نیوز ڈیسک
جموں//ڈیموکریٹک آزاد پارٹی (ڈی اے پی) کے چیئر مین غلام نبی آزاد کا کہنا ہے کہ جن لیڈروں نے ہماری پارٹی کو چھوڑا ہے وہ پارٹی کے لئے کو دھچکا نہیں ہے کیونکہ ان تینوں لیڈروں کی کوئی انتخابی نشستیں ہی نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب بھی یہاں کوئی ہندو مارا جاتا ہے تو اس سے ملک کے باقی حصوں میں زیر تعلیم کشمیر کے لاکھوں طالب علموں کے لئے آفت پیدا ہوجاتی ہے۔موصوف چیئرمین نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کو نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔انہوں نے کہا’’جو لوگ پارٹی سے چلے گئے ان سے پارٹی کو کوئی دھچکا نہیں لگے گا کیونکہ جب سر نو اسمبلی نسشتوں کی حد بندی ہوئی تو ان تینوں کی لیڈروں کی اسمبلی نشستیں چلی گئیں‘‘۔ان کا کہنا تھا’’میں نے ان کو عہدے اور عزت دی تھی،اس لئے کہ یہ لوگ الیکشن لڑ نہیں سکتے تھے لیکن ان کو وہ ہضم نہیں ہوا‘‘۔راجوری حملے کے بارے میں پوچھے جانے پ آزاد نے کہا کہ وادی میں گذشتہ پچیس برسوں سے ہندو، سکھ برادری کے لوگوں کا ہی قتل عام نہیں ہوا بلکہ ہزاروں کی تعداد میں مسلمان بھی مارے گئے۔
انہوں نے کہا’ ’یہاں جو اکا دکا پنڈت ملازم تھا اس کو بھی مارا جاتا تھا یہ پاکستان کی پالیسی رہی ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا’’مارنے والوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ یہاں ہمارے کسی بھی غیر مسلم کو مارنے کا سب سے زیادہ نقصان کشمیریوں کو اٹھانا پڑتا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ لاکھوں کی تعداد میں ہمارے بچے بچیاں ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں پڑھتے ہیں ان پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ اس سے قبل کانگریس کے ایک ممتاز لیڈر ڈاکٹر آصف کھانڈے نے سینکڑوں کارکنوں کے ساتھ غلام نبی آزاد کی زیرقیادت ڈیموکریٹک آزاد پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔اس موقع پر آزاد نے کہا کہ کھانڈے کی شمولیت سے پارٹی میں نیا خون بھر جائے گا اور اس کے کیڈر کو متحرک کیا جائے گا۔آزاد نے کہا کہ “ہم مل کر ترقی کے اس مارچ کو آگے بڑھائیں گے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان کی پارٹی انتخابات کے بعد اقتدار میں آتی ہے تو رام بن ضلع کے بقیہ ترقیاتی منصوبوں کو ٹرپل شفٹوں میں مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جب میں سابق ریاست جموں و کشمیر کا وزیر اعلیٰ تھا تو میں نے اس رام بن ضلع خاص طور پر بانہال کو تمام ضروری ترقیاتی منصوبوں کو یقینی بنایا تھا۔ہم نے ہسپتالوں، سکولوں، سڑکوں، کالجوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو منظوری دینے کے بعد عملدرآمد کے کاموں کو تیز کیا۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ انتخابات کے بعد دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد یہ ضلع معاشی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گا ۔تاہم آزاد بانہال کے لوگوں کا ردعمل دیکھ کر بہت پرجوش تھے جنہوں نے ان سے ضلع میں ایک بڑی سیاسی ریلی منعقد کرنے کی اپیل کی تھی۔آزاد نے انہیں یقین دلایا کہ جلد ہی وہ سیاسی ریلی منعقد کرنے کے لئے رام بن ضلع آئیں گے ۔