آج میرے ہاتھوں میں ایک ایسا شعری مجموعہ ہے کہ جس کی جتنی بھی تعریفیں کی جائیں کم پڑیں گی۔جی ہاں! اس شعری مجموعہ کا نام "زرد پنکی ڈیر"ہے یہ تخلیق ایک نہایت ہی قابل، ہونہار اور بہترین شاعرہ نگہت صاحبہ کی ہے ۔میری ملاقات نگہت صاحبہ سے کورونا وبا میں "زُوم ایپ " کے ذریعے ایک مشاعرے میںہوا مشاعرہ کا اہتمام کأشُر قلم نے کیا تھا جس میں انہوں نے اپنی میٹھی آواز میں ہمیں ایک غزل سے نوازا تھا، اسی وقت مجھے اشتیاق ہوا کہ میں اس کے کلام کا مطالعہ ضرور کروں ،پھر کتاب منگوا لی اور ماشاءاللہ کتاب بہت ہی معنی خیز ہے۔کتاب میں غزلیں اور نظمیں نہایت ہی دلچسپ اور خوبصورت پیرائے میں پیش کی گئی ہیں۔ نگہت صاحبہ کے اس مجموعے کو 2017میں ساہتیہ اکیڈمی کے ایوارڈ " یُووا پرسکار "سے نوازا جاچکا ہے اور آپ کی اردو شاعری کو 2014میں اکبر جے پوری ایوارڈ اور 2018میں ملیکہ سین گپتا ایوارڈ سے نوازا گیا ۔حال ہی میں انہیں Kalaignar Porkizhi Award 2021سے عزت افزائی کی گئی ۔
تھزر تراوُن سنیر پراوُن تہ راوُن
بجر بخشاں چُھ دریاون سمندر
نگہت صاحبہ کو اردو اور کشمیری یعنی دونوں زبانوں میں تخلیقی صلاحیت موجود ہے ۔عام طور سے دیکھا جاتا ہے کہ لوگ نسوانی صنف کو پڑھنے میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں مگر مجھے یہاں ایک الگ سی چاشنی محسوس ہوئی کیونکہ آپ کی غزلیں کافی دلچسپ ہیں ،آپ نے نئے انداز سے اپنی غزلیں اور نظمیں تخلیق کی ہیں ،آپ ایک باصلاحیت ، علم عروض سے واقف اور بحر بند شاعری سے واقف ہیں، اس لئے آپ کی شاعری میں یہ سب چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ آپ نے کشمیری زبان کے بہت سارے ایسے الفاظ اپنی غزلوں میں بھر دئیے ہیں جو الفاظ آج کل ہم اپنی اس زبان (کشمیری) میں زیرِ استعمال نہیں لا رہے ہیں ۔
یس زرد پن چھ وندان پان سہ چھا سونتہ زوان
کتھ پدین تل مے یہ سبزار تھووتھ ساد دلا
نگہت صاحبہ کشمیر کی مایہ ناز شاعرہ ہیں، جنہوں نے اپنی کم عمری میں ہی شاعری میں اپنا نام کمایا ہے۔ آپ کی شاعری کنایوں، استعارات اور تشبیہات سے پاک ہے ۔آپ کی کشمیری شاعری عام فہم زبان میں ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ کی شاعری کو لوگ پسند کرتے ہیں۔
سمکھأوی سمندر تہ سرابن تہ سیکلی سأمی
پھؤلرأوی ونس پوش، گرس زرد پنکی ڈیر
