مینڈھر//سب ڈیویژن مینڈھر میں پانی کے بحران پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔سنچرکو کئی مقامات پر لوگوں نے گاڑیوں کی آمدروفت کو بند کرکے محکمہ پی ایچ ای اور متعلقہ وزیر کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس دوران مینڈھر پونچھ شاہراہ کو ڈھکی کے مقام پر لوگوں نے گاڑیوں کی آمدروفت کیلئے بند کرکے زور دار احتجاج کیا اور محکمہ پی ایچ ای کے ملازمین کے خلاف نعرے لگائے ۔وہیں دھارگلون میں جموںپونچھ شاہراہ کو لوگوں نے بند کرکے کئی گھنٹوں تک لوگوں نے محکمہ کے خلاف زوردار نعرے بازی کرتے ہوئے اے ای ای مینڈھر کو تبدیل کرنے کی مانگ کی۔ ڈھکی بھیرہ کے عوام کاایک جلوس مینڈھر قصبہ میں بر آمد ہوا جو محکمہ کے خلاف زور دار نعرے بازی کرتا ہوا تحصیل کمپلیکس مینڈھر پہنچا جہاں مظاہرین نے زور دار احتجاج کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی دنوں سے لوگ پانی کی بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں لیکن محکمہ پی ایچ ای کے اعلیٰ افیسران و ملازمین ہاتھوں میں ڈائریاں لے کر گھوم رہے ہیں اورانہیں ٹس سے مس نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر سکیمیں ملازمین کی لا پرواہی کی وجہ سے بند ہو گئی ہیں جبکہ اے ای ای مینڈھر کوئی پرواہ ہی نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت فوری طور کوئی بند وبست کرے ورنہ تحصیل انتظامیہ تحصیل کو خالی کرے تاکہ لوگ یہاں پرٹھہر سکیں یا کوئی مزید بند وبست کیا جائے ۔ان کاکہناہے کہ اگر ایک ہفتہ تک یہی حالت رہی تو لوگ نقل مکانی کرنا شروع کر دیں گے۔مظاہرین نے کہاکہ محکمہ میکنیکل ونگ کے ملازمین پمپنگ سٹیشنوں سے لوگوں کو پانی سپلائی کرنے کے بجائے پانی کو فروخت کررہے ہیںاوراس وجہ سے بھی قلتِ آب کا مسئلہ سنگین ہوتاجارہاہے ۔انہوںنے الزام لگایاکہ ٹریکٹر ٹرالی والے تین سو روپے کے عوض گاڑی پمپنگ سٹیشن سے بھرتے ہیں اور گائوں میں جا کر پندرہ سو روپے سے لے کر چار ہزار روپے تک پانی فروخت کرتے ہیں۔احتجاج کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے لوگوں کو یقین دلایا کہ جہاں پر پانی دستیاب ہے،وہاں لوگوں کو سپلائی کیا جائے گا یا کوئی متبادل بند وبست کیا جائے گا۔تاہم لوگوں نے انتظامیہ کی بھی نہ سنتے ہوئے متعلقہ محکمہ اور وزیر کے خلاف زور دار نعرے بازی کا سلسلہ جاری رکھااورمطالبہ کیا کہ انہیں جھوٹی یقین دہانیاں نہیں بلکہ پانی چاہئے ۔ان کا کہنا تھا کہ محکمہ کی طرف سے لگائی گئی گاڑی صرف آفیسران یا متعلقہ محکمہ کے رشتہ داروں کو پانی سپلائی کررہی ہے اور عام لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر دو دن کے اندر پانی کا کوئی انتظام نہ ہواتو وہ اپنا مال مویشی لے کر سڑکوں پر اتریں گے اور تحصیل کمپلیکس مینڈھر پر دھاوا بول دیںگے ۔بعد ازآں انتظامیہ کی یقین دہانی پر لوگ پرامن طور پر منتشر ہوئے ۔