سردی کی آمد کیساتھ ہی ضرورت مندوں کی مشکلات بڑھ گئیں، فوری امداد کی اپیل
رمیش کیسر
نوشہرہ// وزیراعظم آواس یوجنا کے تحت غریب اور مستحق شہری و دیہاتی خاندانوں کو پکے مکانات تعمیر کرنے کے لئے دی جانے والی مالی امداد گزشتہ ایک برس سے مسلسل التوا کا شکار ہے، جس کی وجہ سے سینکڑوں ضرورت مند خاندان شدید پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔ سروے میں شامل ایسے بے شمار افراد، جن کے نام گزشتہ برس یا رواں سال کے آغاز میں فہرست میں شامل کئے گئے تھے، تاحال ایک بھی قسط کے حصول سے محروم ہیں۔ اس مسلسل تاخیر نے غریب طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جو برسات اور شدید سردی میں کچے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔متاثرہ افراد نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے اسکیم میں شامل کئے جانے کے باوجود، آج تک انہیں پہلی قسط بھی جاری نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سروے میں نام شامل ہوئے ایک سال ہونے کو آیا، لیکن آج تک کوئی مالی مدد نہیں ملی، نہ ہی یہ بتایا جا رہا ہے کہ رقم کب ملے گی‘۔ انہوں نے کہا کہ کچے مکانوں میں رہنا شدید خطرات سے خالی نہیں، خاص طور پر برسات کے دنوں میں جب چھتیں ٹپکتی ہیں اور دیواریں کمزور ہو جاتی ہیں۔ضرورت مند خاندانوں نے یہ بھی بتایا کہ سردیوں کی سخت راتیں ان کے لئے عذاب بن چکی ہیں، کیونکہ ٹھنڈے ہوا دار کمروں میں رہنا انتہائی مشکل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ہماری چھتیں کمزور، دیواریں گیلی اور گھر کا سامان اکثر بارش سے خراب ہو جاتا ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے مالی امداد نہ ملنا بہت بڑا المیہ ہے‘‘۔متعدد دیہی علاقوں کے مکینوںنے شکایت کی کہ محکمہ متعلقہ کی جانب سے بار بار یقین دہانیوں کے باوجود عملی سطح پر کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ کئی مستحقین نے بتایا کہ ان کی فائلیں مکمل تھیں اور تمام ضروری دستاویزات سروے ٹیم نے جمع بھی کی تھیں، مگر اس کے باوجود معاملہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر لٹکا ہوا ہے۔ کچھ لوگوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اگر کوئی کمی یا اعتراض ہے تو اسے واضح طور پر بتا کر فارم درست کرائے جائیں، تاکہ ضرورت مندوں کو مزید پریشانی نہ ہو۔متاثرہ افراد نے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی حالتِ زار کو سنجیدگی سے لے اور جلد از جلد مالی امداد جاری کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ’ہمارے گھر بنانے کا خواب اسی اسکیم سے وابستہ ہے۔ اگر قسطیں نہ ملیں تو ہم کبھی بھی پکا گھر نہیں بنا سکیں گے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ہمیشہ غریبوں کی فلاح و بہبود کا وعدہ کیا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ زمینی سطح پر بھی ان وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اگر فوری طور پر مالی امداد فراہم کی گئی تو غریب خاندان سردی اور برسات کے مشکل موسم میں محفوظ رہ سکیں گے اور اپنی زندگی بہتر طور پر گزار سکیں گے۔