ہارون شاہ
انسان فطرتاًــــــــ ــــــــ عدل پسند ہے۔ عدل عام انسان کی نفسیات اور اس کی فطرت کا تقاضا ہے۔ عدل کے لئے جدوجہد انسانی تاریخ کی سب سے بڑی اور طویل جدوجہد رہی ہے۔ ایک عادلانہ اور منصفانہ نظام کی تلاش انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
تاریخ کے وسیع دائروں پر نظر ڈالیں تو طرح طرح کے مصلحین، شیریں مقال واعظ، آتش بیان خطیب، فلسفی، بادشاہ و حکمران، جنگجو و فاتحین اور انقلابی طاقتیں نگاہوں میں رقصاں نظر آتی ہیں جنہوں نے نقشہ حیات بار بار زیر و زبر کیا ہے ۔لیکن یہ کہنا دشوار ہے انسانی تمدن میں پہلی بار کوئی سلطنت کب وجود میں آئی اور کسی سیاسی نظام نے کب عملی شکل اختیار کی۔ البتہ زمانہ قدیم میں سیاست کو ایک علمی و فنی شکل دینے کی جو کوشش ہوتی رہی ہے ،اسکا ضرور سراغ ملتا ہے۔اس سلسلے میں سب سے پہلے سقراط کا نام لیا جاتا ہے۔ سقراط نے اپنے شاگرد افلاطون کو زبانی تعلیم دی اور پھر افلاطون نے اپنے استاد کی فکر کو لے کر اس میں اپنے افکار کا اضافہ کر کے ”جمہوریہ”(Republic) تالیف کی ،جسے ‘سیاسی نظام’ پر پہلی کتاب مانا جاتا ہے۔
پھر افلاطون کے شاگرد ارسطو آئے اور انہوں نے اسی موضوع پر ‘سیاست’تالیف کی۔ اسکے بعد ماہرین قریب قریب متفق ہیں کہ سیاست پر بعد میں جو لکھا گیا یا سوچا گیا وہ قریب قریب اسی کا سرچشمہ ہے۔
یہ بات اس لحاظ سے تو قابل تسلیم ہے کہ خاص اس موضوع پر جو قدیم ترین فکری مآخذ اہل علم کے سامنے موجود ہے وہ یہی ہے لیکن یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ اس سے پہلے انسان علم سیاست، شریعت یا نظام زندگی سے بالکل بے بہرہ تھا کیونکہ فرعون جیسی شخصیت کی سلطنت اور انبیاء ؑ نے عدل اور قسط پر مبنی جو نظام برپا کیے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔
سقراط، افلاطون، ارسطو، تھیوفراسٹس اور دیگر فلسفیوں کے نظریات کا پیش خیمہ یہ ثابت ہوا کہ یونان جیسی سلطنت وجود میں آئی لیکن حضرت عیسیؑ کے ظہور سے انکے نظریات ماند پڑھتے گئے۔
ابنِ خلدون لکھتے ہیں:’’اور جب یونانیوں کا دور ختم ہوگیا، قیصرانِ روم کے اقتدار کا دور آیا اور انہوں نے مسیحی مذہب اختیار کر لیا تو پھر ان علوم کو بالکل ہی چھوڑ دیا۔۔۔ اور یہ علوم کتابوں اور رسالوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کتب خانوں کے اندر پڑے رہے۔‘‘ (ابن خلدون، تاریخ، 1: 629)
رحمت العالمینؐ کی بعثت ایسے حالات میں ہوئی جب دور وحشت چل رہا تھا اور پوری انسانیت تاریکیوں میں ڈوبی پڑی تھی۔ ہندوستان، مصر، بابل،یونان اور چین میں عدل و انصاف کا تصور بھی معدوم ہو چکا تھا۔ فارس اور روم میں ظاہری چمک دمک عروج پر تھی لیکن اندرون تاریک تر اور بدترین مظالم سے لبریز تھا۔ زندگی کے زخموں سے تعفن اٹھ رہا تھا۔ جاگیر داروں اور مذہبی عناصر کی ملی بھگت نے عام انسان کی زندگی تلخ بنا دی تھی جبکہ بالادست طبقوں کی عیاشیوں اور نفس پرستی نے اخلاقی روح کو مجروح کر کے رکھا تھا۔
