اگر میں آپ کو یہ بتادوں کہ دورانِ سفر والدین نے اپنی نو زائیدہ بچی کو جان بوجھ کر جنگل میں جنگلی جانوروں کی خوراک بننے کے لئے چھوڑ دیا مگر وہ ننھی سی جان اتفاقاً بچ گئی اور جوان ہونے کے بعد اپنے وقت پر ایک بہت بڑے ملک کی ایک مشہور ملکہ بن گئی تو کیا آپ اُس بات پر اعتبار کریں گے ۔۔۔۔نہیں نا۔۔۔۔مگر امر واقعہ یہی ہے ،ایسا ہی ہوچکا ہے۔ٹھہریئے!میں آپ کو پوری بات تفصیل کے ساتھ بتاتا ہوں۔
مشہور مغلیہ بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کے کارناموں ،فتوحات ،بہترین ملکہ انتظام ،رواداری اور منصفانہ دور حکومت کی شہرت پھیل کر جب ملکِ ایران پہنچی تو وہاں کے ایک معروف دانش مند اور ہُنر مند شخص مرزا غیاث الدین بیگ نے قسمت آزمائی کرنے کے لئے ہندوستان کا رُخ کرنے کا ارادہ کرلیا۔اُس وقت بشمول ایران دنیا کے اطراف سے پیر فقیر ،فضلاء ،شعرا اور ہنر مند ہندوستان کی طرف آرہے تھے۔مرزا کی بیوی عصمت آرا کے اُس وقت پائوں بھاری تھے ۔چونکہ سفر کا ارادہ بن چکا تھا اور موسمی حالات بھی ساز گار تھے ،اس لئے اُنہیں حالات میں وہ سفر کے لئے نکل پڑے ۔قندھار کے شہر میں پہنچتے ہی بیگم غیاث الدین نے ایک خوبصورت بچی کو جنم دیا جس کا نام مہر النساء رکھا گیا ۔یہ واقعہ سن ۱۵۷۷ء کا ہے ۔چونکہ زچگی کے باعث ماں کا جسم کمزور پڑچکا تھا ،اُس پر دور دراز کا سفر ،وہ بھی موٹر گاڑی یا کشتی پر نہیں بلکہ اونٹ گھوڑے اور کبھی کبھی پاپیادہ،اس لئے ماں باپ نے دل پر پتھر رکھ کر بچی کو بوجھ سمجھ کر اُس ننھی منی جان مہر النسا کو جنگل میں چھوڑ دیا۔ابھی وہ زیادہ دور نہیں گئے تھے کہ سوئے اتفاق وہاں سے ایک بڑے تاجر کا ایک بڑا قافلہ گذرا ۔تاجر نے ایک ننھی سی جان کو جب جنگل میں سرِ راہ ہُمکتے ،مسکراتے اور ہاتھ پیر چلاتے دیکھا تو وہ اُس سے آنکھیں نہ چرا سکا ۔اُس نے بچی کو اٹھایا اور اپنے ساتھ لے کر آیا۔
کچھ دور آنے کے بعد تاجر کا قافلہ مرزا غیاث کے قافلے کے ساتھ مل گیا جہاں انہوں نے ڈیرہ ڈال دیا تھا ۔یہاں عصمت آرا نے اپنی بچی کو پہچان لیا ،اُس کی ممتا عود کر آئی اور اُس نے پھر بچی کو گود میں لے کر پیار کرنا شروع کیا اور اس طرح سے مہر النساء پھر اپنے والدین کے ساتھ ہی جُڑ گئی۔سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے چاہنے کے مقابلے میں میں انسان کی چاہت کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہوتی ہے۔
اُس زمانے میں مغلیہ دربار میں ایرانی افسروں اور ہُنر مندوں کی بڑی قدر اور آوبھگت ہوتی تھی اس لئے جب مرزا غیاث بیگ دارالسلطنت آگرہ پہنچا تو اُس نے بھی دربار تک رسائی حاصل کرنے کے لئے تگ و دو شروع کی۔کچھ ایرانی شناسائوں کی مدد سے آخر کار غیاث بیگ فتح پور سیکری میں اکبر بادشاہ سے ملا اور بادشاہ نے اُسے فوراً ہی شاہی ملازمت میں لے لیا ۔چونکہ بیگ بذاتِ خود ایک قابل ،مہذب اور ہر فن مولا شخص تھا اس لئے بہت جلد آگے بڑھتا گیا ،ترقی کرتا گیا حتیٰ کہ جب سن ۱۶۰۵ء میںبادشاہ اکبر فوت ہوا تو وہ جلد ہی شہزادہ سلیم نورالدین جہانگیر کی نظروں میں آگیا ،جس نے تخت پر بیٹھتے ہی مرزا غیاث الدین کو اپنا وزیر بنالیا ،اُس پر انعامات کی بارش کی،بھروسہ کیا اور اُسے اعتماد الدولہ کے خطاب سے بھی لقب کیا۔
