وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار2؍اپریل2017ء کو سرینگر جموں شاہراہ پر چنانی ناشری ٹنل کا افتتاح کرتے ہوئے کشمیری نوجوانوں کوایک پیغام دیا ہے کہ انہیں سیاحت یا دہشت پسندی میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا۔بصور ت دیگر انہیں تاریک مستقبل کا سامنا رہے گا۔اہل کشمیرسوال کرتے ہیں کہ ٹنل بناکر دلی نے ان پر کوئی احسان کیاتوپھرانگریزسے آزادی کی جنگ کیوں لڑی اورپھربرطانوی سامراج کے خلاف بھارت چھوڑدوکی تحریک کیوں چلائی؟ اگر پرائم منسٹر مودی کی منطق مان لی جائے پھر تو انڈیا کوانگریزکارہین ِمنت رہناچاہئے تھااوراس کے سامنے گردن خم کرکے اطاعت شعاربن جاناچاہئے تھا۔سچائی یہ ہے کہ انگریزسامراج نے ہندوستان پرغاصبانہ قبضہ کیاتھااوراس کے باوجودکہ برطانیہ نے ہندوستان میں بہت سارے تعلیمی اورتعمیری کام کئے ہندوستان کے عوام اپناحق آزادی حاصل کرنے کے لئے اس وقت تک مسلسل برسرجدوجہدرہے جب تک نہ برطانوی راج کاخاتمہ کرکے ہندوستان کوبرطانوی سامراج سے نجات اورآزادی دلادی۔علیٰ ہذاالقیاس اہل کشمیردلیل ،برہان اورتاریخی حوالوں کے ساتھ اپنا کشمیرکیس سری نگر سے اقوام متحدہ تک لڑرہے ہیں اوران تمام مبرہن اوردوٹوک حوالہ جات کے مطابق ریاست جموں وکشمیرایک متنازعہ اورحل طلب مسئلہ ہے اورریاست کے عوام کوگذشتہ سات عشروں سے ان کاپیدائشی حق ،حق خودارادیت نہیں ملا۔جب تک ریاست جموں وکشمیرکے عوام کوان کابنیادی اورپیدائشی حق نہیں مل جاتا،تب تک کشمیرکاعارضی انتظام چلانے والے اس امرکے مکلف ہیںکہ وہ جبریت کے حالات جینے والے کشمیریوں کوتعلیم، صحت اورروزگارکے مواقع فراہم کریں اورریاست میںبنیادی اسٹریکچرکی تعمیرکریں ۔ اس امرکوثابت کرنے میںہمیں متحدہ ہندوستان پرانگریزکی سامراجیت کی تاریخ کھنگالنی پڑے گی۔آیئے دیکھتے ہیں کہ اگر برطانوی سامراج نے اپنے دورمیں متحدہ ہندوستان کے عوام کے لئے تعلیم اورروزگارکے مواقع فراہم کئے اوربنیادی اسٹریکچرتعمیرکیاتوپھراہل کشمیرپر بھارتی وزیراعظم ناشری سرنگ کااحسان جتاکر جارحانہ لب و لہجے میں شبانِ کشمیرکوایساپیغام سنادیں کہ جوسچائی کے بالکل برعکس ہو ۔
انگریزنے برصغیرکے عوام پراپنی سامراجی شکنجہ کس لیااورخطے پراپنی جبری بالادستی قائم کرلیاس طرح 1858 میں تمام ہندوستان برطانوی اقلیم میں شامل ہو گیا، یعنی برطانوی راج آ گیا۔برطانوی سامراج نے قریب سو برس تک متحدہ ہندوستان پر حکومت کی اور بھارت کے اندر تعمیر و ترقی کے بے مثال کام کئے۔ انگریز نے جو کچھ بھی ہندوستان میں کیا وہ اپنی حکمرانی کی سہولت کے لئے کیا۔ لیکن وہ تمام تعمیری کام اور اصلاحات بطور ایک ظالم سامراجی حکمران کے نہیں، بلکہ ایک اعلی منظم اور بہتر طرزِ حکمرانی کے طور پر سر انجام دئیے۔ جب تک انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی کی حیثیت سے ہندوستان میں رہا، اس کا اولین مقصد تجارت تھا یا سازشیں کر کے حکومتوں کو غیر مستحکم کرنا اور ان ریاستوں کو اپنا باج گزار بنا کر ان کی زمینوں کا مالیانہ حاصل کرنا تھا۔ اس کے باوجود ایسٹ اِنڈیا کمپنی نے اپنے آخری ایام میں برصغیر کی 3 مشہور یونیورسٹیوں کی بنیاد ڈال دی تھی۔ مدراس ، کلکتہ اور بمبئی یونیورسٹیاں1857 کے اوائل میں قائم ہوئی تھیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایسٹ اِنڈیا کمپنی کا تمام کاروبار اور عوامی رابطہ اِن ہی علاقوں سے رہا جہاں یہ یونیورسٹیاں قائم ہیں۔ مقامی طورپر انگریزوں نے سڑکیں اور علاقائی ریلوے لائن بھی بچھانی شروع کر دی تھی، لیکن انگریزی راج کے آنے کے بعد تمام برصغیر میں ریلوے کا نظام قائم ہونا شروع ہو گیا۔آج بھارت یاپاکستان میں جوریلوے نظام قائم ہے انگریزکابنایاہواہے ۔
برطانوی سامراج نے اس خطے کو پختہ سڑکوں کا نظام دیا جس سے بڑے بڑے شہر ان دیہاتوں سے جڑ گئے ، جہاں سے آج ہماری معاشی ضروریات پوری ہوتی ہیں ۔ ہمارے دیہاتوں کو رابطہ سڑکیں میسر آئیں ،ڈاک اور تار کے سسٹم سے عوام کو تیز پیغام رسانی کی سہولت میسر آئی ،مشنری اور حکومتی مدرسوں کا جال بچھا۔ عوام کی تفریح اور معلومات فراہم کرنے کے لئے ریڈیو سٹیشن وجود میں آئے۔ انگریزی راج نے برصغیرکے آثارِ قدیمہ کو جو زمین میں مدفون تھے ان کو نہ صرف دریافت کیا، بلکہ دنیا میںبرصغیرکی تاریخی اہمیت کو روشن کرایا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے پہلا پرنٹنگ پریس کلکتہ میں 1775 میں نصب کیا۔ یہی وجہ ہے کہ کلکتہ علم، ادب میں تمام ہندوستان سے آگے تھا۔ سامراجی حکومت نے ذرائع ابلاغ کو عام کیا، اخبار نویسی کی ہمت افزائی کی، جس سے عوام میں سماجی اور سیاسی شعور پیدا ہوا۔ انگریزی سامراج نے ہی آل اِنڈیا کانگریس بنوائی اور پھر 1906 میں آل انڈیا مسلم لیگ کو عالمِ وجود میں آنے کا موقع ملا۔اِسی مسلم لیگ نے بالاخر پاکستان بنا دیا۔ کانگریس اور مسلم لیگ کے نمایاں لیڈر انگریز کے ہی اعلی تعلیمی اِداروں سے پڑھ کر انگلستان سے بیرسٹری کی قانونی تعلیم حاصل کر کے آزادی کی جدوجہد میں شامل ہوئے۔
