ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں ایران کی ہر کشتی کو تباہ کرنے کا حکم
واشنگٹن //ایران کی بحری ناکہ بندی کے بیچ امریکی بحریہ کے سربراہ مستعفی کیوں ہوگئے ہیں۔امریکی بحریہ کے سیکریٹری جان سی فیلن ٹرمپ انتظامیہ سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق جان سی فیلن فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔امریکی بحریہ نے فیلن کی ٹرمپ انتظامیہ سے علحیدگی کی کوئی وجوہات بیان نہیں کیں۔فیلن ایسے وقت میں اپنے عہدے سے الگ ہوئے ہیں جب امریکہ آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کر رہا ہے۔جان سی فیلن اس مہینے عہدہ چھوڑنے والے دوسرے اعلیٰ سطحی امریکی فوجی عہدیدار ہیں۔
اس سے قبل آرمی چیف آف سٹاف رینڈی جارج عہدے سے الگ ہوئے تھے۔ادھرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ہر کشتی کو تباہ کر دیا جائے۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ کوحکم دیا ہے کہ چھوٹی یا بڑی ہر کشتی کو نشانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کے تمام 159 بحری جہاز سمندر کی تہہ میں جا چکے ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی مائن سویپرز آبنائے ہرمز کو صاف کرنے میں مصروف ہیں، آبنائے ہرمز میں کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم دے دیا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے دوسرے بیان میں کہا کہ ایران کو اپنے رہنما کے تعین میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، ایران کے اندر سخت گیر اور نام نہاد اعتدال پسندوں کے درمیان شدید اختلافات ہیں۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے۔ امریکی بحریہ کی اجازت کے بغیر کوئی جہاز داخل یا نکل نہیں سکتا، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک پابندیاں برقرار رہیں گی۔