اقوام متحدہ+نئی دہلی// اقوام متحدہ میں ہندوستانی کے مستقل نمائندے ٹی ایس تِرومورتی نے کہا ہے کہ پاکستان کو مذاکرت کیلئے مناسب ماحول سازی کے لیے اپنے ملک میں سرگرم دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اور قابل توثیق کاروائی کرنی چاہیے ۔ ہندوستان کے اقوام متحدہ سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی صدارت سنبھالنے کے بعد تِرومورتی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی مسئلہ ہے تو اسے دوطرفہ اور پر امن ڈھنگ سے سلجھایا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا،’’ہمارے پاس شملہ معاہدہ ہے جس میں دو طرفہ مذاکرت اور مسائل کے حل کا التزام ہے اور اس کا حل دہشت گردی، دشمنی اور تشدد سے آزاد ماحول میں ہونا چاہیے ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مناسب ماحول سازی کی ذمہ داری پاکستان کی ہے جس میں ہندوستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کے لیے اپنے کنٹرول والے کسی بھی علاقے کا استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کے یقینی اور قابل توثیق کاروائی کرنا شامل ہے ۔ اسی کے ساتھ پاکستان کو اپنے قول اور اس پر عمل کو مسلسل ثابت کرنا چاہیے ۔ جموں و کشمیرکا خصوصی ریاست کا درجہ چھیننے کے سلسلے میں پاکستانی صحافی کے آن لائن سوال کے جواب میں تِرومورتی نے کہاکہ یہ آئینی تبدیلی تھی اور یہ ہندوستان کی پارٹی کا خصوص حق ہے ۔ انہوں نے کہا،’’یہ آئینی تبدیلی ہے اور پوری طرح سے یہ ملک کی پارلیمنٹ کا خصوصی حق ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ ہماری پارلیمنٹ کے لیے جموں و کشمیر سے متعلق قانون، ضابطے اور قانون پاس کرنا بالکل قانونی ہے ۔‘‘پاکستانی صحافی کے اپنے سوال پر قائم رہنے کے بعد انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا،’’اگر کچھ بدلنے کی بھی ضرورت ہے تو وہ پاک مقبوضہ کشمیر کی آزادی ہے‘‘۔
بھارت تعمیری مذاکرات میں روڑے اٹکارہا ہیں؛پاکستان
اسلام آباد//پاکستان نے بھارت پرالزام عائد کیا ہے کہ وہ ہمسائیگی میں بامعنی اور تعمیری مذاکرات میں روڑے اٹکارہا ہے۔پاکستان کی دفتر خارجہ کے ترجمان زاہدحفیظ چودھری نے یہ تبصرہ بھارتی وزیرخارجہ ایس جے شنکرریڈی کے اُس ٹوئٹ کے بارے میں پوچھے جانے پر کیا جس میںانہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران بھارت کی ترجیحات کاذکر کیاتھا۔جے شنکر نے اپنی ٹوئٹ میں بھارت کی تین ترجیحات،میانہ روی کی آواز،مذاکرات کی وکالت اوربین الاقوامی قانون کی پاسداری بیان کی تھیں۔جے شنکر کے ٹوئٹ پر ردعمل کااظہار کرتے ہوئے پاک دفترخارجہ کے ترجمان چودھری نے کہا،’’دنیا کو میانہ روی کا سبق سکھانے سے پہلے ،بھارت کو پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے‘‘۔انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت اپنی ہمسائیگی میں تعمیری اوربامعنی مذاکرات میں مسلسل روڑے اٹکارہا ہے۔ چودھری نے کہا ،’’5اگست2019سے بھارت کی کارروائیاں اقوام متحدہ چارٹر،اقوام متحدہ سلامتی کونسل قراردادوں اور چوتھے جینواکنونشن سمیت بین الاقوامی قوانین کی صریحاًخلاف ورزیاں ہیں ۔‘‘