فردوسِ بریں کہلانی والی وادی کشمیر کے یمین و یسار میں صحت افزا اورپُر فضا مقامات کی بہتات ہے۔ قُدرت کی اس شہکار تخلیق کے مظاہر و مناظرکا لطف اُٹھانے کے لئے قرب و جوارسے لوگ دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ بہتے دریائوں ، سربہ فلک پہاڑوں، سرسبز جنگلوں، سبزہ زاوں، مرغزاروں اور آبشاروں سے لبریز شہرہ آفاق وادی میںخالقِ کائنات نے دِل کو موہ لینے والی بے شما چھوٹی چھوٹی وادیاںتخلیق کی ہیں جن میںایک وادی وادی ٔلولاب سے موسوم ہے۔ شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ میں موجود وادی لولاب سرینگر سے تقریباً ایک سو کلومیٹر کی دوری پر واقع ایک دلکش اور خوبصورت وادی ہے۔ عالمی سطح کے ممتاز عالم ِ دین اور شیخ الحدیث مولانا انور شاہ کشمیریؒوادیٔ لولاب سے ہی تعلق رکھتے تھے۔وادی کشمیر کے بقیہ صحت افزا مقامات کی طرح وادی لولاب بھی اپنے بے مثال حسن و جمال سے منفردو ممتاز ایک وادی ہے۔ چہار سُو سرسبز جنگلات، سربہ فلک پہاڑ،مخملی فرش سے مزّین سبزہ زارو مرغزار، بہتے ندی نالوں کے ساتھ ساتھ لہلہاتے کھیت کھلیان اور وسیع و عریض چٹیل میدان سے لبالب وادی لولاب ایک نشاط آفرین اور فرحت بخش وادی ہے ۔ علامہ اقبالؒ نے بھی لولاب کی خوبصورتی اور یہاں کی زرخیز سرزمین کا اعتراف کرتے ہوئے ایک طویل نظم لکھی ہے مگر افسوس ابھی تک وادی کی مجموعی تعمیر و ترقی کے بڑے دعوئے سراب ثابت ہوئے۔
پانی تیرے چشموں کا تڑپتا ہوا سیماب
مرغانِ سحر تیری فضائوں میں ہیں بیتاب
اے وادی لولاب
وادی لولاب ایک ذرخیز اور مردم خیز وادی ہے جس نے کئی ممتاز علماء، صلحاء، فضلاء اور دانشوروں کو اپنی کوکھ میں پالا ہے۔ ماضی بعید میں وادی لولاب میں سیاحوں کا تانتا بندھا ہوا رہتا تھا اور کئی ایک مقامات پر ڈاک بنگلے بھی تعمیر کئے گئے تھے۔ مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ وادی لولاب کا پورا منظر نامہ بدل کے رہ گیا اور آہستہ آہستہ لولاب کی وادی سیاحتی نقشے سے غائب ہوکے رہ گئی۔ گزشتہ کئی سال پہلے محکمہ سیاحت نے لولاب کی ایک سروے کی اور اس بات کا اعتراف کیا کہ لولاب کشمیر کی ایک خوبصورت وادی ہے جہاں سیاحت کو فروغ دینے کی کافی ضرورت ہے۔ عرصہ گزرگیا اور پھر لولاب کو باضابط طور سیاحتی نقشے پر لانے کا اعلان کیا گیا اور محکمہ سیاحت نے تقریباً آٹھ جگہوں پر شاندار ریسٹ ہاوس تعمیر کرائے اور لوگوں میں ایک اُمید جاگ گئی کہ لاکھوں نفوس پر مشتمل وادی لولاب میں اب سیاحت کے شعبے کو فروغ ملے گا۔ کروڈوں روپئے لاگت سے تعمیر کئے گئے خوبصورت ریسٹ ہاوس ابھی تک مہمانوں کے انتظار میں ہیں اور اس انتظار میں چند ریسٹ ہاوس خستہ ہال بھی ہوئے اور کچھ عمارات کھنڈرات میں تبدیل کی ہوچکی ہیںاور کوئی پُرسانِ حال نہیں۔ بیسیوں بار انتظامیہ کو آگاہ کیا مگر کسی کی جوں تک نہ رینگی۔ چنانچہ کروڑوں روپئے لاگت سے بنائی گئی ان عمارات کو خُدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور سنسان عمارتوں کے ویران چمن بزبانِ حال چلا چلا کے کہہ رہے ہیں ۔
ویران گُلستاں ہونے کو بس ایک ہی اُلو کافی تھا
ہر شاخ پہ اُلّو بیٹھا ہے انجامِ گُلستا ں کیا ہوگا
آخر ان ریسٹ ہاوسوں کو بنانے کا کیا فایدہ جو گزشتہ دس سال سے مقّفل ہیں ۔ ماہرین ِ سیاحت کا اعتراف ہے کہ اگر متعلقہ محکمہ نے وادی لولاب کو عملی میدان میں سیاحتی نقشے پر لانے کی بھر پور کوشش کی ہوتی تو آج گُلمرگ، سونہ مرگ اور پہلگام کی طرح لولاب میں بھی سیاحتی سرگرمیاں دیکھنے کو مل جاتی لیکن ایسا ابھی تک نہ ہوسکا۔ آخر سرکاری خزانوں کو لوٹنے کا سلسلہ کب تھمنے کا نام لے گا ۔ خُمریال لولاب سے دیور لولاب تک بیسوں ایسے خوبصورت اور صحت افزا مقامات موجود ہیں جو بے پناہ قُدرتی حسن و جمال سے مالا مال ہیں۔ کلاروس ، ستہ برن، ورنو، دیور، ڈورس، چنڈی گام، کھرہامہ اور کروسن کے منتخب کردہ حسین و جمیل مقامات پر تقریباً پچاس کروڈ روپے لاگت سے بنائے گئے ٹورسٹ ہٹ بربادی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں اور متعلقہ محکمہ ٹس سے مس نہیں ہورہا ہے۔ گزشتہ کئی سال پہلے اقتدار کی مسند پر براجماں لوگوں نے لولاب بانڈی پورہ بائی پاس نکالنے کی یقین دہانی کرائی اور سینکڑوں سرسبز درختوں کو کاٹنے کا عمل بھی شروع کیا گیا لیکن یہ دعوے بھی صرف سراب ثابت ہوئے۔ یوں موجودہ ترقی یافتہ دور میں بھی لولاب کے لوگوں کو بانڈی پورہ جانے کے لئے تین گاڑیوں کا استعمال کرتے ہوئے گھنٹوں سفر کرنا پڑتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ لولاب بانڈی پورہ بائی پاس صرف ایک گھنٹے کا سفر ہے اور دواضلاع کو ملانی والی ٹنل ابھی تک پوری نہیں ہوئی۔
تعلیمی منظر نامے کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ لاکھوں نفوس پر مشتمل اس وادی میں ایک ڈگری کالج قایم ہے جہاں ہزاروں طلباء زیر تعلیم رہتے ہیںلیکن کالج میں چند مخصوص مضامین ہی پڑھائے جاتے ہیں جسکی وجہ سے سینکڑوں طلباء باہر جانے کے لئے مجبور ہوجاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے وادی لولاب کی قریباً سات ہایر سکینڈریوں میں پرنسپل صاحبان کی کُرسیاں خالی پڑی ہیں اور گزشتہ کچھ سال قبل تعمیر کئے گئے ایک ITI کی حالت بھی ناگفتہ بن چکی ہے۔ وادی کے کوہ ودمن اور کھلکھلاتے چمن بھی انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت شعاری پراشکبار ہیں۔
صحت عامہ کا حال بھی برا ہے ۔ حیران کرنی والی بات یہ ہے کہ گزشتہ تین سال سے ہسپتال میں یو ایس جی مشین کمرے میں دھول چاٹ رہی ہے اور عام مریضوں کو لاک ڈاون کے ان ایام میں بھی اپنی معصومیت کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔ ہسپتالوں سے لے کر سبھی این ٹی پی ایچ سی سنٹرس میں بد نظمی کا ڈنکا بج رہا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ محکمہ انیمل ہسبنڈری کی کار کردگی بھی غیر تسلی بخش ہے اور پوری وادی میں صرف دو ڈاکٹر تعینات ہیں۔ ابھی چند سال پہلے لولاب بائی پاس نکالا گیا جو تنگدامن بھی ہے اور پُر خطر بھی لیکن یہ شاہراہ بھی کوڑے دان میں تبدیل کی جارہی ہے۔ گزشتہ دو روز قبل لولاب کے مختلف مقامات میں چند ریچھ گھومتے ہوئے دیکھے گئے ۔با لآخر لوگوں نے انہیں گھیر لیا اور محکمہ وائلڈ لایف کو بلایا لیکن متعلقہ محکمہ کے ملازمین کا کہنا ہے کہ بارہ مولہ سے کپوارہ تک محکمہ کے پاس صرف ایک گاڑی ہے جو جنگلی جانوروں کو لانے لیجانے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔
ان چند سطور میں وادی لولاب کی ابتر صورت حال کا ایک اجمالی نقشہ کھینچا گیا لیکن حقیقت میں حالا ت بدسے بھی بدتر ہیں۔ آخر ایسا کیوں؟۔ کیوں ایک صحت افزا وادی کو دانستہ طور نظرانداز کیا جارہا ہے۔ آخر کیوں کروڑوں روپے لاگت سے بنائی گئی عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل ہوتی جارہی ہیں۔ آخر تعلیمی اداروں میں پرنسپل صاحبان کی کرسیاں کیوں خالی پڑی ہیں؟ ایسے بہت سارے سوالات ہیں جن پر قلم اُٹھانا جائز بن جا تا ہے۔ وادی لولاب میں کیوںکر بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ سال بھر جاری رہتا ہے، پاپینے کے پانی قلت رہتی ہے، کھیت کھلیان کی سینچائی کا آبپاشی نظم مفلوج ہے اور عام سڑکیں گڑھوں میں تبدیل ہوچکی ہیں۔
آخر محدث ِ عصر علامہ انور شاہ کشمیری کی ابتدائی رہایش کو حالات کے رحم وکرم پرابھی تک کیوں چھوڑا گیا۔ ضرورت یہ ہے کہ جموں و کشمیر یوٹی انتظامیہ اور ضلع انتظامیہ وادی لولاب کو ترقی کی راہ پر گامزن کرانے کے لئے ایک نئی حکمت ِ عملی ترتیب دے اور ترجیحی بنیادوں پر عوامی مسائل کو حل کرانے کی کوشش کریں۔
فون نمبر۔ 9622669755