پلوامہ//پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا ہے مرکزی حکومت ہر سطح پر کشمیری لوگوں کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ یہ ہم پہلی بار نہیں دیکھ رہے ہیں، اس سے پہلے بھی ایسی زیادتیاں ہم دیکھ چکے ہیں۔پی ڈی پی سربراہ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعد یہاں کے لوگ خوش ہیں لیکن ہمیں ابھی تک کہیں بھی خوشی نظر نہیں آرہی ہے اور نہ ہی کوئی ترقی نظر آ رہی ہے۔ حکومت نے جس طرح پاکستان کے ساتھ سرحدوں پر خون خرابہ بند کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں اسی طرح جموں و کشمیر میں امن کی بحالی کیلئے یہاں کے نوجوانوں کے ساتھ بھی بات کرنی چاہیے۔ 9اگست 2019 کوجموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کرنے کے بعد محبوبہ مفتی نے پہلی بار پلوامہ میں ورکروں کی میٹنگ طلب کی۔محبوبہ مفتی نے اس موقعہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پتھر اور گولی مسئلے کا حل نہیں اور اس طرح کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے ۔انہوںنے سرکار پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر میں امن قائم کرنے کیلئے یہاں کے نوجوانوں کے ساتھ بات کریں ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح مرکزی حکومت نے پاکستان اور چین کے ساتھ بات چیت کی تاکہ خون خرابہ روکا جائے، اسی طرح جموں و کشمیر کے لوگوں خاص کر نوجوانوں کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے تاکہ یہاں امن وامان بحال ہو سکے۔انہوں نے کہا ’’ ہم جموں کشمیر کے چھینے گئے وقار کو حاصل کرنے کے لئے پر امن جد وجہد کریں گے‘‘ ۔انہوں نے کہا پرامن جد و جہد سے ہم تمام چیزیں حاصل کر سکتے ہیں۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ 'یہاں کے نوجوانوں کو ہتھیار چھوڑ کر تعلیم حاصل کرنے پر دھیان دینا چاہیے کیونکہ یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ہمیں کامیابی مل سکتی ہے، کیونکہ ہتھیار کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہتھیار سے ہماری نوجوان نسل ختم ہو رہی ہے۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جنگجو،پولیس اہلکار،فوجی یا عام شہری کی ہلاکت ہو وہ یہاں کی تباہی اور بربادی کا باعث ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہم سب کو ملک کے کسانوں کی طرف دیکھنا چاہیے کہ نہ ان کے ہاتھ میں نہ پتھراور نہ بندوق ہے ،جو پر امن جد و جہد کر رہے ہیں اور آج پوری دنیاان کی حمایت کر رہی ہے ۔سابق ویزر اعلیٰ نے کہا ہمارے یہاں چھوٹے چھوٹے نوجوان انکونٹرس میں مارے جاتے ہیں اور یہ خون خرابہ بند ہونا چاہیے ۔