یورپ میں مختلف شعبہ جات میں جو ترقیاں ہو رہی تھیں خواہ وہ انجینئرنگ کا شعبہ تھا یا طِب کا، ہندوستانیوں کو انگریز نے ان کار آمد شعبوں سے محروم نہیں رکھا ۔ لیبارٹری اور ریسرچ پر مبنی ایلوپیتھک طریقہ علاج نہ صرف ہم سے متعارف کروایا، بلکہ طب کی تعلیم کے بہترین اِدارے دئیے ۔یہ اِدارے بین الاقوامی شہرت اور عزت کے حامل ہیں۔ تعلیم کے حصول کے لئے جدید خطوط پر مدرسے انگریز نے ہی بنائے۔ ہندئووں کی تعلیم کے لئے آشرم اور دھرم شالائیں تھیں، جہاں یوگا، گیتا، رامائین ، ہندی جوتش، حساب اور کلاسیکی فنونِ لطیفہ اور جڑی بوٹیوں کی تعلیم دی جاتی تھی۔ہندو آشرم پھر بھی کچھ نہ کچھ دنیاوی علم سکھاتے تھے ۔ اس خطے میں فوج کی تربیت کا معیار اور نظم و ضبط کی داغ بیل انگریز نے ڈالی تھی۔ اِسی طرح انجینئرنگ کے شعبے میں انگریز نے بجلی کی پیداوار اور ترسیل کو اولین اہمیت دی ۔ متحدہ ہندوستان میں پہلا ہائڈل پاورڈیم دارجلنگ آسام میں بنا ،جو صرف محدود ضروریات کے لئے تھا اور دوسرا پنجاب میں سر گنگا رام نے رینالہ خورد ھائڈل پروجیکٹ کے نام سے اوکاڑمیں بنایا۔
دنیا کا سب سے بڑا اور مربو ط نہری نظام متحدہ ہندوستانی پنجاب کو انگریز سے مِلا جو تقسیم کے بعد تمام کا تمام نظام پاکستان کے حصے میں آیا۔انگریزنے انیسویں صدی عیسوی کے آغاز پر جدید ترین نہری نظام تعمیر کروایا جو آج دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام کہلاتا ہے اس نظام کے تحت پانچ دریاں پر مختلف جگہوں پر 20 بڑے بند اور ہیڈ ورکس باندھ کر 48 نہریں نکالی گئیں جن کی کل لمبائی چالیس ہزار میل ہے۔ 1981، 82 کے اعداد وشمار کے مطابق 77 100 لاکھ ایکڑ رقبہ نہروں کے ذریعہ سیراب ہوتا ہے۔ اس نہری نظام نے پاکستان کو نئے شہر دئیے ۔ لائل پورجوآج فیصل آبادکے نام سے مشہورہے اورجوجو پاکستان کا بڑا صنعتی مرکز کہلاتا ہے، اِسی نہری سسٹم کے ذریعے وجود میں آیا۔ چھوٹے چھوٹے دیہات بڑے شہروں میں تبدیل ہو گئے جیسے سرگودھا، خوشاب وغیرہ۔ نئے شہروں کی آبادکاری کی وجہ سے ہی (Townplaning)اور(Wasa) واٹراورسیوریج کا تصور ملا۔ انگریز کے آنے سے پہلے والے لاہور کا نقشہ دیکھ لیں۔ تنگ اور بے ھنگم گلیاں اور راستے۔ پکی سڑک کا تو نام و نشان بھی نہ تھا۔ جب یورپ پتھروں کی سڑکیں (Cobbled streets) بنا رہا تھا تواس خطے کی گلیاں اور راستے تانگوں اور بیل گاڑیوں کی ٹاپوں سے اڑتی خاک سے اٹی ہوئی ہوتی تھیں۔ ٹیکسلا، ہڑپہ اور موئنجودڑو کی ٹان پلانگ کا بر صغیر کے رہنے والوں کو معلوم ہی نہیں تھا۔یہ درست ہے کہ انگریز نے جو بھی ترقیاتی کا م برصغیر میں کئے وہ ہندوستانیوں کی بھلائی کے لئے نہیں تھے۔ اس نے یہاں سے خام مال لے کر اپنی صنعت چلانی تھی، جس کے لئے جدید مواصلاتی نظام درکار تھاجو خطے کو سڑکیں، ریلویز، بندگاہوں اور ڈاک و تار کی شکل میں ملا ۔