ملک منظور
انسان اپنی عقل سلیم، ذہانت، عظیم ادراک، طاقتور عقل، پیار بھرا رویہ، سماجی بندھن، جذباتی لگائووغیرہ کی وجہ سے تمام مخلوقات کا بادشاہ ہے۔ خدا نے انسان کو انوکھی صلاحیتوں اور خودمختاری سے نوازا ہے ۔زندگی کی بہتری کے لیے تفکر کرنے، دریافت کرنے اور ایجاد کرنے کی صلاحیتیں اسے احسن التقویم بناتی ہے۔خدا نے انسانوں کو لاوارث یا بے یارومددگار نہیں چھوڑا ۔ خداوند عالم نے علم وحکمت فرشتوں کے زریعے صحیفوں اور دوسری الہامی کتابوں کے صورت میں نازل فرمائی تاکہ انسان اس پر غور کریں اور اصول حیات اخذ کریں یا عمل کرنے کے لئے قواعد تشکیل دیں۔
انسانوں پر الٰہی علم کے نزول کو سمجھنے اور تبلیغ کرنے کے لیے ایک مکمل اور جامع دماغ کی ضرورت تھی۔ یہ عظیم کام انبیاء کو خدا کی گہری نگرانی میں دیا گیا۔ انبیاء کو عظیم اساتذہ کے طور پر جانا جاتا ہے جنہوں نے لوگوں کو زندگی کا بنیادی مقصد یا ہدف سکھایا۔ اس طرح زندگی کا طویل سفر ایک ایسے استاد سے شروع ہوا جس نے سب سے پہلے قدرتی مناظرکو دیکھا اور ان کا جائزہ لیا اور بعد میں انہیں لوگوں تک پہنچایا۔اس طرح کائنات میں اساتذہ کا ایک دانشور طبقہ پیدا ہوا۔
استاد کوئی عام آدمی نہیں ہے اور پڑھانا محض ایک پیشہ نہیں ہے۔تعلیم اور تحقیق ایک خدائی کام ہے جو ماہر اور ذہین لوگوں کو سونپا جاتا ہے۔اس لیے اساتذہ روشنی کا سرچشمہ ہیں جو نسلوں کی رہنمائی حکمت سے کرتے ہیں۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اساتذہ قوم کے معمار ہوتے ہیں۔ وہ پڑھے لکھے، باشعور، پرہیزگار،تیز فہم ،زیرک،دانشمند اور باوقار اسکالر ہیں جو نوجوان نسلوں کی رہنمائی، حوصلہ افزائی، تربیت، زہن سازی،بیداری اور آگاہی پیدا کرتے ہیں۔اساتذہ طلباء کے ذہنوں میں رنگ بھرتے ہیں، ان کے خیالات کی رہنمائی کرتے ہیں، ان کی کامیابیوں کو بانٹتے ہیں، اور ان کی خامیوں کو دور کرتے ہیں۔ اساتذہ واحد لوگ ہیں جو دوسرے لوگوں کے بچوں پر نیند کھو دیتے ہیں۔ اساتذہ اس آگ کو بھڑکاتے ہیں جو طالب علم کی علم، تجسس اور حکمت کی پیاس کو ہوا دیتی ہے۔ وہ ایک شمع کی مانند ہیں جو دوسروں کی راہ روشن کرنے کے لیے خود کو جلاتی ہے۔تخلیقی اظہار اور علمی رغبت پیدا کرنا استاد کا اعلیٰ ترین فن ہے۔ اساتذہ عظیم بصیرت والے لوگ ہیں جو ایک معصوم کا ہاتھ تھامتے ہیں، دماغ کی صلاحیتوں کو فروغ دیتے ہیں اور دل کو ایک عظیم دانشگاہ بناتے ہیں۔ وہ قوموں کے مستقبل کو تابناک بناتے ہیں اور ان کی منزل کو سنوارتے ہیں۔ وہ علم اور کھوج کی محبت کوترغیب دیتے ہیں کیونکہ وہ اس راستے کو روشن کرتے ہیں جو ہمارے نوجوانوں کی رہنمائی کرتا ہے، ان کے مستقبل کو روشن کرتا ہے، ان کی مسکراہٹ کو دوام بخشتا ہے، اورمنزل مقصود تک پہنچنے میں مدد کرتا ہے۔
ہر شاعر، فلسفی، سائنس دان، ڈاکٹر، انجینئر، مفکر، لیڈر وغیرہ کی دانشمندی ایک استاد سے شروع ہوتی ہے۔ یہ ایک استاد کا کردار ہے کہ کسی بھی قوم کی خوشحالی اور فلاح ممکن ہوتی ہے۔بچوں کی زندگی سنوارنے میں مدد کے لیے بہت بڑا دل لگتا ہے۔ جو لوگ سکھانے سے زیادہ سیکھتے ہیں وہ سب سے بہترین استاد ہیں۔کیا یہ ممکن ہے کہ ٹیکنالوجی اساتذہ کی جگہ لے ۔نہیں، ٹیکنالوجی عظیم اساتذہ کی جگہ نہیں لے سکے گی لیکن عظیم اساتذہ کے ہاتھ میں ٹیکنالوجی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔آج کل، پڑھانے اور سیکھنے کا عمل زیادہ پیچیدہ اور چیلنجنگ بن گیا ہے۔ طلبہ میں نافرمانی، جھگڑے، برداشت کی سطح بڑھ رہی ہے جبکہ ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ، ٹی وی سیریز، تشدد دکھانے والی فلموں جیسے علم کے بے شمار ذرائع کی دستیابی کی وجہ سے طلبہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔ جیسے جیسے تعلیم ٹیکنالوجی کے رنگوں میں رنگتی جارہی ہے، یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ جدید اساتذہ کو روایتی اساتذہ سے بہت مختلف ہونا چاہیے۔
آج تعلیم کے طریقہ کار اور معیار میں بہت تبدیلی آچکی ہے۔ وہ تکنیک جن سے ہم کبھی واقف نہیں تھے۔ اب ہماری نئی نسل میں پنپ رہی ہے۔ روایتی تدریسی طریقوں کو مزید استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال لازمی ہو گیا ہے۔ تعلیم اب صرف پڑھنے لکھنے تک محدود نہیں رہی۔ اب اس کی مانگ بدل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں روایتی تعلیمی طریقوں کے مقابلے ٹیکنالوجی کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ آج مارکیٹ میں مختلف تعلیمی ایپس موجود ہیںجن کے استعمال سے تدریس کو موثر بنایا جا سکتا ہے اورآن لائن کلاسز کا انعقاد کیا جا سکتا ہے اور موجودہ حالات میں یہ ایپس بہت زیادہ استعمال ہو رہی ہیں۔ اس لیے اکیسویں صدی کے فعال اور متحرک طلباء کے لیے اساتذہ کو ٹیکنالوجی کا ماہر ہونا چاہیے۔ استاد ہر قوم کے مستقبل کو سنوارنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔اس لئے اساتذہ سے محبت کریں، ان کا احترام کریں، ان کی تحسین کریں، اور ان کے احسان مند رہیں۔
[email protected]
! ٹیکنالوجی اُستادکا متبادل نہیں معاون ضرورہے