راجوری//نیشنل کانفرنس سینئر لیڈر محمد سعیدجٹ نے وزیر اعلیٰ کے دورہ ٔ راجوری کے دوران عام لوگوں کو ان سے ملاقات کا موقعہ نہ دینے کی شکایت کرتے ہوئے کہاکہ یہ عوامی دربار نہیں بلکہ پی ڈی پی دربار تھا جس کو ورکر میٹنگ کہنا حق بجانب ہوگا۔راجوری کے ایک نجی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعید جٹ نے کہاکہ وزیر اعلیٰ کے دورے کو خواہ مخواہ میں عوامی دربار کانام دے کر مشتہر کیاجارہاہے جبکہ حقیقت میںیہ پی ڈی پی دربارتھا جس میں عام لوگوں کو وزیر اعلیٰ سے ملنے کی اجازت ہی نہیں دی گئی ۔جٹ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے دورہ راجوری سے عوام کو کافی امیدیں وابستہ تھیں اور اس دورے میں کئی مسائل زیر بحث آتے لیکن بدقسمتی سے عام لوگوںکو محبوبہ مفتی سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی اور محض پی ڈی پی اور بھاجپا کے لیڈران و کارکنان نے ان سے ملاقات کی جو افسوسناک ہے۔انہوںنے کہاکہ وزیر اعلیٰ کو چاہئے تھا کہ وہ حزب اختلاف جماعتوں کے نمائندوں کوبھی مدعوکرتی اور ان کے مطالبات بھی سنتی لیکن ایسا نہیں کیاگیااور ریاست کی حکومت کی سربراہ کے طور پر ان کو ایسا نہیں کرناچاہئے تھا۔سعید جٹ نے کہاکہ منی سیکریٹریٹ پر بھی تعطل برقرار ہے اور وزیر اعلیٰ خود بھی اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ لینے میں کامیاب نہیں ہوپائیں ۔ انہوں نے کہا کہ منی سیکریٹریٹ کومنظوری نیشنل کانفرنس کی قیادت والی سرکار نے دی تھی اور کام بھی شروع کیا گیاتھا جو بعد میں بند کرکے اب پروجیکٹ ہی دوسری جگہ منتقل کرنے کی سازشیں رچی جارہی ہیں ۔ انہوںنے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ منی سیکریٹریٹ کی تعمیر کاکام شروع کرکے جلد سے جلد پایہ تکمیل تک پہنچایاجائے تاکہ لوگوں کو دفاتر آنے جانے میں مشکلات کاسامنا نہ کرناپڑے ۔ ان کے ہمراہ اشتیاق احمد اور سعید احمد بھی تھے۔