شوپیان//معروف ادیب،شاعراوراستاد غلا م نبی لون المعرف ناجی منور کابدھ کو88برس کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال پر کئی ادبی تنظیموں،اورسیاسی رہنمائوں نے افسوس کااظہار کیا۔ان کے نمازجنازہ میں لوگوں کی بھاری تعداد نے شرکت کی اور نمازمغرب کے بعدانہیں آبائی قبرستان میں سپردخاک کیا گیا۔غلام نبی لون جنہیںناجی منورکے نام سے جاناجاتا تھا ،بیسیوں صدی میں کشمیرکے نامورادیبوں میں شمار ہوتے تھے۔کاپرن شوپیان میں 1934 کو پیداہوئے ناجی نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گائوں میں حاصل کی ۔مابعدانہوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول شوپیان میں داخلہ لیا جہاں ان کے ہم جماعت مرحوم شمیم احمد شمیم،محمد یوسف ٹینگ ،نریندر ناتھ اوردیگر تھے۔اسکول میں انہیں اپنی صلاحیتوں اورادب کی تشنگی کا بھر مظاہرہ کرنے کا بھرموقعہ ملا۔ گریجویشن کے بعد انہیں لداخ میں استادتعینات کیا گیا جہاں انہوں نے تین برس تک فرائض انجام دیئے۔ وہ بطور ہیڈ ماسٹرنوکری سے سبکدوش ہوئے۔ دو درجن سے زیادہ کتابوں کے مصنف نے اپنے ادبی سفر کاآغازشاعر ی سے کیا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ’ناگ رات‘1974میں منظرعام پرآیا۔ناجی کی شہرت کاڈنکاان کی اعزازحاصل کرنے والی کتاب’پرسان‘ سے بجا،جس کیلئے انہیں2002میںساہتیہ اکادمی ایوارڈ عطاکیاگیا۔انہوں نے اپنے بھائی شفیع شوق کے ساتھ ملکر ’کاشرادبک تواریخ‘ تصنیف کی۔اس کتاب کو عالمی سطح پر پزیدائی حاصل ہوئی اور یہ یونیورسٹی طلاب اوراسکالروں کیلئے کافی مفید ثابت ہوئی۔انہوں نے ’کلیات شیخ العالم ‘بھی تصنیف کی جسے کافی زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی اور ناشر کو اس کے کئی ایڈیشن شائع کرنے پڑے۔ناجی کو بچوں سے سخت لگائو تھااوراس وجہ سے انہوں نے بچوں کیلئے بھی ادبی کام کیا۔انہوں نے بچوں کو تعلیم دینے اوران کی تفریح کیلئے متعددکتابیں لکھیں،جن میں ’موختہ لر‘(1959)،شرین ہندی لوکہ باتھ(1959)،شرین ہندی باتھ(جلد2،1962،1967)باتی کتھ(1975)،شرین ہیونداقبال(1978)،دنہاہچہ دلیلہ(1980)،شرین ہندناجی(2017) شامل ہیں۔’شرین ہینودناجی‘ 54نظموں اور99پہیلیوں پر مشتمل کتاب ہے جو بچوں کے تجسس سے پر اذہان کی تشفی کیلئے کافی ہے۔ ناجی منور کو ان کی تصنیف 'شرن ہوند ناجی' کے لئے سال 2020 میں 'بال ساہتیہ پرسکار ایوارڈ' سے نوازا گیا تھا ۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ رہنمایوسف تاریگامی نے ناجی منور کے انتقال پردکھ اور افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موت کشمیری ادب اور زبان کیلئے ایک بڑانقصان ہے۔انہوں نے کہا کہ ناجی منورایک بے مثال محقق تھے اورانہیں کشمیری زبان کی تاریخ پر عبورتھا۔وہ ایک زبان دان ہونے کے علاوہ تنقید نگاراور مورخ بھی تھے۔انہوں نے مرحوم کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کااظہار کیا۔اس دوران مراز ادبی سنگم نے بانی ممبر ناجی منور کے انتقال کشمیری کوزبان و ادب کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان قراردیا۔مراز ادبی سنگم ناجی منور کے انتقال پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے دعاکی کہ للہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا کرے۔ مراز ادبی سنگم کے جملہ اراکین نے لواحقین خاص کر ناجی منور کے برادر پروفیسر شفیع شوق کے ساتھ یکجہتی کااظہار کیا۔اس دوران گلشن کلچرل فورم نے بھی ناجی منور کے انتقال پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے مرحوم کیلئے دعائے مغفرت کی۔ادبی مرکز کمرازکے آن لائن اجلاس میں بھی ناجی منور کی موت پر دکھ کااظہار کیاگیا اوران کی وفات کو کشمیر زبان وادب کیلئے بڑانقصان قراردیا۔اجلاس میں شوکت انصاری، شیر علی مشغول، علی محمد حسرت، ضمیر انصاری، تاثیر افضل اور جمیل انصاری نے شرکت کی۔