رمضان المبارک کا یہ مقدس ماہ ہم پہ سایہ فگن ہو چکا ہے۔ اس ماہ کے مبارک روزے کی بندگی کو بڑھانے اور حصولِ تقویٰ کو حاصل کرنے کا ایک خاص موقع فراہم کرتی ہے جب کہ قرآن مجید قرب الٰہی اور تقویٰ کے حصول کا وہ نسخہ ہدایت ہے جو تزکیہ و تربیت اور صراطِ المستقیم پر استقامت کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے بہترین سہارا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں جو روحانیت کا حصہ رکھا ہے، روزہ اس کو ترقی دینے اور نفس کی تطہیر اور تزکیے کا خاص ذریعہ ہے۔
صوم کا مطلب اپنے ارادے و قعدے سے ایک مدت متعین تک اپنی جائز اور طبعی خواہشوں کی تکمیل سے دست بردار ہونے کا نام ہے اور اس سے ایک طرف طبعی و جسمانی تو دوسری طرف روحانی و اخلاقی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ اللہ کا ارشاد ہے کہ ’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسا کہ ان لوگوں پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے قبل ہوئے ہیں توقع ہے کہ تم متقی بن جائو۔‘‘ (البقرہ؛183)
روزہ ہم سے قبل بھی باقی اْمتوں پر فرض کئے گئے تھے لہٰذا یہ کوئی بوجھ صرف اس اْمتِ محمدیہؐپر ہی نہیں ڈالا گیا ہے کہ اس سے حکمِ الٰہی سے روگردانی کی جائے۔ روزہ تعمیل ِ ارشاد الہٰی میں تزکیہ نفس اور تربیت جسم کا ایک بہترین دستور العمل ہے -۔
تقویٰ ایک مستقل کیفیت کا نام ہے ۔جس طرح مضر غذائوں سے احتیاط رکھنے سے جسمانی صحت درست ہو جاتی ہے اسی طرح اس عالم میں تقویٰ اختیار کر لینے سے عالم آخرت کی لذّتوں اور نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت و استعداد انسان میں پوری طرح پیدا ہوکر رہتی ہے۔ سرولیم میور اپنی شہرہ آفاق کتاب کے اندر یوں لکھتے ہیں کہ " روزے کی سختیاں بدستور قائم ہیں، خواہ وہ کسی موسم میں پڑیں، اور آج تک مشرق کے میدانوں میں چلچلاتی دھوپ اور جھلساتی ہوئی موسم میں، گرمی کے لمبے لمبے دنوں میں محمد کے پیرو صبح و شام تک پانی کا ایک قطرہ حلق کے نیچے نہیں اتارتے۔۔۔ اتنی سخت ریاضت، قوتِ ایمانی اور ضبط ِ نفس کا پورا امتحان ہے‘‘۔ (لائف آف محمد، ص/193)
اسلام سب سے پہلے نفسِ انسانی کی اصلاح و تربیت کو اپنے سامنے اولین ہدف بناتا ہوا اس کی گہرائیوں میں اسلامی تعلیمات کی تخم ریزی کرتا ہے تاکہ نفس اور تربیت ایک دوسرے کا لازمہ بن جائیں۔ تمام انبیاء ؑ کی تعلیمات اہل ِ ایمان کے گروہ کے گرد ’نفسِ انسان‘ کے تمام کاموں کا موضوع اور ان کی جملہ سرگرمیوں کا محور تھا۔ تمام الہامی مذاہب کی یہ فطرت رہی کہ انہوں نے اپنے تمام اصلاحی پروگراموں کا دارومدار نفسِ صالح پر رکھا اور مضبوط و مستحکم اخلاق کو ہی ہر تہذیب کے لیے دائمی ضمانت تصور کیا۔ شریف و پاکیزہ نفس ماحول کے شگافوں کی پیوند کاری کا فریضہ انجام دے گا۔ تصرف و استعمال میں باقاعدگی و حْسن، اور نظم حکومت کو جملہ برائیوں سے دور کرنے کی کوشش کو اپنی ذمہ داری تصور کرے گا۔ اگر نفوس کی اصلاح پر توجہ نہ ہوگی تو یہ دنیا ظلمتوں اور تاریکیوں کی آماجگاہ بن جائے گی، انسانوں کے حال و مستقبل پر فتنوں کی حکمرانی ہوگی، طاقت ور لوگ کمزوروں کو دبائیں گے۔ اسی وجہ سے نفس کی اصلاح، اس زندگی میں خیر کے غلبہ کا پہلا بنیادی ستون ہے۔