حادی عالمؐ نے محض دو دہائیوں میں ایک ایسا نظام برپا کیا جس نے پوری دنیا کا نقشہ ہی بدل دیا اور مختصر ترین وقت کے اندر عدل و انصاف کا ایک نظام برپا ہوا، جس نے روئے زمین پر وہ بہاریں دکھائی جس کی یہ زمین صدیوں سے منتظر تھی۔ حضور اکرمؐ نے زندگی کو مختلف حصوں میں تقسیم نہیں کیا۔ ایسا نہیں ہوا کہ اخلاقیات کے لیے ایک الگ فلسفہ اختیار کیا ہو اور معاشی مسائل کے لیے کوئی اور، تہذیب و تمدن کے لیے علیحدہ اصول ہوں اور سیاست کے لیے کچھ اور بلکہ زندگی کے تمام متحدہ ہائے نظریات کو یکجا کر کے ایک ہی فلسفہ کے تحت ایک ایسا عادلانہ نظام برپا ہوا کہ انسان جو ایک نظام عدل کے لیے عقلی گھوڑے دوڑا رہا تھا، اسکی پھر ضرورت تک محسوس کی گئی ہو۔
اسلام جن نظریات کے ساتھ روئے زمین پر وارد ہوا اسکی ترجمانی حضورؐ کے ایک صحابی ربعی بن عامر ؓ نے رستم کے دربار میں ان الفاظ میں کی۔ جب رستم نے پوچھا کہ آپ لوگ کیا چاہتے ہیں؟حضرت ربعی بن عامرؓ نے تاریخی جملہ کہا:’’اللہ نے ہمیں اس لیے مبعوث کیا ہے کہ ہم اللہ کے بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی کی طرف لائیں اور دنیا کی تنگیوں سے نکال کر اس کی وسعتوں میں لے جائیں اور دنیا کے مختلف مذاہب کے ظلم و جور سے اسلام کے عدل و انصاف والے نظام کی طرف لائیں۔‘‘
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اقتدار کی بھوک اور بادشاہت کی شاہانہ عیش و عشرت نے مسلمانوں سے وہ عدل و انصاف اور کردار فراموش کروا دیا۔ پہلے تو اسلام کا عادلانہ نظام ملوکیت میں بدلا اور پھر کاٹ کھانے والی ملوکیت بھی صفہ ہستی سے مٹنے کے کگار پر پہنچ گئی۔ایک ایک کر کے وہ ممالک جو اسلام کے زیر سایہ آچکے تھے، چھنتے چلے گئے لیکن اسلامی علوم سے فیضیاب ہونے والے علماء نے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔۔ اس سے پہلے یورپ تاریک ترین دور سے گزر رہا تھا لیکن مسلمانوں کے علوم کے باعث ایک نئی قوت سے جاگ اٹھا۔ روشن خیال دماغ پھر سے ایک عادلانہ اور منصفانہ نظام کی تلاش میں سرگرداں نظر آنے لگے۔ چونکہ اسلام جو ایک مکمل نظام حیات کی شکل میں عملی نمونے کی مثال پیش کر چکا تھا، اسوقت ملوکیت کے لباس میں اسلام مسخ شدہ حالت میں پیش کیا جا رہا تھا لیکن نظروں کو خیرہ کرنے والی مغربی تہذیب کی یلغار جب ملوکیت پر برسی تو اسکے بھی بال و پر نکل گئے۔ نئی ایجادات، پسماندگی کے علاج اور سائنسی ترقی کے عروج کے بعد ایک عادلانہ نظام کی طلب نے فرانس کا انقلاب برپا کیا ،لیکن اشخاص بدلے گئے ،حالات جوں کے توں رہے۔ روشن ذہن لوگ خود ساختہ نظام بناتے گئے، متعد انقلاب برپا ہوئے لیکن کوئی مطمئن کن نظام وجود میں نہ آسکا۔ سقراط، افلاطون، ارسطو پھر سے ٹٹولے گئے لیکن ندارد۔ روئے زمین پر نئے نئے فلسفی نمودار ہوئے۔ میکاولی نے اپنے خیالات کے گھوڑے دوڑائے۔’وہ یہودی فتنہ گر’کارل مارکس کا کیمونسٹ نظریہ روس کے انقلاب کا کارن بنا، لیکن خود ساختہ انسان کے بنائے گئے نظام گھسی پٹی ٹوپی کی طرح اُچھل کود کرنے کے بعد مرتے گئے اور انسان کے ایک عادلانہ نظام کی پیاس تشنہ طلب ہی رہی۔
