عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر// ہر سال بہار کے موسم میں ٹیولپ گارڈن (چشمہ شاہی) میں سیاحوں کی بڑی تعداد امڈ آتی ہے، جس سے سیاحت اور مقامی معیشت کو فروغ ملتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی بلیوارڈ روڈ پر شدید ٹریفک جام کا مسئلہ بھی سنگین صورت اختیار کر لیتا ہے، جو شہریوں اور مسافروں کے لیے روزمرہ کی مشکل بن چکا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ ہر سال پیش آتا ہے، خاص طور پر صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک رش کے اوقات میں۔ اس کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے زیادہ تر عارضی اقدامات جیسے ٹریفک ڈائیورشن اور دستی نگرانی پر انحصار کیا جا رہا ہے، جبکہ مستقل حل پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔اعداد و شمار پر مبنی ایک سروے کے مطابق رش کے اوقات میں روزانہ تقریباً ایک لاکھ گاڑیاں اس سڑک سے گزرتی ہیں۔
اگر ہر گاڑی میں اوسطاً پانچ افراد سوار ہوں اور ایک گھنٹہ اضافی تاخیر ہو، تو روزانہ تقریباً پانچ لاکھ انسانی گھنٹوں کا نقصان ہوتا ہے۔ ایک ماہ کے ٹیولپ سیزن میں یہ نقصان بڑھ کر تقریباً ڈیڑھ کروڑ انسانی گھنٹے ہو جاتا ہے۔معاشی لحاظ سے بھی نقصان تشویشناک ہے۔ اگر فی گھنٹہ 100 روپے کی اوسط قدر لگائی جائے تو یومیہ پیداواری نقصان تقریباً 5 کروڑ روپے بنتا ہے، جو ایک ماہ میں 150 کروڑ روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ روزانہ تقریباً 80 ہزار لیٹر ایندھن ضائع ہونے سے ایک ماہ میں 24 کروڑ روپے کا اضافی نقصان ہوتا ہے۔ اس طرح مجموعی معاشی بوجھ تقریباً 174 کروڑ روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کی بنیادی وجہ ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور سڑک کی محدود گنجائش کے درمیان عدم توازن ہے۔ سیاحت، گاڑیوں کی تعداد اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، مگر سڑک کی چوڑائی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔
مقامی آبادی بھی اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے، جہاں روزانہ سفر کا وقت بڑھنے، ذہنی دباؤ میں اضافے اور ایندھن کے زیادہ استعمال جیسے مسائل کا سامنا ہے، جو ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ کر رہے ہیں۔ماہرین نے زور دیا ہے کہ اس دیرینہ اور متوقع مسئلے کے حل کے لیے ٹھوس اور شواہد پر مبنی پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق جہاں ممکن ہو بلیوارڈ روڈ کی توسیع کو ترجیح دی جائے، ساتھ ہی پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے اور ٹریفک مینجمنٹ کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ وقتی اقدامات کے بجائے طویل مدتی اور پائیدار حکمت عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ اس اہم شاہراہ کی توسیع نہ صرف شہری سہولت بلکہ متوازن ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہو چکی ہے۔