لیل ونہار کا سفر جاری رہا ۔وقت کی تیکھی احائوں اور شاہی ایوانوں کی مسحور کُن خوشبوئوں نے مہر النساء کے انگ و اعضاء میں برقی جولانیاں بھر دیں۔اُس پائل کی جھنکار اور جھانجھن کی مست و مدھر آہنگ نے اُسے باپ کے گھر سے وداع ہونے کے لئے مجبور کردیاجس کی ممکنہ وجہ یہ بنی کہ ایک بار مہر النساء محل کے چھجے سے محو نظارہ تھی کہ وہاں سے مغلیہ فوج کا ایک افسر علی ؔقلی کا گذر ہوا ،اُس نے بام پر شعلہ جوالا کی طرف سے اپنے آپ پر برق اندازی ہوتے دیکھ کر اُس سے نہ رہا گیا تو وہ ایکدم بصد احترام پکار اُٹھا۔
’’ماہ سبز پوش بر بام نظرمے آید‘‘یعنی ہرے رنگ کا ماہتاب چوبارے سے جلوہ گر ہے۔چونکہ برق اندازی کرنے والی مہہ جبین بھی کسی سے کم نہ تھی اُس نے بھی انگوٹھا دکھاکر ترکی بہ ترکی جواب میں کہا ۔
’’بہ زور و بہ زاری و بہ ذر نمی آید‘‘یعنی زور زبردستی ،منت سماجت اور مال و زر کا لالچ دینے کے باوجود بھی وہ حاصل نہیں ہوسکتا ۔
امیر علیؔ قلی استانجو ایک ادنیٰ درجے کا ایک عراقی امیر تھا ،صرف سترہ سال کی عمر میں مہر النساء کی شادی اُس کے ساتھ کردی گئی ۔چونکہ وہ بھی مرزؔا غیاث بیگ کا ہم مسلک یعنی اہلِ تشیع سے تھا ،اُس لئے شادی کرانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی گئی۔مذکورہ علیؔ قلی تاریخ میں شیر افگن ؔکے نام سے اس لئے جاناجاتا ہے کیونکہ وہ بڑا قوی اور بہادر تھا اور ایک بار اُس نے جہانگیر بادشاہ کی ایما پر ایک شیر سے پنجہ لڑایا تھا،جس پر بادشاہ نے خوش ہوکر اُسے انعام و اکرام سے نوازا تھا اور ساتھ میں ہی شیر افگن کا خطاب بھی مرحمت فرمایا تھا ۔ذاتی طور پر وہ ایک اکھڑ اور بدمزاج شخص تھا،پاس و لحاظ ،دنیا داری بلکہ مہذبانہ رکھ رکھائو سے وہ بالکل عاری تھا۔بادشاہ جہانگیر اُس کی بڑی قدر کیا کرتا تھا۔اِسی وجہ سے اُس کی ذاتی کمزوریوں کے باوجود اُس نے شیر افگن کو بنگال میں بردوانؔ صوبے کا صوبے دار بناکر وہاں تعینات کیا تھا ۔چونکہ اس عزت افزائی کی خاطر خواہ قدر کرکے اُسے صوبے کے حالات سدھارنے اور اپنے آپ کو عوام میں مقبول بنانے کے لئے کام کرنا تھا مگر برعکس اس کے اُس نے کوئی بھی اچھا کام نہیں کیا بلکہ اپنے لئے کئی دشمن پیدا کرلئے۔جب دارالسلطنت میں اس طرح کی مسلسل شکایتیں موصول ہوتی رہیں تو بادشاہ نے اس بارے میں تحقیقات کرنے اور فوری رپورٹ پیش کرنے کے لئے ایک اور صوبے دار قطب الدینؔ خان کو روانہ کیا ۔جب یہ وفد شیر افگن ؔکے ہاں پہنچا تو معاونت کرنے کے بجائے وہ غصے میں آپے سے باہر ہوگیا اورر تلوار نکال کر وفد پر حملہ کردیا ۔چونکہ وفد کے لوگ بھی اُس کی خصلت سے واقف ہی تھے اس لئے وہ پہلے ہی سے تیار تھے ۔انہوں نے مدافعت کی اور اس تصادم میں شیر افگن مجروح ہوکر گِر پڑا ۔اُس کو گرانے والا ایبہؔ خان نامی ایک کشمیری چک تھا ۔جیساکہ آگے ہی عرض کیا جاچکا ہے کہ شیر افگن بڑا بہادر اور جی دار فوجی تھا اُس نے لٹکتی ہوئی آنتوں کو ایک ہاتھ سے سنبھال کر ایبہ ؔخان پر حملہ کیا اور اس طرح دونوں ایک ساتھ راہیٔ ملک عدم ہوگئے۔
(مضمون جاری ہے۔اگلی قسط انشاء اللہ اگلے ہفتہ شائع کی جائے گی)
رابطہ نمبر۔9596041360