اِسی طرح اسے لوکل انتظامیہ کو چلانے کے لئے جدید تعلیم کی ضرورت تھی تاکہ دیسی بابوں سے کام چلایا جا سکے۔اِس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پورے ہندوستان میں سکولوں کا جال بچھا دیا۔ انگریز نے برصغیرمیں اپنی قانون سازی کی اورپھر عوام کواس کے استعمال کی تربیت دی۔انگریزنے متحدہ ہندوستان میںاپناسامراجی نظام چلانے کے لئے ڈسٹرکٹ بورڈز کا نظام قائم کیاجہاں سے ہمارے مستقبل کے سیاست دان قانون سازی کا علم حاصل کر کے ہمارے لیڈر بنے۔ ایک طرف یہ ساری صورتحال لیکن دوسری طرف برطانوی سامراج بہرصورت برصغیرپرقابض قوت کے طورپرموجودتھی۔
اس سارے منظرنامے کوسامنے رکھتے ہوئے اگر وزیراعظم نریندر مودی کا پیمانہ لگادیا جائے تو برطانوی سامراج کو ایسی تعمیر و ترقی کے بعد بھارت کو کسی بھی صورت میں نہیں چھوڑنا چاہئے تھا ،نا ہی گاندھی،نہرو، سبھاش چندر بوس، بھگت سنگھ اور آزاد کو برطانیہ سے آزادی مانگنی چاہئے تھی اور اپنی آزادی کیلئے تحریک چلانی چاہئے تھی۔کشمیری مسلمانوںکا مودی کو وہی جواب ہے جو گاندھی نے ایک برطانوی آفیسر جس نے ان سے کچھ اسی قسم کا سوال کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ بھارت آزاد ہوجائے گا تو کیونکر زندہ رہے گا کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک کمزور و ناتوان اور نالائق آزادی کو طاقت ور، لائق اور مال دار غلامی اور بیرونی تسلط پر ترجیح دیں گے۔ ایسے لوگ کہ جن کی تربیت ایک ایسی ذہنیت اور نظریے کے تحت ہوئی ہے کہ جس نے بھارت کی قومی تحریک آزادی کے دوران آزادی پسندوں کے بجائے برطانوی سامراج کا ساتھ دیا تھا کیونکر اور کیسے آزادی اور عزت کے اقدار اور آزادی پسندوں کی سوچ و معیار کو سمجھ سکتے ہیں۔
بھارتی وزیراعظم کو طاقت کی لاٹھی سے نہیں ہانکنا چاہیے بلکہ تدبر وتفکر اور ملائمت سے ان کے ا صل جذبات کو سمجھنے کی کوشش کر نی چاہیے ۔ کشمیر ی مسلمانوںنے ۲ ؍ اپریل کو مودی کی آمد جموں کی مخالفت میںکشمیربند مناکر انہیں بزبان حال بتلادیاکہ کشمیر گجرات یااُترپردیس نہیں بلکہ یہ کشمیرہے کشمیر، قائدینِ مزاحمت نے بھی اپنے بیانات میں مودی جی کو پیغام دیا کہ بھارت ٹنلیں بناکر اور دیگر سہولیات کی نمائشیں کر کے کشمیری عوام کے دل جیت نہیں سکتا،بھارت کی طرف سے کشمیر حل میں سیاسی پیش رفت سے گریز سے کشمیری عوام کو مار دھاڑ اور قتل غارت کے سواکچھ نہیں مل سکتا مگر دلی کا سکون وچین بھی اڑتا رہے گا اور ساتھ ہی ساتھ بجٹ کا زیادہ تر حصہ ترقیاتی کا موں کے بجائے اسلحہ کی دوڑ میں پھونکا جاتا رہے گا۔