پرویز احمد
سرینگر // وادی میں ہڈیوں کے واحد ہسپتال ’برزلہ بون اینڈ جوائنٹ ہسپتال‘ کی کیجلولٹی میں اس قدر رش ہوتا ہے کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ اوٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ( OPD) میں ڈاکٹروں کے کمروں کے باہر اس قدر بھیڑ رہتی ہے کہ ہر ایک بیمار کو کم سے کم دو گھنٹے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔کنسلٹنٹ ڈاکٹر شمیم کے مطابق ہر آنے والے 10لوگوں میں کم سے کم 3کو گھنٹوں اور کمر کی تکلیف ہوتی ہے۔ڈاکٹر شمیم کا مزید کہنا ہے کہ وادی میں عمومی طور پر لوگ صبح ورزش کم کرتے ہیں جس کی وجہ سے جسم کا وزن بڑھتا ہے اور اس سے گھٹنوں میں درد پیدا ہوجاتا ہے۔
ڈاکٹر شمیم نے صلاح دی ہے کہ گھنٹوں کے درد کو کم کرنے کیلئے خواتین کو خاص طور پر کچن یا رسوئی گھر میں کرسی کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ گھنٹوں پر پڑنے والے دبائو کو کم کیا جاسکے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بیڈ پر سونے سے بھی گھنٹوں کو آرام دیا جاسکتا ہے۔ ایک سرکاری مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ وادی کشمیر کے مختلف سرکاری ہسپتالوں میں علاج و معالجہ کیلئے آنے والے33فیصد لوگ گھٹنوں کے درد میں مبتلا ہوتے ہیں۔گھٹنوں کے درد سے متاثرہ لوگوں میں 61فیصد جوڑوں میں سکڑن اور 35فیصد ہڈیوں کی کمزوری سے متاثر ہیں۔ ان میں 62فیصد سے زائد خواتین کی تعداد ہوتی ہے۔ گھٹنے انسانی جسم کے اہم جوڑ ہیں اور ان پر انسانی جسم کو پورا وزن پڑتا ہے۔ جسم کا وزن اٹھاتے وقت اور عام روز مرہ کام کرنے کے دوران گھٹنوں کے گھیسائو یا ٹانگ کی دو ہڈیوں میں ٹکرائو کی وجہ سے درد شروع ہوجاتا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ ہلکا ہوتا ہے لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی حادثے میں زخمی ہونے والے افراد بھی اکثر گھٹنوں میں درد محسوس کرتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خواتین کی تعداد(60فیصد) اس لئے زیادہ ہے کیونکہ خواتین کو مردوں کے مقابلے میںآرام کرنے کا وقت کافی کم ملتا ہے۔ مجموعی طور پر 33فیصد افراد میں سے 60فیصد میں مسلسل درد کی شکایت رہتی ہے جن میں 45فیصد میں معمولی اور 15فیصد میں شدید درد ہوتا ہے۔جوڑوں و ہڈیوں کے ماہر ڈاکٹر عادل بشیر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’عمر گذرنے کے ساتھ ساتھ جسمانی اعضاء میں کمزوری پیدا ہوتی ہے جو ایک قدرتی معمول ہے لیکن کشمیر میں عام طور پر لوگوں میں وٹامن Dکی کمی پائی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وٹامن Dکی کمی کی وجہ سے انسان کی ہڈیوں کا ڈھانچہ کمزور پڑتا ہے اور اس کمزوری کا اثر سب سے زیادہ اس جگہ پڑتا ہے جہاں یہ ہڈیوں کا ڈھانچہ زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھٹنے نہ صرف زیادہ استعمال ہوتے ہیں بلکہ زیادہ بوج اٹھانے کی وجہ سے ہمیشہ گھیستے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ جوانی میں وٹامن Dکی مقدار صحیح ہونے کی وجہ سے ہمیں یہ درد نہیں ہوتا لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ جوں ہی وٹامن Dکی کمی ہوتی ہے ، تو یہ درد محسوس ہونے لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد میں 80فیصد اس کا علاج کرتے ہیں جبکہ 20فیصد علاج نہیں کراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طرز زندگی میں تبدیلی اور بروقت علاج سے ہم اس صورتحال کو بدل سکتے ہیں۔ ڈاکٹر عادل بشیر نے بتایا کہ متوازن غذا اور کم بھوج اٹھانے سے لوگ درد میں بہتری محسوس کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو یہ درد موسم سرما میں زیادہ ستاتا ہے۔