چند سال پہلے امریکی محکمہ خارجہ نے یہ اعلان کیا تھا کہ جن افراد کے نام میں ’’محمد‘‘ آئے گا‘ اُن کو ویزا کارروائی میں خصوصی تفتیش کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آتے ہی اہل ایمان کی غیرت نے انگڑائی لی اور بے شمار بچوں کا نام ’’محمد‘‘رکھا گیا۔ یورپ کی ایک تازہ خبر نے ثابت کر دیا ہے کہ مسلمان‘ اُس کا تعلق خواہ کسی رنگ‘ نسل‘ قوم‘ زبان یا علاقے سے کیوں نہ ہو‘ اُس کیلئے سب سے بڑی نسبت اور سب سے اہم شناخت پیارے آقا رحمۃ للعالمین ؐ کا نام نامی اسمِ گرامی ہے۔اس خبر پر نظر پڑی تو دل خوشی اور تشکر کے جذبات سے بھر گیا۔ آئیے! آپ بھی بی بی سی سمیت عالمی ذرائع ابلاغ میں آنے والی یہ خبر میرے ساتھ پڑھ لیں:’’محمد نام انگلینڈ‘ ویلز کے بعد اب ناروے کے دارالحکومت ا وسلو میں بھی سب سے مقبول نام ہے‘‘۔حضرت جبیر بن مطعم ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنا، آپ فرمارہے تھے: ’’میرے (بہت سے) نام ہیں۔ میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی (مٹانے والا) ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعے سے کفر کو مٹائے گا۔ میں حاشر (جمع کرنے والا) ہوں کہ سب لوگ (روزِ قیامت) میرے بعد اٹھائے جائیں گے۔ میں عاقب (پیچھے آنے والا) ہوں کہ جس کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا۔‘‘ (بخاری، مسلم)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمائے گرامی میں سے ہر ایک اسم کے اندر معانی ومفاہیم کا ایک جہاں آباد ہے۔ صرف نام نامی اسم گرامی ’’محمد‘‘ کا ایک اعجاز ملاحظہ فرمائیں:
’’محمد‘‘ کا معنی ہے، جس ذات کی بے حد تعریف کی گئی ہو۔ مشرکین مکہ جو آپ ؐ کے خون کے پیاسے بنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب پکارتے تو انہیں مجبوراً ’’محمد‘‘ کہنا پڑتا۔ ایک مرتبہ انہوں نے مشورہ کیا کہ یہ تو بڑی عجیب بات ہے کہ ہم تو اپنے بتوں کے دشمن کوبُرا بھلاکہنا چاہتے ہیں لیکن جب بلاتے ہیں تو خود بخود ان کی تعریف ہوجاتی ہے۔ کچھ بدبختوں کے مشورے سے طے پایا کہ آئندہ ہم محمد کے بجائے ’’مذمم‘‘ (جس کی مذمت کی گئی ہو) کہا کریں گے۔ صحابہ کرامؓ نے یہ سنا تو ان کو بہت صدمہ پہنچا۔ مکہ میں مشکلات اور آزمائشوں کا دور تھا۔ صحابہ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوری بات بتائی۔ آپؐنے فرمایا:’’کیا تم حیران نہیں ہوتے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے قریش کے سبّ وشتم سے کیسے محفوظ رکھا ہے؟ وہ لوگ تو مذمم کوبُرا بھلا کہتے ہیں جب کہ میرا نام تو محمد ہے۔‘‘(بخاری)
اس نام مبارک کا کمال دیکھیں کہ کائنات میں جس ہستی کی خدا تعالیٰ کے بعد سب سے زیادہ تعریف ومنقبت بیان کی گئی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات ہے۔قرآن مجید میں آپ ؐ کی تعریف وتحسین ہے، جو ڈیڑھ ہزار برس سے مسلسل پڑھا جارہا ہے اور قیامت تک اس کی تلاوت ہوتی رہے گی۔ہر دور میں ہر طرح کے انسانوں نے ہر طرح آپ کی تعریف کی۔ نثر ہو یا نظم، زبان ہو یا قلم، ہر زمانے کے خوش بخت لوگ آپ کی مدح وستائش میں مصروف رہے۔
آج بھی جزائر شرق الہند سے لے کر بر اعظم امریکہ تک اس تسلسل سے اذان میں آپؐ کی رسالت کا اقرار واعلان ہوتا ہے کہ چوبیس گھنٹے کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جاتا ،جس میں مشرق ومغرب شمال وجنوب کہیں نہ کہیں آپ ؐ کی عظمت کا ترانہ، نہ گونج رہا ہو۔حلقہ بگوشان اسلام کیلئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ہمیشہ ہی باعث سکون وقرار رہی ہے‘ لیکن نام ’’محمدؐ‘‘ نے اپنا اعجاز غیروں سے بھی ایسا منوایا کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔
