جموں//وزیراعظم کے ایمپلائمنٹ پیکیج کی عمل آوری میں تاخیر کا الزام لگاتے ہوئے کشمیری مائیگرنٹ نوجوانوں نے جمعرات کو گورنر انتظامیہ پر زور دیا کہ اس پیکیج کے تحت روزگار فراہمی کو آسان بنایا جائے تا کہ ان کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔ ان نوجوانوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2008میں وزیر اعظم نے اس پیکیج کا اعلان کیا تھا اور 9برس کے طویل عرصہ کے بعد ریاستی بھرتی بورڈ نے 1660اسامیاں مشتہر کیں،2017میں انہوں نے مختلف پوسٹوں کے لئے اپلائی کیا تھالیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر بھرتی عمل کو پھر تعطل کا شکار بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی سرکار نے 10اکتوبر2017کو ایس آر او 425جاری کر کے اس پیکیج کا دائرہ نا ن مائیگرنٹ طبقہ تک وسیع کر دیا ۔ اس دوران سکھ طبقہ نے ریاستی ہائی کورٹ میں ایک اپیل دائر کر کے اس پیکیج میں کشمیری سکھ طبقہ کو شامل کرنے کی بات کی۔ ہائی کورٹ نے رٹ پٹیشن 2048/2017کے تحت ایس آر او425کی عمل آوری پر سٹے لگا دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی انتظامیہ نے جان بوجھ کر ایس آر او425کو ایس آور او412مجریہ 2009کے ساتھ خلط ملط کر دیا تھا جس کی بنا پر وزیر اعظم کے بھرتی پیکیج پر عمل آوری ممکن نہیں ہو پا رہی ہے ۔انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے بھرتی پیکیج پر عمل آوری کو یقینی بنایا جائے۔