یو این آئی
نئی دہلی// سپریم کورٹ نے مرکزی وزارتِ داخلہ کی جانب سے سرکاری تقاریب میں قومی گیت “وندے ماترم” گانے سے متعلق جاری سرکلر کے خلاف دائر عرضی پر سماعت سے انکار کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ ہدایت لازمی نہیں بلکہ محض ایک مشاورتی (ایڈوائزری) ہے، اس لیے درخواست گزار کے خدشات محض “غیر واضح اندیشے” ہیں۔چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم بنچ، جس میں جسٹس جویملیا باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی شامل تھے، نے کہا کہ درخواست قبل از وقت ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر کسی فرد کے خلاف اس ہدایت پر عمل نہ کرنے کی بنیاد پر کوئی کارروائی ہوتی ہے تو وہ عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔درخواست گزار محمد سعید نوری کی جانب سے سینئر وکیل سنجے ہیگڑے نے مؤقف اختیار کیا کہ حب الوطنی کو زبردستی نافذ نہیں کیا جا سکتا اور بعض افراد کے لیے مذہبی یا شخصی بنیادوں پر ایسے اقدامات میں شرکت مشکل ہو سکتی ہے۔
اس پر عدالت نے سوال اٹھایا کہ “کیا قومی ترانے کے معاملے میں بھی یہی اصول لاگو ہوگا؟”سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ قومی گیت کے احترام کے لیے کسی ہدایت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ جسٹس باگچی نے واضح کیا کہ حکومتی ہدایت میں “میے” (may) کا لفظ استعمال ہوا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ لازمی نہیں بلکہ اختیاری ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ کسی بھی لازمی حکم کے ساتھ قانونی سزا یا پابندی جڑی ہوتی ہے، جبکہ اس معاملے میں ایسا کوئی پہلو موجود نہیں۔ لہٰذا یہ ہدایت شہریوں کے بنیادی حقوق سے متصادم نہیں ہے۔