منڈی//عرصہ دراز سے اپنی مانگوں کے حق میں احتجاج کررہے مہاتما گاندھی نریگا کے ملازمین کی ہڑتال گیارہویں روز میں داخل ہوگئی ہے۔یہ ملازمین جاب پالیسی اور دیگر مطالبات کے حق میں کام چھوڑ ہڑتال پر ہیں جس کی وجہ سے عام لوگ متاثر ہورہے ہیں۔نریگا ملازمین کاکہناہے کہ وہ مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھیں گے اور حکام کے سامنے سرخم تسلیم نہیں کریں گے۔منڈی میں احتجاج کررہے نریگا ملازمین نے کہاکہ حکام کی طرف سے طفل تسلیاں اور جھوٹے وعدے کرکے ان کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیاگیا۔ان کاکہناتھاکہ رواں برس جنوری میں حکومت کی طرف سے ان کے مطالبات کا جائزہ لیکر رپورٹ پیش کرنے کیلئے ایک کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی جسے دو ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا وقت دیاگیاتھاتاہم اب تک اس کی رپورٹ کا کوئی اتہ پتہ نہیں اور اب ایک اور کمیٹی تشکیل پائی ہے جس کا حشر نہ جانے کیا ہونے والاہے۔انہوں نے کہاکہ وہ وعدوں پر عمل نہ ہونے پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔نریگا ملازمین نے لورن میں بھی اپنا احتجاج جاری رکھاہواہے۔منڈی اور لورن کے نریگا ملازمین نے کہاکہ وہ اپنے جائز مطالبات پر احتجاج کررہے ہیں لیکن ان کی مانگوں کو پورا کرنے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیاجارہا اور نہ ہی سنجیدگی دکھائی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ریاست میں گورنر راج کے دوران انہیں مطالبات پورے کی امید ہے اور یقینا ان کا مستقبل تباہ ہونے سے بچانے کے اقدام کئے جائیں گے۔ملازمین نے کہاکہ اس سے قبل وہ وعدوں پر یقین کرلیتے رہے تھے تاہم اس بار ہڑتال مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گی۔نریگا ملازمین کی ہڑتال کے باعث مقامی لوگ متاثر ہورہے ہیں اور ان کے کام کاج وقت نہیں ہوپاتے۔مقامی لوگوں نے مانگ کی ہے کہ یہ ہڑتال ختم کروائی جائے اور انہیں پریشان نہ کیاجائے۔