ماسکو//روسی حکام نے ماسکو پر عائد پابندیاں ختم کیے جانے تک یورپ گیس کی معطل رکھنے کا عندیہ دے دیا۔یورپ کو گیس کی سپلائی بند رکھنے کا بیان روس کے صدارتی محل سے جاری ہوا جس میں ترجمان کریملن نے کہا کہ نارڈ اسٹریم ون گیس پائپ لائن کی بندش کی واحد وجہ ماسکو پر عائد کی یورپی پابندیاں ہیں۔واضح رہے کہ روس نے ابتداء میں کہا تھا کہ نارڈ اسٹریم پائپ لائن کو مرمتی کام کی وجہ سے بند کیا جارہا ہے، بعدازاں کریملن نے بیان جاری کیا کہ روس اور روسی کمپنیوں پر یورپی پابندیاں گیس کی بندش کا باعث ہیں۔خیال رہے کہ نارڈ اسٹریم پائپ لائن روس سے مغربی یورپ کو گیس فراہم کرنے والی سب سے بڑی گیس پائپ لائن ہے جو 2011 سے کام کررہی ہے۔دوسری جانب امریکی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یورپ کو اتنی گیس میسر ہے کہ وہ سردیاں گزار سکتے ہیں اور روس پر الزام عائد کیا ہے کہ روس توانائی کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے۔درایں اثناء توانائی بحران کے بعد یورپی ممالک میں گیس و پٹرولیم کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے،رپورٹ کے مطابق پیر تک توانائی کی قیمتیں 30 فیصد تک بڑھ گئی تھی جس نے یورپی ممالک کو روسی گیس کا متبادل تلاش کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ادھرفرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جرمن چانسلر اولاف شولز کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے بعد پریس بریفنگ میں کہا کہ فرانس جرمنی کو مزید گیس دینے کے لیے تیار ہے اور اگر سردیوں میں توانائی کا بحران برقرار رہا تو وہ فرانس کو مزید بجلی کی پیش کش کرے گا۔ فرانس نے کہا ہے کہ ان کا ملک جرمنی کے ساتھ توانائی کے بحران سے نمٹنے میں آئندہ موسم سرما تک ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پیر کو جرمن چانسلر اولاف شولز کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے بعد پریس بریفنگ میں کہا کہ فرانس جرمنی کو مزید گیس دینے کے لیے تیار ہے اور اگر سردیوں میں توانائی کا بحران برقرار رہا تو وہ فرانس کو مزید بجلی کی پیش کش کرے گا۔مسٹر میکرون نے کہا ’’ہم گیس کنکشن کو حتمی شکل دینے جا رہے ہیں تاکہ جرمنی کو گیس فراہم کر سکیں۔ ہم انتہائی سخت حالات میں مزید بجلی پیدا کرنے کے لیے تیار رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سستی قیمت پر گیس خریدنے کے حق میں ہیں۔: ‘دنیا نے اس سے بڑا توانائی کا بحران کبھی نہیں دیکھا’تاہم انہوں نے کہا کہ فرانس اور اسپین کو ملانے والی گیس پائپ لائن کی ’’کوئی ضرورت نہیں‘‘ ہے۔