آپ کے شاعری مجموعہ میں "زرد پن"کی ذکر بہت سی جگہ ہوئی ہے، اس لئے یہ بھی کہا جائے گا کہ کتاب کا ٹائٹل اس کی غزلوں کے ساتھ مماثلت رکھتے ہیں۔ آپ کا یہ مجموعہ بہت ساری نظموں سے بھی آراستہ ہے، خاص کر آزاد نظموں سے۔۔۔۔۔ مگر آزاد نظموں میں بھی قاری اتنی دلچسپی لیتا ہے جتنی غزلوں میں۔۔۔۔۔۔" زرد پنکی ڈیر " سےکشمیری ادب میں ایک اور اضافہ ہوا ہے۔ یہ کتاب "انک لنکس پبلیکیشنگ ہاوس" پامپور نے شائع کرکے کشمیری زبان وادب کے ساتھ ایک اور احسان کیا ہے کیونکہ آج کل کے اس پرآشوب دور میں کشمیری زبان وادب صرف سیدھے سادھے لوگوں تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہے اور یہ زبان اب دن بدن ناپید ہوتی جارہی ہے ۔خاص طور سے ان خاندانوں سے یہ زبان سرے سے ہی نکل گئی ہے جو بڑی بڑی ڈگریوں کے چکر میں اپنے بچوں کو لگاتے ہیں۔ میری نظروں میں یہ مجموعہ نگہت صاحبہ کا شائد پہلا شعری مجموعہ ہے ،مگر اس مجموعے نے مجھے کافی متاثر کیا ہے کیونکہ اس میں غزلوں کے علاوہ نظموں کا سلسلہ بھی ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ ہمدردی، بہ چھس کھوژاں،یم کمی سندی گر، جنت تل پدین اور خونچ بؤے وغیرہ تعریفوں کے لائق ہیں۔ اس کتاب سے ایسا لگتا ہے کہ نگہت صاحبہ گھوڑے پر سوار ہونے کے علاوہ گھوڑے کے پیچ وتاب اور اس کو رام کرنا بھی جانتی ہیں، آخری نظم "خؤد کلأمی" جو اس کتاب میں ہے ،نے مجھے حواس باختہ کیا ہے کیونکہ یہ نظم شاندار طریقے سے تخلیق کی گئی ہے۔نگہت صاحبہ میری نظروں میں ایک خاص قسم کی خاتون ہے کیونکہ انہوں نے یہ کتاب چھاپ کرکشمیری زبان وادب کو محفوظ رکھنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ اس کا انداز بیاں،لب و لہجہ،طور طریقہ بھی بڑا ہی دلچسپ ہے اور قاری کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔دور حاضر میں عام لوگ جن میں زیادہ تر تعداد نوجوان پڑھی لکھی عورتوں کاہے،اردو اور انگریزی زبانوں کے پیچھے لگے ہیں مگر نگہت صاحبہ نے اس سب دکھاوے کو پیچھے چھوڑ کر یہ کشمیری کلام آگے لاکر ایک اور سنگ میل کو پار کیا ہے اور دنیا کے طعنوں کا پرواہ کئے بغیر اس کتاب کو باضابطہ طور شائع کروایا ہے۔ زرد پنکی ڈیر شاعری مجموعے کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ مجموعہ فنی،تکنیکی اور اصطلاحی غلطیوں سے مبّرا ہے کیونکہ عام طور سے دیکھا جاتا ہے کہ اکثر شاعری مجموعے غلطیوں سے بھرے پڑے ہوتے ہیں ۔میں نے جتنے بھی مجموعے ابھی تک پڑے ہیں، ان میں کوئی نہ کوئی خامی یا غلطی ضرور تھی ،کتاب کا تقریظ مظفر عازم نےبہت ہی خوبصورت انداز میں لکھا ہے۔ غرض اس کتاب کی شاعرہ،تقریظ لکھنے والا ، ترتیب کار اور ناشر سبھی مبارکبادی کے مستحق ہیں۔میں اب یہ مضمون نگہت صاحبہ کے اس شعر سے اختتام کرتا ہوں کہ۔
جانانہ وندے زُو لولہ کتھن کُس ناو ژہ دکھ
یہ چُھ سدرہ سنیر کاغذ تلمن کیاہ شروپراوکھ
(رابطہ۔7006259067)