اسلام کا کارنامہ یہی ہے کہ یہ انسان کی پوری مدد کرتا ہے تاکہ وہ اپنی فطرت کو مضبوط و مستحکم بنا سکے، اس کی شعاعوں کو مزید تابناک و ضیاء بناسکے اور اس کی ہدایت و رہنمائی میں زندگی کا یہ طویل سفر طے کرسکے۔ اللہ کا ارشاد ہے کہ ’’یقینا فلاح پاگیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا (الاعلیٰ:14) اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبا دیا‘‘۔ (الشمس: 10)
جو شخص اپنے اندر کے دشمن سے لڑنا جانتا ہو وہی اپنے نفس کو پاکیزہ بنا کر فلاحی پا سکتا ہے۔ قرآن کریم کے مطابق نفس کے ساتھ جہدوجہد کرنے والے کا ٹھکانہ جنت (النٰزعٰت:40) ہے ۔
حق کی معرفت اور اس کا دامن تھام لینا، اس کے مطالبات اور تقاضوں کی تکمیل یہی فضیلت و شرافت سے شیفتگی کہلاتی ہے اور آدمی کے انفرادی و اجتماعی برتائوں میں ان دونوں خوبیوں کی رعایت ہی کمالِ حقیقی ہے اور زندگی کے تمام شعبوں میں ان کو غالب کرنے کی جدوجہد ہی حقیقی ساخت ہے۔ لیکن انسانوں کی ایک کثیر تعداد ایسی ہے جو اپنی ہوائے نفس کی وجہ سے اعلیٰ سطح تک نہیں پہنچ پاتی۔ وہ اپنی خواہشات کی پیروی میں لگ جاتی ہے۔ اس طرح وہ نہایت پست منزلت میں گرجاتی ہے جس کو قرآن کریم نے ’’اسفل السافلین‘‘ یعنی نیچوں کے نیچے کہا ہے۔ جن کی طرف اللہ تعالیٰ ایسے انسانوں کو لوٹا دیتا ہے۔
کون ہے جو اپنی بہترین ساخت پر قائم رہتا ہے اور دنیاوی رذالتوں سے اپنا دامن بچائے رہتا ہے۔ا س کا جواب اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یوں واضح فرمایا ’’سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے‘‘۔ (التین:3)
تقویٰ کے بارے میں حضرت شیخ سید عبد القادر جیلانیؒ اپنی شہرہ آفاق تصنیف میں یوں فرماتے ہیں کہ ’’صاحبو! روزے دار بن کر دن بھر بھوکا اور پیاسا رہنا اور رات کو حرام پر افطار کرنا تم کو کیا کار آمد ہوگا۔ دن کو تم روزے رکھتے ہو اور رات کو معصیتیں کرتے ہو۔ اے حرام خورو! تم دن میں تو اپنے نفسوں کو پانی پینے سے روکتے ہو اور جب افطار کا وقت آتا ہے تو مسلمانوں کے خون سے افطار کرتے ہو۔ صاحب زادے! روزہ رکھ اور جب افطار کرے تو اپنی افطار میں سے کچھ فقراء کو بھی دیا کر، تنہا مت کھا۔‘‘ (الفتح الربانی ،ص،111)
اے مسلمان!ذرا غور فرما کہ آپؐنے حلال کمائی حاصل کرنے پر کتنا زور دیا ہے۔ کیا ہم حلال طریقے سے کمانے پر اکتفا کرتے ہیں؟ تمام سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں لوگوں کو دو دو ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔ رشوت لے کر مسلمانوں کا خون پیا جا رہا ہے۔اس طرح کے لوگ اس رقم سے گھر کے دیگر افراد خانہ کے لیے مختلف اقسام کے میوے لے جاتے ہیں۔کیا یہ مسلمان کے خون سے افطار کرنے کے مترادف نہیں؟ ہمیں سمندر کی ایک چھوٹی سی لہر پہ اتنا یقین ہے کہ یہ کروڈوں انسانوں کے خارج شدہ گندگی کو ایک سیکنڈ میں صاف کرنے کی طاقت رکھتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی شان عظیمی کی طاقت کا اندازہ نہیں ، نہ اس کے کن فیکون ہونے کا مستحکم یقین ہے۔ اللہ رب العزت چاہیے تو کسی بھی انسان کے گناہوں کے انبار کودھو ڈالے، پہاڑ کے مانند کئے گئے گناہوں کو ہموار زمین کردے۔ بس اْس کی شانِ رحیمی کو بندہ کا کوئی بھی کام پسند آجائے تو زندگی بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔
نفس اور شیطان انسان کے دو بڑے دشمن ہے۔ ان دونوں سے بچنے کی مکمل کوشش کرنی چاہئے۔ جس نے اپنے آپ کو ان دو دشمنوں سے بچا کر رکھا اس کو ہر قسم کی راحتیں دنیا اور آخرت میں نصیب ہوں گی۔ اتباع نفس و خواہش ہی انسان کو اللہ سے دور کرتی ہے۔ سرور دوعالم ؐنے قیامت کی علامات میں سے شہوات کا اتباع اور خواہش نفس کی طرف میلان جیسے دو اہم خرافات کا پایا جانا بھی فرمایا ہے۔ نفس کو بے لگام چھوڈ دینا حیوانوں کا کام ہے انسانوں کا کام نہیں۔
رمضان کا مہینہ تو اسی فلسفے سے بھرا پڑا ہے۔ روزوں کے دوران ہم صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانا و پینا ہی نہیں چھوڑتے بلکہ نفسانی خواہش، بے ہودہ باتوں، برے خیالات، بری سماعت اور بد نگاہی سے بھی بچنے کی بے حدکوشش کرتے رہتے ہیں۔ اور افطار کے موقع پر حلال کمائی سے خریدی گئی شئے ہی تناول کرتے ہے۔ اس طرح رمضان المبارک کا مہینہ تزکیہ نفس حاصل کرنے کا ایک بہترین تربیتی کورس ہے جس سے آگے انسان کو باقی 326 دنوں یعنی گیارہ مہینوں کو اپنانے جانا ہے۔ روزے تو انسان کی خواہشات کو توڑتا ہے جن سے انسان کے اندر نفسانی خواہشات کا ابھرنے میں کمی ہی واقع نہیں ہو جاتی ہے بلکہ بالکل ہی ختم ہو جاتی ہے۔
مشہور و معروف ریشی بزرگ حضرت شیخ العالمؒ اپنے کلام میں فرماتے ہیں کہ
توش بندء نمازٍ بییہ رمضانس
تی با یہ لگہ یو پانس سیتی
کن تھاو شلوگن حضرت قرآنس
یتھ جا یہ دبراے واڑے کتی
یعنی اے مسلمان ذرا صوم و صلوٰت کی پابندی کر کیونکہ یہ اعمال ہی وہاں پر ساتھ دیں گے
گوش بھر آواز قرآن پر سدا رکھ کیونکہ اس کی پیر وی ہی میں ہے بس تیری نجات (ترجمعہ از ڈاکٹر عبدالعزیز حاجنی)
انسان کی پاکیزہ فطرت اور اس کی تقویت و استحکام کے سلسلے میں اسلام کا موقف سامنے آچکا ہے۔ اسلام شریر طبیعتوں کو متنبہ کرتا ہے۔ اْن کی باگ ڈور عقل ِ سلیم کے حوالے کرتا ہے اور پاکیزہ فطرت کے سامنے اسے جھکنے اور اپنے آپ کو خدا کے حوالے کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اسی طرح اس مقصد کے لیے بھی انسان کو تیار کرتا ہے کہ گناہ کی لذت اور شیطان کی چالوں و وسوسوں سے نجات پاسکے کیونکہ یہ انسان کو بہکاتی رہتی ہیں۔ ایسے اس کی منزل سے بھٹکا دیتی اور اس کے بلند مرتبے سے گِرا دیتی ہیں۔ الحاد کے بجائے ایمان پیدا کرنا، فسق و فجور کی جگہ تقویٰ و خداترسی کی روش اپنانا، خدا کے سلسلے میں پراگندہ فکری کے بجائے دینداروں کی وحدتِ فکر و عمل، یہ وہ مظاہر ہیں جو یہ بتلاتے ہیں کہ انسان اپنی فطرت سلیم پر باقی ہے۔
