نوشہرہ //نوشہرہ کو ضلع کادرجہ دینے اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی عمل میںلانے کی مانگ پر مسلسل چھٹے روز بھی ہڑتال رہی اور تمام سرکاری دفاتر بند رہے ۔اس دوران بازار بند رہا اوربینک و سرکاری دفاتر میں بھی کام کاج بری طرح سے متاثر ہوا۔ واضح رہے کہ پانچ روز قبل بیوپار منڈل کی کال پر مقامی لوگوںنے ہڑتال شروع کی تھی جو مسلسل جاری ہے ۔ چھٹے روز بھی بازار مکمل طور پر بند رہا اور سرکاری دفاتر و بینک بھی نہیں کھلے جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کاسامنا کرناپڑا۔اگرچہ پانچ دنوں تک طلباء سکول جاتے رہے ہیں لیکن چھٹے روزکالج طلباء نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرکے احتجاج کیا جس میں دیگر لوگ بھی شامل تھے ۔پٹیل چوک میں احتجاج کے بعد ریاستی سرکار کا پتلابھی نذر آتش کیاگیا ۔ اس دوران مظاہرین نے ڈپٹی کمشنر راجوری کے خلاف بھی نعرے بازی کی ۔ مظاہرین کی مانگ تھی کہ نوشہرہ کو جلد سے جلد ضلع کا درجہ دیاجائے اور یہاں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی عمل میں لائی جائے ۔ انہوںنے کہاکہ نوشہرہ کے ساتھ ہمیشہ سے ہی ناانصافی ہوئی ہے اور اب وہ اس سوتیلے سلوک کو برداشت نہیں کریںگے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ احتجاج مانگ پوری ہونے تک جاری رہے گا ۔ان کاکہناتھاکہ نوشہرہ میں اے ڈی سی کی پوسٹ دینے کیلئے ان کے ساتھ کئی بار وعدے کئے گئے مگر ان کو اب تک ایفا نہیں کیاگیا ۔ انہوںنے کہاکہ نوشہرہ کے بجائے دیگر علاقوں کو یہ پوسٹ دی گئی ہے اور اس علاقے کے ساتھ ایک سازش کے تحت ناانصافی کی جارہی ہے ۔اس ہڑتال سے لوگوںنے سکولوں کو مستثنیٰ رکھاہواہے اور تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کام کررہے ہیں لیکن ہڑتال اور بند کی وجہ سے دیگر معمولات زندگی بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں۔