ماہرین نے مشروب پینےوالا ایک مگ تیار کیا ہے ،جس میں ایک بیٹری نصب ہے جو اسے دستی ائیر کنڈ یشنز بھی بناتی ہے ۔اسے ’’اے سی مگ ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ،جس میں کئی چینل سے سرد ہوا باہر خارج ہوتی ہے اور اطراف کےماحول کی گرمی سات درجے سینٹی گریڈ تک کم کرسکتی ہے۔ اس کے اندر اسٹین لیس اسٹیل لگا ہے جو ہوا کو سرد رکھتے ہوئے باہر پھینکنے میں مدد دیتا ہے۔بٹن دبانے کے چند سیکنڈ بعد ہی اس سے ٹھنڈی ہوا خارج ہونے لگتی ہے جو فوری طور پر ٹھنڈک کا احساس دلاتی ہیں۔
ہوا پھینکنے کی جھری 15 درجے پر خمیدہ ہے جو مقررہ جگہ پر ہوا ڈالتی ہیں۔ اس لیے مگ کو ہاتھ میں لینے کی ضرورت نہیں بلکہ اسے میز پر رکھ کر چہرے کی جانب ہوا کا رخ کیا جاسکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس سے خارج ہونے والی ہوا کی رفتار تین میٹر فی سیکنڈ ہے اور ہوا پھینکنے کے عمل کو تین طرح سے سیٹ کیا جاسکتا ہے۔ جب آپ اے سی مگ کے اندر برف کے ٹکڑے رکھتے ہیںتو فوری طور پر سرد ہوا کا اخراج شروع ہوجاتا ہے۔
اگر آپ گرم مشروب کو کچھ ٹھنڈا کرنا چاہتے ہیں تو مگ یہ کام کرسکتا ہے اور اس میں نصف لیٹر سے زائد مشروب یعنی 600 ملی لیٹر بھرکر رکھا جاسکتا ہے۔ ورزش کرنے یا جاگنگ کرنے کے عمل میں یہ مگ ایک جانب تو آپ کی پیاس بجھاتا ہے تو دوسری جانب آپ کو سرد ہوا بھی فراہم کرتا رہتا ہے۔
2600 ایم اے ایچ بیٹری کی بدولت اے سی مگ 40 منٹ تک ہوا فراہم کرتا رہتا ہے۔ اسے کسی بھی پاوربنک، یا چارجر سے چارج کیا جاسکتا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ ان سب کے باوجود یہ مکمل طور پر واٹر پروف بھی ہے۔ ابھی یہ ابتدائی مراحل میں ہے، فی الحال اس کی قیمت 70 ڈالر رکھی گئی ہے۔
دین اثنادنیا بھر میں پینے کا صاف پانی ایک اہم مسئلہ ہے۔ا س کو حل کرنے کے لیے آسٹن میں قائم یونیو رسٹی آف ٹیکساس کے سائنس دانوں نے ایک ہائیڈروجل ٹیبلٹ بنائی ہے جسے استعمال کرکے ایک گھنٹے میں فی لیٹر پانی صاف کیا جا سکتا ہے ۔ہائیڈروجل بنانے کے لیے توانائی کی ضرورت نہیں پڑتی جب کہ خرچ بھی بہت کم ہوتا ہے۔ تیار ہونے کے بعد اسے برتن میں ڈالنے سے بیکٹیریا اور مضر جراثیم کی بڑی تعداد تلف ہوجاتی ہے۔
گولی پانی میں جاکر ہائیڈروجن پرآکسائیڈ خارج کرتی ہے۔ اس سے کاربنی ذرّات سرگرم ہوکر بیکٹیریا کو مارنے لگتےہیں۔ ماہرین کے مطابق اس عمل میں کوئی مضر شے بطور بائے پراڈکٹس پیدا نہیں ہوتی ،تاہم اس کی آزمائش چھوٹے پیمانے پر ہی کی گئی ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائیڈروجل ٹکیہ کو تجارتی پیمانے پربنانا بہت آسان ہوگا، پھر ان گولیوں کو تمام اشکال اور جسامت میں ڈھالا جاسکتا ہے۔
ماہرین پراُمید ہیں کہ یہ انقلابی ایجاد پوری دنیا میں پینے کے پانی کی قلت دور کرسکتی ہے اور یوں صاف پانی ہر ایک کی رسائی میں آسکتا ہے۔اب سائنسدانوں کی ٹیم نے تجارتی پیمانے پر اس کی تیاری کے کام کا آغاز کردیا ہے۔ مستقبل میں اس سے استفادہ کرکے صاف پانی کے مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