انارکیزم ،اشتراکیت ،قدامت پسندی ،کارپوریٹزم ،جمہوریت، ماحولیات ، فاشزم اور نازی ازم ،شناخت کی سیاست ،لبرل ازم ،آزادی پسندی ،قوم پرستی ،اپولزم ،ترقی پسندی،مذہبی سیاسی نظریات، طنزیہ اور مخالف سیاست،سماجی جمہوریت،سوشلزم،ہم آہنگی،ٹرانس ہیومینزم ،کیپٹلیزم، سیکولرازم جیسے خود ساختہ نظام منظر شہود پر آئے اور یکے بعد دیگرے اپنی اپنی کمزوریوں کے کارن مسترد ہوتے گئے۔علاقائی، ملکی اور عالمگیر جنگیں لڑی گئی لیکن کوئی نظام نہ ٹک سکا۔
لیکن خودمختار، لبرل جمہوریت جب وجود میں آئی تو لوگوں نے راحت کی سانس لی، حتی کہ فرانسس فوکویاما نے 1992 میں تاریخ کا خاتمہ اور آخری آدمی(End of History and the Last Man) کتاب لکھی اور یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ خودمختار لبرل جمہوریت بنی نوع انسان کے نظریاتی ارتقاء کا اختتامی نقطہ اور انسانی حکومت کی حتمی شکل ہے اور آج کے بعد انسان کو کسی اور نظام کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔چونکہ انسان خود ساختہ نظام بنانے میں تھک چکا اور ہار مان چکا ہے ،دوسری جانب ایک عادلانہ نظام زندگی کی جتنی شدید ضرورت موجودہ دور کو درپیش ہے، انسانی تاریخ میں اتنی شدید ضرورت شاید ہی پیش آئی ہو۔ لہٰذا اب انسان بیٹھ کر یہ انتظار کرنے لگا کہ آئندہ حالات کون سا رخ اختیار کرتے جائیں گے۔
محض ایک ہی سال گزرا کہ فرانسس فوکویاما کے شاگرد، سیمول ہنٹنگٹن کی مشہورِ زمانہ کتاب ’تہذیبوں کا تصادم اور عالمی نظام کی تشکیل نو‘ منظر عام پر آئی۔ 1993 میں سوالیہ نشان کے ساتھ جرنل آف فارن افئیر میں چھپنے والا سیمول ہنٹنگٹن کا یہ ارٹیکل تین برس بعد 1996 میں کتاب کی صورت میں چھپا، جس نے فرانسس فوکویاما کی پیشن گوئی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آنے والا دور تہذیبوں کے تصادم کا دور ہوگا۔ (2015 میں فوکویاما نے سینکڑوں انٹرویوز میں اعتراف کیا جمہوریت خود اپنی موت مرنے والی ہے اور قریب قریب بستر مرگ پر ہے)
ہنٹنگٹن کے خیال میں آئیڈیالوجیکل کولڈ وار کے نتائج سے پیدا ہونے والا خلا دراصل مذہبی فکر سے پرہوتا چلے گا جو ایک شدید ترین سیاسی قوت کی شکل میں ’اپنی تہذیبی شناخت‘ کے پس منظر میں غیرمغربی اقوام خصوصاً اسلامی تہذیبی دنیا میں پھیلتی چلی جائے گی۔ جبکہ دوسری جانب چائنیز ایسٹ ایشین ممالک میں نمو پاتی ہوئے اقتصادی توانائی ایک نئے تہذیبی ماڈل کی فارم میں غیر مغربی اقوام کے لیے چیلنج بنتی جائے گی۔ اسی اثنا میں تہذیبوں کے ٹکراؤ کو مذہبی ٹکراؤ(Clash of Faiths) سے جوڑا گیا ،کیونکہ تہذیبیں مذہب سے وجود میں آتی ہیں۔ اسی بنیاد پر یہودیت نے حالات کو ہایجیک کرنے کی کوشش تیز تر کیں۔ چائنیز تہذیبی جارحیت پر اُترا۔ ہندوتوا نے سر ابھارنے کی کاوشیں بڑھا دی۔ لیکن ایک بھی یہ دعوی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ دنیا کو جس نظام کی تلاش ہے اور دنیا جس نظام زندگی کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہے ،وہ انکے پاس موجود ہے۔
اسلام کے پاس ماڈل بھی ہے، تاریخی مثال بھی(بدقسمتی یہ ہے آج کے دور میں کوئی ایسا پریکٹیکل ماڈل نہیں ،جسے دنیا کے سامنے بطور مثال پیش کیا جا سکے) اور غیر جانبدار ذہنوں کا اعتراف بھی۔ ایک عادلانہ نظام زندگی کی تلاش میں انسان جہاں جہاں بھٹکتا پھرتا رہا، ایسا نہیں کہ کسی نے الاسلام کے عادلانہ نظام کی وضاحت نہ کی ہو۔ مسلمانوں کے برعکس غیر مسلم اسکالر اور فلسفیوں نے بارہا اسلام کے حتمی نظام عدل کی طرف توجہ دلائی لیکن مذہبی تعصب نے اس جانب حالات کا رخ موڑنے نہیں دیا۔
جارج برنارڈ شا پیغمبر اسلامؐ کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’میں نے ہمیشہ دین محمدی کو اس کی حیرت انگیز جانفشانی کی وجہ سے اعلیٰ درجہ پر رکھا ہے۔ یہ واحد مذہب ہے جو مجھے وجود کے بدلتے ہوئے مرحلے سے ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ،جو ہر دور کے لیے اپنے آپ کو دلکش بنا سکتا ہے۔‘‘
وہ حضرت محمدؐ کے بارے میں مزید فرماتے ہیں:’’مجھے یقین ہے کہ اگر ان جیسا آدمی جدید دنیا کی آمریت سنبھال لے تو وہ اس کے مسائل کو اس طریقے سے حل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، جس سے اس کے لیے ضروری امن اور خوشی ملے گی۔میں نے محمدؐ کے عقیدے کے بارے میں پیشین گوئی کی ہے کہ یہ کل کے یورپ کے لیے قابل قبول ہوگا ،جیسا کہ آج کے یورپ کے لیے قابل قبول ہونے لگا ہے۔‘‘(حقیقی اسلام، از سر جارج برنارڈ شا)
نپولین بوناپارٹ نے کہا :’’مجھے امید ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب میں تمام ممالک کے تمام عقلمند اور پڑھے لکھے آدمیوں کو اکٹھا کر سکوں گا اور قرآن کے اصولوں پر مبنی ایک یکساں حکومت قائم کر سکوں گا جو واحد سچا راستہ ہے اور جو تنہا انسانوں کو امن اور سعادت کی طرف لے جا سکتا ہے۔‘‘
اگر تعصب کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو یہ اظہر من الشمس ہو چکا ہے کہ اسلام واحد مذہب ہے جو دنیا کو وہ عدل و انصاف کا نظام فراہم کر سکتا ہے جس کی دنیا صدیوں سے متلاشی ہے۔ وقت کا تقاصا ہے اور حق بنتا ہے کہ دنیا ایک بار اس نظام کو پرکھ لے کہ آیا جو دعوی کیا جا رہا ہے کیا وہ حقیقی معنوں میں دنیا کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
(مضمون نگار ایم ایس سی کمیسٹری ہیں)
رابطہ۔6006517385
[email protected]