اللہ پاک نے قرآن مقدس میں فرمایا ہے : ’’اے اولادِ آدم! تم ہر نماز کے وقت اپنا لباسِ زینت (پہن) لیا کرو اور کھاؤ اور پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو کہ بیشک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ‘‘ (الاعراف، 7: 31)
فضول خرچی کی نہ صرف مذمت کی گئی بلکہ سخت تنبیہ کی گئی ہے اور ایسا کرنے والوں کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔’’اور قرابت داروں کو ان کا حق ادا کرو اور محتاجوں اور مسافروں کو بھی (دو) اور (اپنا مال) فضول خرچی سے مت اڑا۔ بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے ‘‘( بنی اسرائیل، 17: 26، 27)
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُس نکاح میں سب سے زیادہ برکت ہوتی ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو إن اعظم النکاح برکۃ أیسرہ مؤنۃ (مسند احمد رقم: ۵۲۵۴۲)
اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے، اس نے جہاں زندگی کے دوسرے تمام شعبوں میں مسلمانوں کی رہنمائی کی ہے، وہیں شادی کا طور طریقہ بھی سکھایا ہے۔ آئیے جانتے ہیں اسلامی شادی کیا ہوتی ہے۔ نکاح میں اصل چیز ایجاب و قبول ہے۔ نکاح کے بعد رخصتی کا وقت آتا ہے، نکاح اور رخصتی کے موقع پر لوگوں کو اطلاع کرنا اسلامی طریقہ ہے اس سے شادی کرنے والوں پر لوگوں کا اعتماد بحال رہتا ہے؛ اس کے لیے زمانہ خیر یعنی رسول پاک ﷺ کے دور میں لوگ دف بجایا کرتے تھے؛لیکن اس میں بھی اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہے کہ خواتین الگ ہوں اور مرد حضرات الگ ہوں تو دف بجانا یا مائک پر اعلان کرنا اور خوشی منانا جائز ہے۔ اس کے بعد مہر مقرر کرنا ضروری ہے، لڑکے کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق ولیمہ کرنا، اپنے رشتے داروں اور دوستوں کو دعوت دینا سنت ہے۔ شادی کے موقع پر حسب استطاعت نئے کپڑے پہننا اور خوشی منانا جائز ہے۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے گیارہ شادیاں فرمائیں؛ لیکن کسی بھی شادی میں لڑکی والوں کی طرف سے دعوت کا کوئی نظم نہیں ہوا، کسی کے بھی اہل خانہ نے حضور ﷺ کو جہیز نام کی کئی چیز نہیں دی، کسی بھی موقع پر الگ شامیانہ نہیں سجایا گیا۔ نکاح کی تقریب منعقد ہوئی، کچی یا پکی کھجوریں تقسیم ہوئیں اور زوجۂ نبی ﷺ کو نبی پاک ﷺ کے یہاں رخصت کردیا گیا؛ آپ ﷺ نے ولیمہ کا اہتمام فرمایا۔ بس یہی شادی ہواکرتی تھی۔ لیکن افسوس کہ آج ہم نے شادی کو اس قدر مشکل بنادیا ہے کہ اللہ کی پناہ! غریب آدمی کے یہاں بیٹی کا ہونا بعض دفعہ اس کی موت کا سبب بن جاتاہے۔
اب آئیے قائد انسانیت حضرت محمد مصطفی ﷺ کی لخت جگر حضرت فاطمہ زھرا رضی اللہ عنہا کے نکاح کا حال دیکھتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شرماتے ہوئے کاشانۂ نبوی پر حاضر ہوکراپنا مدعا عرض کیا اور حضرت فاطمہ کے لیے نکاح کا پیغام دیا۔ حضور ﷺ نے سن کر ارشاد فرمایا کہ اھلا و سھلا۔ لیکن ساتھ ہی حضورؐ نے پوچھا کہ آپ کے پاس مہر میں دینے کے لیے کچھ ہے؟ حضرت علیؓ نے عرض کیا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ سرکار دو عالمﷺ نے پھر پوچھا کہ جنگ بدر میں جو’ زرہ‘ ملی تھی وہ کہاں ہے؟ اس پر انھوں نے کہا کہ وہ تو موجود ہے۔ پھر سرکار دوعام ﷺ نے فرمایا کہ وہی زرہ فاطمہ کو مہر میں دے دینا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ زرہ لے کر بازار گئے اور مدینہ نبوی کے مشہور و امین تاجر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بازار میں آنے کی وجہ پوچھی ، تو حضرت علی نے جواب دیا کہ زرہ بیچنے آیا ہوں۔ حضرت عثمان غنی ؓ نے پوچھا کتنے میں ؟ حضرت علی نے کہا 480 درہم۔ چنانچہ حضرت عثمان نے زرہ خرید کر پیسے ادا کردیے اور زرہ کو بھی شادی کے تحفہ کے طور پر حضرت علی ؓ کو واپس کردیا۔ حضرت علی ؓپیسہ اور زرہ لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں چیزیں سرکار کی خدمت میں پیش کردیں۔اور حضرت عثمان کے اس حسن سلوک کا بھی تذکرہ کیا۔ سرکار دو عالم ﷺ نے حضرت عثمانؓ کو دعا دی اور رقم حضرت ابوبکرؓ کو دیتے ہوئے فرمایا کہ جاؤ اور شادی کے سامان لے آؤ۔حضرت ابوبکرؓ ایک لحاف، ایک کھجور کی چھال بھرا ہوا گدا، دو چکیاں، ایک مشکیزہ اور دو مٹی کے گھڑے لے آئے۔ جب تیاریاں مکمل ہوگئیں ، تو حضور ﷺ نے اپنے خادم حضرت انسؓ کو حکم دیا کہ انصار و مہاجرین کے فلاں فلاں حضرات کو بلا لائیں۔ چنانچہ کچھ ہی دیر میں حضرات ابوبکر، عمر فاروق، عثمان غنی، سعد اور دیگر حضرات کو بلا لائے۔مجلس نکاح منعقد ہوئی۔ خود سرور کائنات نے بصیروت افروز خطبۂ نکاح پڑھا اور ارشاد فرمایا کہ اے علی! میں نے تمہارا نکاح فاطمہ بنت محمد سے چار سو مثقال حق مہر کے عوض کردیا ہے۔ حضرت علی نے فرمایا کہ مجھے منظور ہے۔پھر حضور ﷺ نے حضرات شیخین کو مخاطب کرکے فرمایا کہ انی اشھدکم انی زوجت فاطمۃ بعلی (کشف الغمہ )پھر زوجین کو دعا دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جمع اللہ شملکما و بارک علیکما و اخرج منکما کنزا طیبا (اصابہ)۔ایجاب و قبول کے بعد کھجور سے بھری ایک پلیٹ منگوائی گئی اور مجلس میں تقسیم کردی گئی۔ جب رخصتی کا وقت آیا تو حضرت علیؓ نے ایک مکان کرایہ پر لیا۔ ادھر حضرت ام ایمن سیدہ فاطمہ کو لینے کے لیے آئیں۔ حضورؐ نے امہات المؤمنین کو رخصتی کی تیاری کا حکم دیا۔ رخصتی کی اس فرحت و غم کی ملی جلی کیفیت میں حضرت ام سلمہؓ نے کہا کہ اے کاش اپنی بیٹی کی رخصتی کے وقت خدیجہ زندہ ہوتیں۔ المختصر یہ کہ حضرت فاطمہ اپنے والد اور ازواج مطہرات کی دعاؤں کے ساتھ حضرت علی کے گھر رخصت ہوگئیں۔ یہ کرایہ کا مکان تھا ، جس پر حضرت فاطمہؓ نے اپنے شوہر کو مشورہ دیا کہ آپ حارثہ بن نعمان سے مکان مانگ لیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ مجھے مانگنے میں عار محسوس ہورہی ہے۔ بعد میں جب یہ خبر حضرت حارثہ کو پہنچی ، تو وہ فوراً خدمت نبویؐ میں حاضر ہوئے اور مکان کی پیش کش کی؛ چنانچہ حضور ﷺ نے برکت کی دعا دی اور پھر یہ دونوں اسی مکان میں منتقل ہوگئے۔
یہ اس شہزادی جنت اور کائنات کے سب سے بڑے مسیحا، تمام نبیوں کے امام، تمام مخلوقات سے افضل نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ زھرا رضی اللہ عنہاکی شادی ہے، کس قدر مختصر اور آسان۔ افسوس کہ آج ہم نے اپنے رہنماؤں کا طریقہ چھوڑ دیا۔