ہمارے نظامِ تعلیم کے ساتھ کئی سارے المیے منسلک ہیں۔ اِن میں سب سے بڑا المیہ پرائیویٹ اسکولوں میں کام کررہے اساتذہ کے حوالے سے ہے ۔ عمومی طور پر یہ نوجوان ہوتے ہیں اور اعلیٰ سند یافتہ بھی۔ لیکن مختلف مواقع پر مختلف صورتوں میں اِن کا استحصال عام ہوتا جارہا ہے۔ چاہے وہ معمولی تنخواہوں کی صورت میں ہو، مراعات کی نفی ہویا اسی طرح ہڑتال اور لاک ڈائون کے ایام میں تنخواہوں سے محرومی، اِنہیں کسی نہ کسی صورت میں تشدد کا نشانہ بنانا اب ایک رجحان سا بن چکا ہے ۔ حالاںکہ اس میں استثنیٰ بھی ہو سکتا ہے، لیکن عمومی صورتحال یہی ہے کہ اِن اساتذہ کے ساتھ اُس بہو کی مانند برتائو کیا جاتا ہے، جس کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ اسے صبر و برداشت کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ لیکن اس صبر کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اُس بہو کے ساتھ جو قسم قسم کی زیادیاں کی جاتی ہیں اُسے ہمارے سماج میں کسی پر کوئی چوں تک نہیں گذرتی۔
حال ہی میں ناظمِ تعلیمات کشمیر نے ایک سرکیو لربتاریخ 07-08-2020 جاری کرتے ہوئے کہا کہ پرائیویٹ اسکولوں کو کسی بھی حال میں اپنے اساتذہ کی تنخواہیں بند رکھنے کی قطعی طور اجازت نہیں ہے۔ ایسے اسکولوں کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے گی جو کہ اساتذہ کی تنخواہیں بند رکھیں گے، جس میں اُس اسکول کی رجسٹریشن تک کالعدم قرار دی جاسکتی ہے۔ لاک ڈائون کی صورت میں سرکار نے والدین کو پہلے ہی یہ ہدایات دی ہیں کہ بچوں کا ٹیوشن فیس وہ باضابطہ اسکول حکام کے پاس جمع کروائیں ۔ انصاف کی رُو سے بھی یہ بات صحیح ہے کہ بچوں کی خاطر اسکول انتظامیہ نے سیشن کے آغاز میں ہی تدرسی و غیر تدریسی عملے کی بھرتی کی ہوگی۔ اُن کے ساتھ باضابطہ معاہدہ کرکے انہیں تنخواہیں دینے کی ہاں بھی بھر لی ہوگی۔ ایسا سرکار اور والدین دونوں کا گمان ہے۔ اسی بنا پر پرائیویٹ اسکول کے استاتذہ یہ سوال کرتے ہیں کہ جب اسکولوں نے ٹیوشن فیس وصول کیا ہے تو اُنہیں تنخواہیں دینے میں کون سی چیز مانع ہے؟
لیکن اس کے برعکس اساتذہ کو استحصال کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ موجودہ لاک ڈائون کے تناظر میں کہیں پر دو چار ہزار کا ـ’’عطیہ‘‘ انہیں دے دیا گیا،وہیںکہیں انہیں پھوڑی کوڑی بھی نہیںملی۔ ایسے نوجوان سرکار سے سوال کرتے ہیں کہ جب آپ نے اپنے پشتینی ملازمین کو عید کے موقع پر قبل اَز وقت تنخواہیں فراہم کیں تب آپ کو ہماری یاد کیوں نہیں آئی؟عید کو منانے کے حق دار کیا صرف سرکاری ملازمین ہی ہوتے ہیں؟ کیا ہمارے آنگن میں عید کا چاند نظر نہیںآتا؟ کیا ہم آپ کی نگرانی میں نہیں رہتے ہیں؟ کیا ہمارے لیے آپ کے پاس کوئی بھی پالیسی نہیں ہے؟ اسی طرح سے یہ سوال بھی کیا جا سکتا ہے کہ کیا سرکار اتنی بودی ہے کہ وہ اپنی رعایا کے دکھ درد کا مداوا نہیں کر سکتی؟ اگر سما ج بحیثیت مجموئی پرائیویٹ اسکولوں کے استاتذہ کے اوپر ہو رہے استحصال پر رنجیدہ و غم خوار ہے، تو کیوں نہ سرکار کی آنکھیں کھل جاتیں اور کم سے کم ایسی کوئی اسکیم وضع کرتی جسے کہ اُن کے اوپر ہو رہے ظلم کا تناسب کم کیا جاسکے ؟
پچھلے سال کے سیشن کی طرح اِس سال بھی ایسے استاتذہ کو غیر معقول عذرات کی آڑ میں پرائیویٹ اسکول مالکان نے تنخواہوں سے محروم کر دیا ہے۔ ایسا عمومی طور پر اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ ان کے ساتھ پرائیویٹ اسکولوں کا نہ کوئی باضابطہ معاہدہ ہوتا ہے نہ ہی تنخواہوں کو مقرر کرنے کے لیے کوئی اسکیم۔ سرکاری عہدہ دار اگر اس بات کا بھی اعتراف کر دیتے ہیں کہ معمولی تنخواہوں پر پرائیویٹ اسکولوں میںکام کر رہے استاتذہ کی کار کردگی موٹی موٹی تنخواہیں وصول کرنے والے سرکاری استاتذہ کے مقابلے میں حد درجہ لائق تحسین ہے، تو کیوںنہ سرکار اِن کی خاطر آگے آکر ان کے درد کا مداوا کرتی؟
جموں کشمیر کی بات اگر کی جائے تو یہاں پر ایک رپورٹ کے مطابق سات ہزار پرائیویٹ اسکول کام کر رہے ہیں، جن کے اندر تدریسی عملے کی تعداد چالیس ہزار کے قریب ہے، وہیں پچیس ہزار کا غیر تدریسی عملہ بھی کام کررہا ہے۔ کسی ایسے شعبے میں جہاں پر اتنی تعداد میں انسانی وسائل کام کر رہے ہوں ، وہاں پر موجودہ حکومت کے پاس اس شعبے کے متعلق کوئی باضاطہ پالیسی ضرور ہونی چاہیے۔ اسی طرح ایسے شعبے میں مختلف تنازعات اور مسائل کا اٹھنا بھی خارج از امکان نہیں ہے، جس کے لیے ایک ٹریبونل کا قیام بھی عمل میں لانا چاہے۔ لیکن جموں و کشمیر میں ایسی کسی پالیسی کو ابھی تک وضع نہیں کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اتنے بڑے شعبے کے ساتھ حکومت سنجیدہ نہیںہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ انتظامیہ اس مسئلے کی طرف خاص توجہ دے کر پرائیویٹ اسکول مالکان کو باضابطہ قانون کا پابند بنا دے اور غم زدہ اساتذہ کو انصاف دلانے میں اپنا رول نبھائے۔
(مضمون نگار جامعہ کشمیر میں شعبہ سوشل ورک کے محقق ہیں اور ان سے برقی پتہ [email protected]پر رابطہ کیاجاسکتا ہے)