منڈی//منڈی میں رہبر تعلیم اساتذہ کا ایک اجلاس زیر صدارت فورم کے ضلع صدر حمید نباض منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران نباض نے مرکزی و ریاستی سرکار کے اس قدم کی سراہنا کی کہ یہ ایک خوش آئند فیصلہ ہے کہ اساتذہ کو مزید ماہر بنایا جارہا ہے مگر ساتھ ہی نباض نے اس قدم کو غلط ٹھہراتے ہوئے کہاکہ اس طرح سے اساتذہ کی ڈگریوں کی توہین کی جارہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کو بجائے بی ایڈ کے ایلیمنٹری ڈپلومہ کے لئے رجسٹریشن کروانے کے حکم کو وہ بھی محدود وقت میں تانا شاہی سے تعبیر کرتے ہیں۔ نباض نے کہا کہ یہ سراسر نا انصافی ہے جبکہ انکے لئے ریاست میں منظور شدہ یونیورسٹیاںباضابطہ طور پر بی ایڈ کرواتی ہیںجن میں داخلہ کی راہ ہموار کروانی تھی تاکہ اساتذہ کے دو سال کو بھی بچایا جاسکتا اور توہین بھی نہیں ہوتی۔ نباض نے کہا کہ ہر ضلع میں ڈائٹ موجود ہے جہاں پر بھاری تعداد میں ماہر اساتذہ بھی موجود ہیں،بارہویں پاس اساتذہ کو وہاں پر رجسٹریشن کروانے کے بجائے نیشنل اوپن اسکول میں کروانے کے پیچھے نہ جانے کیا عوامل کارفرماہیں ۔نباض نے کہا کہ انکی فورم اساتذہ کو مزید ہنر مند بنانے کے خلاف نہیں بلکہ غلط طریقہ کے خلاف ہے۔ انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس حکمنامہ کی ترمیم نہیں کی گئی تو فورم 2014 جیسا ریاست گیر احتجاج چھیڑ دے گی ۔اجلاس میں ضلع نا نائب صدر انعام الرحمن ،پیر فاروق، فاروق منگرال، بشیر احمد، شوکت حسین، محمد سلیم، محمد اعظم ،لیاقت چودھری، عظیم ملک، سنجیو شرما، اسلم شیخ ،ریاض لون، الطاف حسین، مختار شیخ، مجید تانترے ،خلیل شیخ وغیرہ بھی موجو دتھے ۔