ایک مرتبہ شیخ المشائخ حضرت خواجہ خان محمد صاحبؒ نے جناب نبی کریم ؐکاذکرِ خیرکیا اور فرمایا کہ آپ رحمۃ للعالمین ہیں،نہ صرف مسلمانوں کے لئے بلکہ تمام مخلوقات اور تمام غیر مسلموں کے لئے بھی رحمت ہیں۔ ایک ہندو شاعر (شاید بھیم داس نرائن) حج کے موسم میں ایک حاجی کے پاس کسی کی مدد سے پہنچا کیونکہ وہ نابینا ہو چکا تھا، حاجی کو بتایا کہ میں ہندوہوں لیکن نبی کریمؐ رحمۃ للعالمین ہیں۔ مجھے امید ہے اللہ تعالیٰ مجھے اس رحمت سے محروم نہیں رکھیں گے۔ لہٰذا میں ایک نعت لکھ کر لایا ہوں یہ حضور اقدس ؐ کے روضہ?ٔاطہر پر پڑھنا، میں آپ کا ممنون ہوں گا۔ کافی دنوں بعد یہ ہندو اپنی محفل میں بیٹھا تھا کہ اچانک کہنے لگا کہ آج میر ی نعت روضئہ اطہر پر پڑھی جا رہی ہے۔ لوگوں نے پوچھا: کیسےمحسوس ہوا؟ ہندو نے جواب دیا کہ میری نظر واپس آرہی ہے، جب نعت پوری ہوئی تو نظر بھی پوری واپس آگئی۔
راقم نے اس ہندو شاعر کی مکمل نعت شریف کی جستجو کی‘ جو مل گئی۔شاعر کا اصل نام اثیم داس ہے اورمکمل اشعار یہ ہیں: ؎
پھیکا ہے نورِ خُررخِ انور کے سامنے
ہے ہیچ مشک زلفِ معطر کے سامنے
خجلت سے آب آب ہیں نسرین و یاسمین
کیا منہ دکھائیں جا کے گلِ تر کے سامنے
ہے زنگِ معصیت سے سیاہ دل کا آئینہ
کیا اس کو لے کے جائوں سکندر کے سامنے
قسمت کا لکھا مٹ نہیں سکتا کسی طرح
تدبیر کیا کرے گی مقدر کے سامنے
نظرِ کرم ہو آنکھ میں آجائے روشنی
کہنا صبا یہ جا کے پیمبر کے سامنے
شیشہ نہ ہو نہ سنگ ہو چشمہ ہو نور کا
اس کو لگا کے جائوں میں سرور کے سامنے
جس در سے آج تک کوئی لوٹا نہ خالی ہاتھ
دستِ طلب دراز ہے اس در کے سامنے
رضواں تجھے جو ناز ہے جنت پہ اس قدر
کیا چیز ہے وہ روضئہ اطہر کے سامنے
سر پہ ہو ان کا دستِ شفاعت اثیمؔ کے
جس دم کھڑا ہو داورِ محشر کے سامنے
پھر ایک اور زاویۂ نگاہ سے دیکھیں کہ محمدؐکا معنی ہے ’’جس ذات کی سب سے زیادہ تعریف کی گئی ہو‘‘۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قابل تعریف ہیں تو آپ ؐکی ہر حرکت وادا، آپؐ کا قول وعمل، آپؐ کی شکل وشباہت، آپ ؐ کا لباس اور سامان زینت، آپؐ کی معیشت، ومعاشرت، آپؐ کی صلح وجنگ اور آپؐ کی طرف صحیح طور پر منسوب ہر بات قابل تعریف ٹھہرے گی۔حق بی تو یہی ہے کہ جو ذات قابل تعریف ہوگی ،اس کا ہر وصف باعث حسن وجمال اور وجہ خیر وکمال ہوگا۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ ؐکی ذات تو حمد وستائش کی مستحق ہو اور آپؐ کی سنتوں اور طریقوں پر حرف اعتراض اٹھایا جاسکے۔
بہت سے والدین کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ جب ہم اپنے بیٹے کا نام’’محمد‘‘ رکھیں گے اور پھر کسی موقع پر ڈانٹ ڈپٹ سے کام لینا پڑے تو ہم اس نام کو لے کر کیسے برا بھلا کہہ سکتے ہیں؟ بلاشبہ یہ شبہ بھی اہل ایمان کی سرکار دو عالمؐسے محبت کی ہی نشانی ہے لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ محمد نام رکھنے کی اجازت خود پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث میں ثابت ہے۔ صحیح بخاری میں کئی مرتبہ یہ حدیث پاک آتی ہے:’’لوگو! میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت ’’ابو القاسم‘‘ ساتھ اختیار نہ کرو‘‘۔
پھر اس امت میں تو ایسے اہل ِ علم بھی گزرے ہیں‘ جن کی تین تین پشتوں کا نام ’’محمد‘‘ تھا۔ بیٹا‘ باپ‘ دادا تینوں ہی محمد‘ فرق تخلص‘ القاب اور کنیتوں سے ہوتا تھا۔اصل نام’’محمد‘‘ رکھنے کے ساتھ‘ اگر کوئی لقب وغیرہ بھی رکھ لیا جائے تو امید ہے کہ پھر بھی اس پاک نام کی وہ برکات جو علماء نے لکھی ہیں‘ نصیب ہوتی رہیں گی۔
اللہ کریم ہم سب کو پیارے نبیؐؐ سے ایسا گہرا اور والہانہ تعلق نصیب فرمائے کہ زندگی بھر اطاعت ِ رسول کرتے رہیں اور مرنے کے بعد شفاعت ِ رسولؐ کے مستحق بن جائیں۔ آمین
(پتہ۔ ریپورہ گاندربل)