اسلام آباد//بلوچستان کے ضلع صحبت پور سے تعلق رکھنے والے علی اصغر ہانبھی کی لاش کو تدفین کے لیے 12کلومیٹر دور لے جانا پڑا کیونکہ ان کے گھر کے قریب خشک زمین نہ ہونے کی وجہ سے تدفین ممکن نہیں تھی۔ان کے ایک قریبی رشتہ دار نورحسن نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ’18سالہ علی اصغر سم شاخ کے علاقے سے کچھ سامان نکالنے گئے تھے جہاں وہ دو دیگر لڑکوں کے ساتھ سیلابی پانی میں ڈوب گئے۔’دوسرے دو لڑکوں کو پی ڈی ایم اے والوں نے ریسکیو کیا لیکن علی اصغر کو زندہ نہیں نکالا جا سکا بلکہ ان کی لاش برآمد ہوئی۔’نورحسن کا کہنا تھا کہ خشک زمین کی تلاش میں علی اصغر کی لاش کو 12 کلومیٹر دور لے جایا گیا اور وہاں ضلع ڈیرہ بگٹی کے قریب حیردین کے علاقے میں سپرد خاک کیا گیا۔صحبت پور بلوچستان کا وہ علاقہ ہے جس کا حکام کے مطابق اس کا نوے فیصد علاقہ سیلابی پانی میں ڈوب گیا جس کے باعث نہ صرف متعدد اندرونی علاقے ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ہیں بلکہ اس کا دوسرے اضلاع سے بھی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