اسلام جس چیز کی طرف سب سے پہلے انسان کو متوجہ کرنا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ ہوائے نفس کے ساتھ دوڑنا اور اس کی نہ ختم ہونے والی خواہشات کی پیروی، کبھی نفس کو مطمئن اور شکم سیر نہیں کرسکتی، اسے حق و راہ راست کبھی گوارا نہ ہوگا۔ نفس ہمیشہ چرنے چکنے اور حرص جوع البقر میں مبتلا رہتا ہے۔ اس لیے قرآن نے حرام کردہ خواہشات کی اتباع سے روک دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی‘‘۔ (القصص:26)
جب نفس کے اندر رذائل پرورش پاگئے اور ان کا نقصان ظاہر ہوگیا اور خطرہ بڑھ گیا توآدمی اپنے دین سے ایسے ہی نکل گیا جیسے کوئی ننگا کپڑے کے حدود سے نکل جاتا ہے۔ اسی لے نفس کو دنیوی غلاظتوں سے پاک کرنا، شریف و پاکیزہ معیار تک لانا زکوٰۃکی اولین حکمت ہے جس کی بنیاد پر نبی کریمؐ نے اس صدقہ کو وسیع معنوں میں لیا ہے۔ حضرت ابوذرؓ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا ’’کامیاب ہوگیا وہ شخص جس نے اپنے قلب کو ایمان کے لیے خالص کرلیا، اپنے دل کو سلیم الطبع رکھا۔ اس کی زبان سچی رہی۔ اس کا نفس مطمئن رہا اور اس کی فطرت راہِ راست پر رہی‘‘۔ (ابن حبان)
یہ بات ضروری ہے کہ نفس کی حرام کردہ خواہشات اور اس کے منقول مطالبات کے درمیان فرق ملحوظ رکھا جائے۔ قرآن کریم نے اس پہلو پر خصوصی توجہ دی اور بڑی صراحت کے ساتھ نفس کی پاکیزہ خواہشات اور جائز مرغوبات کو مباح قرار دیا اور اسے حلال و طیب چیزوں کے استعمال کا موقع دیا اور اس قابلِ احترام و جائز دائرے میں نفس پر پابندی، حرمت اور تنگی کی مداخلت کو سوء اور فحشاء کے ہم مثل قرار دیا اس لیے کہ اس طرح فحش و بدکاری جیسی برائیوں کا دروازہ کھلتا ہے۔
اسلام کو یہ ناگوار ہے کہ اس طرح کی طبیعتوں اور خصلتوں کو سختی اور سزا سے دبادیا جائے یا ان کی خوش آئند اور چاپلوسی کی جائے وہ ان کے لیے معتدل طریقہ کار اختیار کرتا ہے جو افراط و تفریط سے پاک ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسلام فطرت انسانی کا احترام کرتا اور اپنی تعلیمات کو اس کی آواز قرار دیتا ہے اور ان کے نقطہ نظر کی اصلاح کرتا ہے اور ہوائے نفس کو صحیح رْخ پر موڑ دیتا ہیں۔ لہٰذا انسان کو نفس ِ مطمئنہ جس کے اندر صاف و پاک زندہ دل ہو کو اختیار کرنا چاہئے نہ کہ نفس عمارہ یا نفس لوامہ کو جو ہر وقت بندہ پر حاوی ہو کر اْس سے مختلف رنگوں، قلیل لذتوں اور زہریلی چیزوں کی طرف راغب کرتی رہتی ہیں۔ نفس مطمئنہ میں موجود دل ان تمام نفسانی خواہشات سے صاف ہوگا جن سے اللہ اور اس کے رسولؐ ناراض ہونگے۔ ایسے نفس پر شیطان کا کوئی اثر نہیں ہوتا ،کیوںکہ یہ نفس اپنے مالک حقیقی کا نافرمان نہیں ہوتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ’ من عرف نفسۂ فقد عرف ربہ‘ جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا ہے۔اللہ ہم سب مسلمانوں کو ہمیشہ نفس مطمئنہ پر قائم رکھیں اور ماہ رمضان کی تمام برکات سے فیضیاب فرمائیں۔آمین
پتہ۔ ہاری پاری گام ترال کشمیر
رابطہ نمبر-9858109109