محمد الیاس متوی
رات اپنی سیاہ چادر آہستہ آہستہ زمین پر پھیلا چکی تھی۔ گھر کے صحن میں برفیلی ہوائیں سرگوشیاں کر رہی تھیں۔ آسمان پر چاند کسی درویش کی طرح خاموشی سے اپنی مدھم روشنی بکھیر رہا تھا۔ فضا میں عجب سی سنجیدگی تھی۔
مدبر اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔ سامنے میز پر بارھویں جماعت کا نتیجہ رکھا تھا، ایک کاغذ، مگر اس پر اس کے آنے والے کل کی جھلک ثابت تھی۔ وہ کبھی نتیجے کو دیکھتا، کبھی کھڑکی سے جھانکتی چاندنی کو۔
دروازہ ہلکے سے چرچراہٹ کے ساتھ کھلا۔
آبا جان اندر آئے۔ ہاتھ میں تسبیح تھی جس کے دانے ان کی انگلیوں کے لمس سے آہستہ آہستہ سرک رہے تھے۔ چہرے پر سکون تھا، جیسے دل مطمئن ہو۔
“بیٹا،” انہوں نے محبت بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “مبارک ہو۔ تم نے آدھا سفر طے کر لیا ہے۔”
مدبر فوراً ادب سے کھڑا ہو گیا۔
’’جزاک اللہ، ابا جان۔ یہ سب آپ کی دعاؤں کا ثمر ہے۔‘‘
ابا جان کرسی پر بیٹھ گئے۔ چند لمحے خاموشی رہی، وہ خاموشی جو لفظوں سے زیادہ معنی رکھتی ہے۔ پھر انہوں نے گہری سانس لی۔
بیٹا، کامیابی خوشی ضرور دیتی ہے مگر اس کے ساتھ ذمہ داری کا بوجھ بھی بڑھا دیتی ہے۔ یاد رکھو، وقت وہ خزانہ ہے جو ایک بار ہاتھ سے نکل جائے تو پھر ہاتھ نہیں آتا۔ جو وقت کی قدر نہیں کرتے، وقت بھی انہیں بے قدر کر دیتا ہے۔
یہ جوانی کے دن بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ انہیں فضول مشغلوں کی نذر مت کرنا۔ اپنے مقصد کو سامنے رکھو اور اس وقت تک نہ رکنا جب تک اسے پا نہ لو۔ فرصت کے لمحے بھی سرمایہ ہوتے ہیں، عقلمند وہ ہے جو انہیں بھی ضائع نہیں کرتا۔‘‘
مدبر ہمہ تن گوش تھا۔
ابا جان نے میز پر رکھا موبائل اٹھایا۔ اس کی اسکرین پر ہلکی سی روشنی جھلملائی۔
’’یہ چھوٹی سی چیز… اگر درست ہاتھوں میں ہو تو علم کا سمندر ہے اور اگر غلط راستے پر لے جائے تو اندھیری کھائی ہے۔ یہ وقت کو یوں نگل جاتی ہے جیسے آگ لکڑی کو اور آخر میں صرف پچھتاوے کی راکھ باقی رہ جاتی ہے۔‘‘
مدبر کی نظریں جھک گئیں۔ اسے اپنے کئی ضائع شدہ گھنٹے یاد آ گئے۔
ابا جان نے نرمی سے کہا،
’’بیٹا، تم اس عمر میں ہو جہاں خواہشات آندھی کی طرح اٹھتی ہیں۔ دل کبھی ایک سمت دوڑتا ہے، کبھی دوسری طرف مگر یاد رکھو، لمحوں کی لغزش بعض اوقات پوری زندگی کا بوجھ بن جاتی ہے۔ انسان بعد میں بہت پچھتاتا ہے، مگر گزرا ہوا وقت لوٹ کر نہیں آتا۔‘‘
اتنے میں صحن سے اذانِ عشاء کی پُرسوز آواز بلند ہوئی۔
فضا جیسے اور بھی باوقار ہو گئی۔
ابا جان کی آواز میں عزم کی مضبوطی آ گئی۔
’’نماز کو کبھی نہ چھوڑنا۔ عبادت انسان کو سیدھی راہ پر قائم رکھتی ہے۔ جب دل کمزور پڑے تو سجدہ کر لینا، وہاں دل کو سکون ملتا ہے۔
اگر کبھی دنیا کی چمک دمک تمہیں بہت دلکش لگنے لگے تو کسی ہسپتال جا کر مریضوں کو دیکھ لینا، یا قبرستان جا کر خاموشی سے دعا کر آنا۔ وہاں جا کر انسان کو اپنی حقیقت یاد آ جاتی ہے، اور غرور خود بخود ٹوٹ جاتا ہے۔‘‘
مدبر کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
’’ابا جان، میں کوشش کروں گا کہ آپ کو مایوس نہ کروں۔‘‘
ابا جان نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
’’مجھے نہیں، بیٹا، اپنے رب کو راضی کرنا۔ دنیا تو مسافر خانہ ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ تم ایسے انسان بنو جس کے نام کے ساتھ نیکی جڑی ہو۔ اللہ کو وہ عمل سب سے زیادہ پسند ہے جس سے کسی انسان کو فائدہ پہنچے۔‘‘
مدبر نے خاموشی سے موبائل بند کیا۔ کتاب کھولی۔ دل ہی دل میں عہد کیا کہ وہ وقت کو اپنی انگلیوں سے پھسلنے نہیں دے گا، صبر کو اپنا ساتھی بنائے گا اور اپنے مقصد تک پہنچ کر ہی دم لے گا۔
اس رات صحن میں صرف چاندنی نہیں تھی،
ایک باپ کی دعا بھی تھی،
جو خاموشی سے بیٹے کے مستقبل کو روشن کر رہی تھی۔
���
دراس لداخ
موبائل نمبر؛9469732903