کشتواڑ//قصبہ کشتواڑ کے سبھی وارڈوں کا حال ایک جیسابدحال ہے جو انتظامیہ کے بڑے دعوئوں کی زمینی سطح پر پول کھولتے ہیں۔ قصبہ کا ڈرینج سسٹم تنگ ہے جسکے سبب معمولی سا پانی بھی باہر نکل کر سڑک پر پھیل جاتا ہے اور راہگیروں کے لئے پریشانی کا سبب بنتا ہے ۔ ان تنگ نالیوں میں لوگ گھروں کی گندگی ڈالتے ہیں جسکے سبب قصبہ کی بیشتر گلیوں کے اندر نالیوں سے پلاسٹک کی بوتلیں نکل کر سڑک پر جمع ہوجاتی ہیں۔ اگرچہ قصبہ کے سبھی وارڈوں کے اندر کوڈے دان گندگی کو ڈالنے کیلئے لگائے گئے ہیں لیکن باجود اسکے نالیوں سے گندگی نکلنا حیران کن ہے۔ جبکہ بیشتر مقامات پر لوگ خود ان نالیوں کو صاف کرتے ہیں۔کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے مقامی لوگوں نے کہا کہ اس میں حیرانگی نہیں کیونکہ قصبہ میں تعمیر کی گئی نالیاں 20سال قبل بنائی گئی ہیں جبکہ نئے ڈرینج کا نظام سست روی سے جاری ہے لوگ گھروں سے گندگی نکال کر نالیوں کے اندر پھینک دیتے ہیں جس پر محکمہ کو انکے خلاف جرمانہ عائد کرنا چاہئے تاکہ لوگ احتیاط کرتے لیکن 13 وارڈوں پر مشتمل میونسپل کمیٹی جو چارہزار گھروں پر مشتمل ہے اور جسکی کل آبادی19000کے قریب ہے،محکمہ اس کوبھی صاف ستھرا بنانے کیلئے کوئی بڑا قدم نہیں اٹھارہاہے ۔محکمہ کے ایک ملازم نے بتایا کہ میونسپل کمیٹی گھروں سے ہی گندگی اٹھانے کیلئے اقدام کررہی ہے جسکے لئے ٹینڈر جلد نکالے جائیں گے اور لوگوں سے ماہانہ فیس وصولی جائے گی جبکہ ملازم گھروں سے ہی گندگی اٹھا ئیں گے جس سے قصبہ کو صاف ستھرا رکھنے میں مدد ملے گی۔