اپنی حیات مستعار میں جن شخصیات نے مجھے متاثر کیا ہے بلکہ مجھے عزم و ہمت ،حوصلہ مندی اور بہر حال حق پسندی و حق نوائی کا درس دیا ،اُن میں الحاج غلام محی الدین میر صاحب آف اونتہ بھون سرینگرکا نام نامی بطور خاص شامل ہے ۔۱۸؍ مئی ۲۰۲۱ ء کی صبح کو اُن کے فرزند ارجمند فاروق احمد صاحب نے ان کے انتقال کی روح فرسا خبر دی تو کچھ دیر کے لئے سکتے میں آگیا ۔اُن کی ساری زندگی جہد مسلسل ،عزم و حوصلہ سے عبارت تھی۔قدرت نے مال و دولت سے بہت نوازا تھا اور اولاد بھی ماشاء اللہ مطیع و تابعدار نصیب ہوئی ،اس کے ساتھ ہی ساتھ اُن کی دینی ،ملی اور سماجی خدمات کا ایک طویل سلسلہ اور لمبی تاریخ ان سے جُڑی تھی۔تاجر انجمنوں سے منسلک ہونے کے سبب اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود پچاس برس تک کسی معاوضہ کے بغیر نہ صرف مقامی مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے بلکہ اس مسجد کی ہر نوع کی خدمت میں ہمیشہ کمر بستہ نظر آتے ۔اکثر اوقات اذان بھی خود دیتے، یہاں تک کہ موسم سرما میں صفہ کو گرم رکھنے کے لئے سرکاری لکڑی کا کوٹا حاصل کرنے کے لوازمات نہ صرف خود پورے کرلیتے بلکہ خود اس کے حصول کے لئے متعلقہ جگہوں پر جاتے ،اس مسجد کی تعمیر ِنو کے حوالہ سے ایک روز اُن کے سعادت مند فرزندوں کی حاضری میں ،میں نے بس ذکر ہی چھیڑا کہ جیسے ساعت حسن تھی ،میں نے اس ساز کو مضراب کیا دیا تو فوراً کہہ اُٹھے، چلو ابھی سے اس پر کام کا آغاز کرتے ہیں ۔پھر دوسرے لوگوں کو ساتھ لے کر کام کا بیڑا اُٹھایا ،سبھی لوگوں نے حتی الوسیع اس کام میں حصہ لیا،خود اعانت میں ان کا بڑا ہاتھ رہا ،دوسرے معززین کے ساتھ ان کی نگرانی میں یہ عظیم منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ گیا ۔خود اس واقعے کا بطور خاص ذکر کرتے تھے کہ کس طرح اچانک میرے منہ سے نکلی بات پر عمل شروع ہوا ۔اصل میں ہر چیز کا وقت مقرر ہے اور یہ ہدف بھی وقت ِمقررہ پر پورا ہوا۔ان کا دل یکسان سبھی کے لئے دھڑکتا تھا ،بے حد رقیق القلب تھے،کسی کا دُکھ ان سے دیکھا نہیں جاتا ۔اپنے طویل و عریض علاقے کے ہر فرد کی شادی و غمی میں یکسان شامل ہوتے ،بیماروں کی خبر گیری کرتے ،فوتگی اور تجہیر و تکفین و تدفین کے عمل میں آخر تک شامل رہتے ۔مقامی قبرستان کو محفوظ بنانے میں دیگر چنیدہ اسلاف کے ساتھ ان کا کردار بہت تابناک رہا ۔علاقہ بھر کے مسائل و نزاعات کے حل کے لئے وقت وقت پر ان کی یاد آتی۔اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ مل کر پیچیدہ مسائل کا حل ڈھونڈتے اور مشکل گُھتیاں سُلجھاتے۔وہ بڑی رعب دار شخصیت کے مالک تھے اور آواز بھی بڑی گرجدار تھی۔چہرے پر ہمیشہ سنجیدگی چھائی رہتی تھی اور ہر پیروجوان ادب سے ان کے ساتھ بات کرتا ۔۔۔یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ وہ اپنی صحت کے تعلق سے بھی بہت حساس تھے۔دولت مند تھے مگر غذا سادہ کھاتے اورکم خور بھی تھے۔برسہا برس سے مارننگ واک کرنے کے عادی تھے ،نماز ِفجر کی ادائیگی کے فوراً بعد نکل کر کم از کم چار کلو میٹر پیدل چلتے اور اس میں سے خیر کا ایک شاندار پہلو یہ نکالا تھا کہ اس واک کے دوران روز صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ جاکر یہ دیکھے بغیر کہ مریض کس علاقے اور کس دین دھرم سے وابستہ ہے، الگ لاگ ہر مریض کی خبر گیری کرتے ،بہ چشم نم دعائیںدیتے اور کہتے کہ اس عمل سے دِل نرم پڑجاتا ہے،آخرت اور موت کی یاد آجاتی ہے اور اگر آج دو وارڈوں کے مریضوں کی خبر پُرسی کی تو اگلے روز تیسرے وارڈ سے یہ سلسلہ آگے بڑھاتا۔ جب تک چلنے پھرنے کے قابل رہے اور کوئی رکاوٹ حائل نہ آئی یہ سلسلہ جاری رکھا ۔عرض کرچکا کہ رزق ِ وافر سے اللہ نے نوازا تھا اور اس کا حق بھی ادا کرتے تھے ۔یہ معاملات خاص ہوتے ہیں ،کئی واقعات کا میں اتفاقیہ گواہ بھی ہوں ،اللہ تعالیٰ اُن کے اس ایثار کو قبول فرمائے ۔وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔بات بات پر آنکھیں نم ہوتیں اور استغفار کرتے رہتے ۔ان کے فہم و تدبر کے ساتھ ساتھ ان کی مسلسل محنت اور جہد کے حوالے سے بہت سارے واقعات رقم کرسکتا ہو ں مگر فی الوقت ایسا ممکن نہیں،یہ سطور ان سے محض عقیدت و محبت کی بنا پر سپردِ قرطاس و قلم نہیں کیں بلکہ ان میں ہمارے لئے ایک درس پوشیدہ بھی ہے اور عیاں بھی کہ مرنے کے بعد بھی انسان یاد کیسے کیا جاتا ہے اور زندگی بھی کیسے جیلی جاتی ہے ۔مسلکی عصبیت اور نفرتوں سے کوسوں دور تھے ۔اُمت مسلمہ کو یکجا دیکھنا چاہتے تھے ۔مجھ سے شفقت و محبت کا یہ عالم تھا کہ تین چار دن تک فون نہ کرتا یا حاضر نہ ہوتا ،فکرمندی کا اظہار نہ صرف فون کرکے کرتے بلکہ کبھی بہ نفس و نفیس میرے غربت کدہ تشریف لاکر اپنی فکر مندی کا اظہار کرتے ،کبھی ڈانتے بھی تھے اور واللہ میں اسے اپنے لئے اعزاز سمجھ لیتا تھا۔۔۔ساری زندگی چاق وچوبند رہے،بڑھاپابھی جوانوں جیسا گذارا مگر بہر حال صحت کمزور اور زوال پذیر ہوہی جاتی ہے ۔پچھلے دو چار برسوں سے کئی عوارض کے شکار رہے اولاد اور ان کے بچوں نے جی جان سے خدمت کی ،راتوں کی نیندیں تج دیں،وہ دعا دیتے رہے ،اللہ قبول کرے۔ بہت عرصہ سے کہہ رہے تھے کہ چراغ سحری ہوں پتہ نہیں کب بُجھ جائوں گا اور بہ صد اصرار اپنی اولاد کی حاضری میں بار بار کہتے کہ ان کی نماز جنازہ میں پڑھائوں ۔میر ی آنکھیں تو یہ سُن کر ہی نم ہوتیں ،میں کہتا حاجی صاحب ! کیا پتہ کوچ پہلے آپ کریں گے یا میں۔وہ میری طویل عمری کی دعائیں کرتے اور کہتے کہ ظاہری طور تو مجھے ہی پہلے جانا ہے ،سو آج وہ گھڑی آہی گئی جب صبح صبح اُن کے فرزند ارجمند نے ان کے کوچ کرنے کی رنج دہ خبر دی،آنکھیں نم ،قلب مضطرب ہو ،آیت استر جاع زبان پر آئی ،ان کے دنیوی نشیمن پر حاضری دی ،اُن کے فرزند ارجمند نے وصیت یاد دلائی ،ان کے دور و نزدیک کے سبھی اقرباء جمع تھے اور ادھر سارا علاقہ سوگ میں ڈوبا ہوا تھا، لوگ ایس اوپیز کو پوری طور فالو کرتے ہوئے بہ رقت اس مثالی جنازہ میں شامل ہوئے ۔میں جنازہ کے دوران بہ مشکل اپنے جذبات پر قابو پاسکا ۔اُن کے ساتھ گذرا ہوا لمحہ لمحہ اور اس سے جُڑی یادیں ،اُن کی کتابِ زندگی کا ورق ورق آنکھوں میں گھوم رہا تھا ۔۔۔یہ یادیں سرمایہ حیات بنی رہیں گی ۔۔۔جنازہ کی ادائیگی کے بعد اس پیکر عزم و ہمت نے زمین اوڑھ لی۔اشکبار آنکھوں سے دعائیں ہوئی،اللہ تعالیٰ انہیں بہشت کا مکین بنادے ۔۔۔پچانوے برس سے زیادہ عمر پائی۔رب جلیل سئیات کو معاف اور حسنات کو قبول کرے ۔آخر پر یہ اقبالی دعا ؎
مثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو تیرا
نور سے معمور وہ خاکی شبستان ہو تیرا
رابطہ نمبر ۔9419080306
������