کشمیری عوام رائے شماری اورحق خودارادیت کے بغیرکسی لولی پاپ پرہرگزراضی نہیں، اس لئے حکومت ِ ہند کو ڈر کس بات کا ہے، وہ آئے ریاست میں رائے شماری کرے پھر دیکھیں کون کتنا پانی میں ہے اور کس فریق میں کتنا دم ہے ۔ یہ طفل تسلی کہ کشمیری عوام کو معمولی ٹنل کے نام سے اپنی منزل مقصود سے منحرف کیاجاسکتاہے، ایک بچگانہ سوچ ہے ۔اگرایسی بات ہوتی توپھرپچھلے 8ماہ 200سے زیادہ کشمیری نوجوان ابدی نیند کیوں سوجاتے؟پھر6سو افرادسے زیادہ نوجوان اپنی آنکھیں تحریک کے لئے کیوں کھودیتے ؟ ارباب اقتدار نے اس راستے کو کھوٹا کر نے کے لئے چھوٹے بچوں پر پبلک سیفٹی ایکٹ تک آزمایا مگرا س کے ہاتھ لگاکیا ؟ اگر ناشری سر نگ ہی درد کا درماں ہے توپھرہزاروں کشمیری نوجوانوں کو جیلوں میں بند کیوںرکھا گیا؟ یہ سمجھنا کہ تم آج تک کشمیر میں لاکھوں کشمیریوں کا قتل عام کیا گیا ، اب اس کا نعم البدل یہ ٹنل ہے جس کارسم افتتاح وزیراعظم ہند نے کشمیری نوجوانوں کودھمکایا مگر مزاحمتی قیادت کے ساتھ دکھاوے کی کسی مذاکراتی پیش کش کا اعادہ نہ کیا ۔ امر یکہ اور ایران نے ثالثی کی پیش کش کی تو اسے بھی نکارا۔ بالفاظ دیگر دور دراز ملکوں اور قوموں کو یہ احسا س ہے کہ کشمیر چل رہاہے ،اس پر پانی ڈالنا چاہیے تاکہ انسانیت بھسم ہو نے سے بچائی جائے مگر دلی کی قیادت اور تخت نشینوں کو اس کا کوئی غم نہیں، نہ کوئی فکر ہے ، حالاںکہ کشمیریوں کے گلے یہ کہتے کہتے رل گئے کہ ہمیں کسی اقتصادی پیکیج، روڑ ٹنل یا ایسے کسی لولی پپ کی ضرورت نہیں، ہمیں صرف اور صرف آزادی دو ، بجز اس کے ہمیں تمہاری کوئی اور مہربانی قدردانی درکار نہیں ہے ۔بہرحال !جب تک مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل نہیں نکالا جاسکتا ،تب تک اس خطے میں قیام امن اور تعمیر وترقی یا وکاس نام کی کوئی چیز ممکن نہیں۔کشمیری عوام ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ کشمیریوں کی آزادی کا کوئی دوسرا نعم البدل ہے ہی نہیں جس طرح برطانیہ کے زیر تسلط ملک ِہند کی آزادی بغیر کانگریس اور ملسم لیگ نے کسی اور متبادل پر لبیک نہ کہا ۔ حق بات یہ ہے کہ اگراقتصادی پیکیج کی پیوندکاری ہی کشمیریوں کا مطلوب ومقصودہوتاتوواجپائی، اورمن موہن سنگھ نے اپنے اپنے دوراقتدارمیں کثیرالنوع پیکیجزکااعلان کیا ،سری نگرمظفرآبادبس سروس ، آرپارٹرکوں کے ذریعے تجارت، بانہال ٹنل تا بارہمولہ تک ریل رابطہ سب کچھ کیالیکن اس کے باوجوکشمیری اپنے بنیادی مطالبے سے دستبردار ہونے پر تیارنہ ہوئے کیونکہ وہ صرف کشمیر حل چاہتے ہیں اوربس ۔ وزیراعظم ہند کو وکاس اور شانتی کا ہدف پانے کے لئے اسی جانب اپنا سیاسی سفر پورے عزم وارادے اور مضبوط قدموں سے شروع کر نا ہوگا ۔