کشتواڑ//گزشتہ ماہ کی 23 تاریخ کو ہوئی بھاری برفباری کے نتیجہ میں بند ہوئی کشتواڑ سنتھن قومی شاہراہ مسلسل بند پڑی ہے جس کے نتیجہ میں عوام کو مشکلات کا سامنا ہے اور وہ سوال کررہے ہیں کہ اگر اسی برف باری کے بعد مغل شاہراہ کو دوبارہ بحال کیاگیا تو سنتھن شاہراہ کیوں بحال نہیںکی گئی۔ضلع کشتواڑ سے تعلق رکھنے وا لے سماجی کارکنوںنے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سرینگر لداخ شاہرہ ، مغل روڈ کوجہاں برفباری کے بعد ہی آمدورفت کیلئے کھولا گیا تو کیونکر اس سڑک پر آمدرفت بحال نہ کی گئی۔ان کاکہناتھا کہ جہاں لاکھوں روپے اس سڑک کی دیکھ بھال کیلئے خرچ کئے جاتے ہیں لیکن پھر بھی اسے نہ کھولناانتظامیہ کی نااہلی کو صاف طور ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہناتھا کہ اس وقت خطہ چناب کی عوام کو سخت مشکلات درپیش ہیںاورقومی شاہراہ کا درجہ ملنے کے بعد بھی اس سڑک کو نامعلوم وجوہات پر بند رکھنا عوام کیساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کرنے جیساہے۔ سماجی کارکنوں نے کہا کہ موسم بھی بہتر ہے اور سڑک پر برف بھی موجود نہیں، انتظامیہ کو اس سڑک کو کھولنا چاہئے تاکہ مریضوں کو بروقت علاج میسر ہوسکے۔مڑواہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان اشفاق احمد نے بتایا کہ اگرچہ ہرسال نومبر کے آخر تک سنتھن شاہراہ آمدورفت کیلئے کھلی رہتی تھی جسکے بعد برفباری کے بعد قریب پانچ ماہ تک بند رہتی تھے لیکن امسال یہ سڑک اکتوبر میں ہوئی برفباری کے بعد بند پڑی ہے جسکے کھولنے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیاگیا جبکہ سڑک کے بند ہونے سے مڑواہ واڑون کی عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور انہیں کئی سو کلومیٹرکا اضافی سفر طے کرکے ضلع ہیڈکوارٹر پہنچنا پڑتاہے۔انہوں نے کہا کہ اگر مرگن سڑک پر برف ہٹائی گئی توکیونکر کشتواڑ انتظامیہ نے اس سڑک کو کھولنے کی زحمت تک نہیں کرتی ۔انھوں نے انتظامیہ سے اس سڑک کو فوری طور آمدورفت کیلئے کھولنے کا مطالبہ کیا۔این ایچ آئی ڈی سی ایل کے ایک افسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سڑک پر بر ف ہٹانے کیلئے ٹینڈر نکالے جاتے ہیں جبکہ امسال یہ ٹینڈر کشمیر کے کسی ٹھیکیدار کو ملا ہے لیکن کن وجوہات پر ابھی تک کام شروع نہ ہوا، انھیں اسکی کوئی علمیت نہیں ہے۔