نئی دہلی//سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے فیصلے کو رد کردیاہے جس میں ہائی کورٹ نے نیشنل رورل ہیلتھ مشن کے تحت غیر معیاری میڈیکل کٹوںکی خریداری میں سرکاری رقومات کے مبینہ طور پر غلط استعمال کے سلسلے میں درج فوجداری کارروائی کو منسوخ کیاتھا ۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ انسدادکرپشن ایکٹ اور رنبیر پینل کوڈ کی دفعہ 120-B مجرمانہ سازش کی دفعات کے تحت مبینہ جرائم کیلئے درج مقدمے میں )ایف آئی آر اور فوجداری کارروائی کی تفتیش کی جانی باقی ہے۔ جسٹس ایم آر شاہ اور اے ایس بوپنا کی بنچ نے کہا کہ ہائی کورٹ نے فوجداری مقدمے کو منسوخ کرنے میں ایک ’’ سنگین غلطی کی ہے کیونکہ عدالت نے تحقیقاتی افسران کو ایف آئی آر منسوخ کرنے کا اختیار دیکر جموں و کشمیر انسداد رشوت ستانی 2006کی خلاف ورزی کی ہے اور یہ قانون کی نظر میں بڑی غلطی ہے۔بنچ نے مزید کہا "ہماری رائے ہے کہ کیس کے حقائق اور حالات کو مد نظر رکھنے اور جموں و کشمیر انسداد رشوت ستانی ایکٹ کی شق کے 3 دوسرے مندرجات کو غیر قانونی اوریا غلط نہیں کہا جا سکتا۔بنچ نے کہاکہ دنوں صورتوں پر غور کرنے کے بعد اس کا فیصلہ29اکتوبر کو سنایا گیا۔سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر اور دیگر کی طرف سے دائر عرضی کی اجازت دی جس میں ہائی کورٹ کے مئی 2018 کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا جس نے ایف آئی آر میں مجرمانہ کارروائی کو منسوخ کر دیا تھا۔ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا تھا کہ 2010-11 کے دوران، ملزمان نے NRHM کے تحت انتہائی مہنگے نرخوں پر غیر معیاری میڈیکل کٹس کی خریداری پر اثر انداز ہو کر اور محکمے کی طرف سے سپلائی آرڈر کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھاری رقم کی ہیر پھیر کی تھی۔