سرینگر //جموں و کشمیر میں 3دن تک جاری رہنے والی پلس پولیو مہم کے تحت 19 لاکھ 23ہزار 790بچوں کو پولیو مخالف قطرے پلائے جائیں گے جن میں اتوار پہلے دن 16لاکھ 67ہزار بچوں کو قطرے پلائے گئے۔ جموں صوبے میں مہم کا آغاز فائنانشل کمشنر ہیلتھ اتل ڈلو جبکہ کشمیر صوبے میں ڈویژنل کمشنر کشمیر پی کے پولے نے لل دید اسپتال میں بچوں کو پولیو مخالف قطرے پلا کر کیا ۔ لل دید اسپتال میں انکے ہمراہ پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈاکٹر سامیہ رشید، ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ وروسز کشمیر ڈاکٹر بشیر احمد چالکو، سٹیٹ ایمونائزیشن آفیسر ڈاکٹر قاضی ہارون، اسسٹنٹ ڈائریکٹر فیملی ولیلفئر ڈاکٹر مسرت جبین اور صحت و طبی تعلیم کے دیگر افسران موجود تھے۔ڈی جی فیملی ویلفیئر ڈاکٹر سلیم الرحمان نے تفصیلات دیتے ہوئے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ تین دنوں تک جاری رہنے والی مہم میں 19لاکھ 23ہزار 790افراد کو قطرے پلائے جائیں گے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ مہم کے پہلے دن جموں87فیصد جبکہ کشمیر صوبے میں91فیصدبچوں کو قطرے پلائے گئے جبکہ باقی بچوں کو آنے والے 2دنوں کے دوران گھر گھر جاکر قطرے پلائیں جائیں گے‘‘۔ڈاکٹر سلیم الرحمن نے کہا کہ قطرے پلانے کیلئے پورے جموں و کشمیر میں10ہزار 709پولیو بوتھ قائم کئے گئے ہیں جن میں قطرے پلانے کیلئے 42ہزار 836 ہیلتھ ورکرز، 2ہزار 144 سپروائزر اور 941موبائیل یونٹ قائم کئے گئے ہیں۔‘‘سرکاری بیان کے مطابق سرینگر میں 1لاکھ 67ہزار بچوں کیلئے 660پولیو بوتھ، اننت ناگ ضلع میں ایک لاکھ 46ہزار 152 بچوں کیلئے 650 مرکز،بڈگام میں 107761 بچوں کیلئے 57مرکز، بارہمولہ میں 164000بچوں کیلئے 790، بانڈی پورہ میں 62ہزار بچوں کیلئے 349پولیو بوتھ، گاندربل میں 48ہزار 13بچوں کیلئے 232پولیو بوتھ، پلوامہ میں 92ہزار 836بچوں کیلئے 471پولیو مرکز، کپوارہ میں 130677بچوں کو قطرے پلانے کیلئے 738مرکز، کولگام میں 87ہزار 290بچوں کیلئے 508 بوتھ، شوپیان میں 39ہزار 414بچوں کیلئے 233 بوتھ قائم کئے گئے تھے۔ ادھر جموں صوبے میں بھی اتوار کو پلس پولیو مہم کے تحت بچوں کو قطرے پلائے گئے۔ستواری اسپتال جموں میں مہم کا آغاز محکمہ صحت و طبی تعلیم کے فائنانشل کمشنر اتل ڈلو نے کیا ۔ اتل ڈلو کے ہمراہ نیشنل ہیلتھ میشن کے ڈائریکٹر چودھری محمد یاسین، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جموں رینو شرما کے علاوہ صحت و طبی تعلیم کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے فانانشل کمشنر اتل ڈلو نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اس بیماری کو جڑ سے اکٹھانے کیلئے ہم سب کو ملکر محنت کرنے چاہئے‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہ بیماری ہماری ہمسایہ ممالک میں بھی بھی موجود ہے اور اسلئے ہمیں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