سے ایک دو سال قبل مکمل کیا گیا ہے تاہم صرف بجلی کنکشن نہ دینے کی وجہ سے عمارتوں کو محکمہ اپنی تحویل میں نہیں لیتا ہے کیوں یہاں بجلی سپلائی نہیں ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے سرکار کی عدم توجہی کے باعث کثیر رقم خرچ کرنے کے باجود انہیں اس کا فائدہ نہیں ملتا ہے جس مقصد کے لئے انہیں تعمیر کیا گیا ہے ۔ادھر ضلع کے پنجگام میں گزشتہ سال ہسپتال کے لئے بیک ٹو ولیج پروگرام میں ایک جنریٹر فراہم کیا گیا ہے تاہم ستم ظریفی ہے کہ جنریٹر کا سٹینڈ بنانے کے لئے کوئی سامنے نہیں آتا ہے جس کی وجہ سے یہ جنریٹر ایک سال سے نصب ہونے کا منتظر ہے جس کی وجہ سے50ہزار روپے ضائع ہونے کا خدشہ ہے ۔اسی طرح جنوبی کشمیر کے رٹھسونہ ترال میں ایم ہسپتال عمارت لاکھوں روپے سے تعمیر کی گئی ہے تاہم تاحال اس عمارت میں بھی بجلی نہیں ہے جس کی وجہ سے شعبہ صحت اس عمارت کو اپنی تحویل میں نہیں لے رہا ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا ہسپتال میں کام کاج شروع نہ کرنے کی وجہ سے اب یہ عمارت خستہ حال ہونے لگی ہے اور لاکھوں روپے سے تعمیر کی گئی ہے عمارت استعمال سے قبل تباہ ہونے لگی ہے ۔ادھر آری پل تحصیل کے واحد ہسپتال میں بھی بجلی نہیں ہے۔ادھر کہلیل ترال میں قائم سب پبلک ہیلتھ سنٹر کا کام آخری مرحلے میں ہے لیکن یہاں بھی بجلی سپلائی نہیں ہے اور نا ہی یہ عمارت محکمے کو سپرد کی گئی ہے جس کی وجہ سے25ہزار نفوس پر مشتمل آبادی کے علاج معالجے کا دار مدار دو کمروں والے ہسپتال پر ہے جبکہ طبی و نیم طبی عملے کے22افراد میں سے کل9ملازمین یہاں تعینات ہے جبکہ باقی عملے کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے ۔اسی طرح بٹنور میں تعمیر شدہ عمارت کو عوام کے نام وقف کیا گیا ہے تاہم یہاںصرف ایک بی یو ایم ایس ڈاکٹر کو تعینات رکھا گیا ہے جو علاقے کی ضروریات پورانہیں کرپارہاہے ۔اس دوران ضلع سٹینڈنگ کمیٹی صحت و تعلیم پلوامہ و ڈی ڈی سی ممبر ترال ڈاکٹر ہر بخش سنگھ نے نمائندے کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا جس مقصد کے لئے ان عمارتوں تعمیر کیا گیا ہے ، صرف بجلی کنکشن نہ ہونے کے وجہ سے کروڑوں روپے کا صرف کرنا عوام کے لئے بے سود ثابت ہوا ہے ۔انہوں نے اس حوالے سے حکام اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران سے مداخلت کی اپیل کی، تاکہ ایک بڑی رقم ضائع ہونے سے بچ جائے گا اور عوام کو بھی فائدہ ملے ۔