جموں// پرنسپل سیکرٹری بھیڑ و پشو پالن اور ماہی پروری محکمہ نوین کمار چودھری نے سول سیکرٹریٹ میں محکمہ فشریز کے منعقدہ جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ کو پردھان منتری متسیا ماسمپادا یوجنا ، پی ایم ایم وائی کی عمل آوری اور محکمہ خزانہ کے ذریعہ فنڈس کی واگزاری کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے طلب کی گئی تھی۔پردھان منتری متسیا سمپادا یوجنا ایک ایسا اقدام ہے جوحکومت ہندنے ایک جامع فریم ورک قائم کرنے اور ماہی گیری کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی خامیوں کو دُور کرنے کے لئے شروع کیا ہے۔ اِس پالیسی میں تمام ماہی گیروں کو زرعی کاشتکاروں کے ساتھ مربوط کرنے اور ماہی گیروں کو کسان کی فلاح و بہبود کی مختلف سکیموں کے ذریعے دستیاب تمام تر سہولیات فراہم کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے۔نوین کمار چودھری نے افسروں کو ہدایت دی کہ وہ مچھلی کی پیداوار کے ممکنہ علاقوں کی نشاندہی کریں اور اس شعبے کی بہتر نمو اور تجارت میں شامل افراد کی فلاح و بہبود کے لئے ایسے یونٹوں کے قیام کو ترجیح دیں۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ یونٹوں کی امداد اور ان کی توسیع کو بھی اور ترجیح دی جانی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیداوار میں اضافہ کے ساتھ تجارت اور پیداوار کی برآمد کرنے کی ضرورت ہے۔پرنسپل سیکرٹری نے ماہی گیری سے متعلق کاروبار شروع کرنے کے لئے ایس سی ۔ ایس ٹی لوگوں میں بیداری پیدا کرنے پر زور دیا۔ اُنہوں نے محکمہ کو پی ایم ایم وائی اور محکمہ کے مختلف دیگر اقدامات کے بارے میں تشہیر کے لئے ذرائع ابلاغ کو بروئے کار لانے کی ہدایت دی ۔ اُنہوں نے ان سکیموں سے زیادہ سے زیادہ فوائد پہنچانے کے لئے پنچایت اور بی ڈی سی ممبران کو بھی شامل کرنے کے لئے کہا ۔نوین کمارچودھری نے مختلف اضلاع میں مچھلی کی تیاری کے کاموں کے بارے میں تفصیلی جائزہ لیا اور انہوںنے سینئر افسران کو فلاح و بہبود اور ترقیاتی سکیموں کے فوائد کو زمینی بنیاد پر پہنچانے کے لئے پوری تن دہی سے کام کرنا چاہئے۔اُنہوں نے بہتر مارکیٹنگ اور برآمد کی سہولیات کی ترقی کی ضرورت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مچھلی پیداوار میں دو گنا اضافہ کرنا کوئی اچھی بات نہیں ہے جب تک کہ مچھلی کی پروسسنگ، سٹوریج ، پیکیجنگ اور رسد کی سہولیات میسر نہ ہوں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ان شعبوں میں کاروباری منصوبے شروع کرنے کے لئے لوگوں کی حوصلہ افزائی اور مدد کی ضرورت ہے۔بعد میںپرنسپل سیکرٹری نے پروجیکٹ تفصیلی رپورٹیں طلب کیں جس میں اُنہوں نے محکمہ سے متعلقہ تفصیلات پیش کرنے کو کہا کہ یوٹی کے دونوں صوبوں میں اس طرح کی سہولیات کہاںقائم کی جاسکتی ہیں۔