عظمیٰ نیوزسروس
جموں//مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے تین روزہ دور جموں و کشمیر کے پیش نظر پوری یونین ٹیریٹری میں سیکیورٹی کو غیر معمولی حد تک سخت کر دیا گیا ہے۔ سرینگر، جموں، بارہمولہ، اننت ناگ، پلوامہ، اْدھم پور اور کشتواڑ سمیت حساس اضلاع میں ہائی الرٹ نافذ کرتے ہوئے پولیس، فوج، سی آر پی ایف اور دیگر نیم فوجی دستوں کو مکمل چوکسی کی ہدایت دی گئی ہے۔ وزیر داخلہ کی آمد سے قبل ہی حساس علاقوں میں ناکہ بندیوں کا جال بچھا دیا گیا ہے، جہاں گاڑیوں اور افراد کی سخت جانچ کی جا رہی ہے۔ اہم شاہراہوں، رابطہ سڑکوں، ہوٹلوں، سرکاری عمارتوں، ہوائی اڈوں اور وی آئی پی روٹس پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، جبکہ آنے جانے والے افراد پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ خطرات کے پیش نظر شہر اور دیہی علاقوں میں تلاشی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ رات کے اوقات میں بھی تلاشیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے دوران مشتبہ گھروں، جنگلاتی علاقوں اور حساس بستیوں میں خصوصی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ سرحدی علاقوں، لائن آف کنٹرول اور انٹرنیشنل بارڈر پر بھی نگرانی میں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ ڈرون کے ذریعے فضائی نگرانی کا عمل تیز کیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیر داخلہ کے قافلے کے راستوں کو سیل کر کے جدید سیکیورٹی آلات، سی سی ٹی وی کیمروں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کے ذریعے لمحہ بہ لمحہ مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بم ڈسپوزل سکواڈ، ڈاگ سکواڈ اور کوئیک رسپانس ٹیموں کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے۔ کولگام میں قومی شاہراہ کے گر نواح مین بھی تلاشیاں لی گئی اور سیکورٹی کو الرٹ کیا گیا ہے ۔