گول//سب ڈویژن گول میں سڑکوں پر غیر معیاری میٹیریل کااستعمال معمول بن چکاہے۔ جہاں بولڈر دس ہزار سے زائد گاڑی ملتی ہے وہیں ٹنل سے نکلنے والی مک مفت میں مل جاتی ہے اسی طرح سے کچھ ایسی بھی تعمیر ہیں جہاں نریگا کام سے بھی بد تر ہیں ۔ اسی طرح کی تعمیر ٹھٹھارکہ سنگلدان روڈ پر کئی ایک مقامات پر کی جاتی ہے جہاں کلورٹ نریگا کام سے بھی بد تر بنے ہیں ۔ پی ایم جی ایس وائی ٹھٹھارکہ روڈ سرنڈا کے مقام پر محکمہ نے کئی مرتبہ یہاں کلورٹ بنائے لیکن بار بار اسی کلورٹ پر بلیں نکالی جا رہی ہیں کیونکہ اس پر ایک بیگ سیمنٹ تک نہیں لگاتے ہیں جس وجہ سے یہ خشک ڈنگا دنوں میں ڈھہ جاتا ہے ۔ کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے مقامی لوگوں نے کہا کہ یہ روڈ محکمہ پی ایم جی ایس وائی اور ٹھیکیداروں کے لئے سونے کی کان بنی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ روڈ اتنا تنگ ہے کہ ایک بڑی گاڑی بھی آسانی سے یہاںسے نہیں گزر پا رہی ہے ۔ انہوں نے مقامی انتظامیہ پر بھی الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کے سامنے یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور وہ اس غیر معیاری کام کو روکنے میں کیوں ناکام ہیں ۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس طرح کے غیر معیاری کاموں کی زمینی سطح پر تحقیقات ہونی چاہئے اور اس طرح خزانہ عامرہ کو لوٹنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