نئی دہلی// ملک بھر میں ان دنوں کورونا وائرس وبا کو شکست دینے کیلئے ویکسین لگائی جارہی ہے۔ اس درمیان سرکاری ڈیٹا کے حوالے سے ملی جانکاری کے مطابق ویکسین لگنے کے بعد ملک بھر میں اب تک 488 افراد کی موت ہوگئی ہے جبکہ اس دوران 26 ہزار سے زائد لوگوں میں سنگین سائیڈ افیکٹ کی شکایتیں ملی ہیں۔ اس طرح کے اعداد و شمار ہر ملک میں جمع کئے جاتے ہیں۔ تاکہ ویکسین سے ہونے والے سائیڈ افیکٹ کو مستقبل میں کم کیا جاسکے۔ یہ اعداد و شمار 16 جنوری سے سے لے کر 7 جون تک کے ہیں۔ اعداد و شمار پر غور کیا جائے تو موت کی تعداد کافی کم ہے۔ ملک بھر میں سات جون تک 23 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین لگائی جاچکی ہے۔ اس دوران 26200 اے ای ایف آئی کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ یعنی اگر فیصد میں دیکھا جائے تو یہ 0.01 فیصدی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے موت کی تعداد اور اے ای ایف آئی کے معاملات دونوں کافی کم ہیں۔ ایسے میں ماہرین ویکسین لگانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اے ای ایف آئی کے کل معاملات میں سے تقریبا دو فیصدی اموات ہوئی ہیں۔ مرنے والوں میں کل 301 مرد اور 178 خواتین شامل تھیں۔ اس ڈیٹا میں دیگر نو لوگوں کے جنس کا ذکر نہیں ہے۔ خیال رہے کہ ملک میں کووی شیلڈ کی 21 کروڑ ڈوز لگائی گئی ہیں جبکہ کوویکسین کی اب تک صرف ڈھائی کروڑ ویکسین ہی لگائی گئی ہیں۔ یعنی فیصد کے حساب سے دیکھیں تو یہ تعداد کافی کم ہے۔