عموماً کسی ملک کی تعمیر و تخریب، پالیسی سازی اور عوام کی ذہن سازی میں میڈیا کا کردار کافی اہم ہوتا ہے۔جمہوری ملکوں میں آئینی اقدار کا تحفظ اور انصاف کی بالا دستی کا تصور میڈیا کی معاونت کے بغیر ایک خواب سے زیادہ کچھ نہیں ہےلیکن گزشتہ دس سالوں میں ہندوستانی میڈیا نے جتنا تعمیری کام کیا ہے اس سے کہیں زیادہ متعصبانہ کام انجام دیا ہے،جس سے ملک کی سالمیت اور جمہوری اقدار کو اتنا نقصان پہنچ چکا ہے کہ اس کے اثرات کم ہونے میں ایک دہائی درکار ہے۔بہرحال ان دنوں کچھ میڈیا طبقوں پر مذہب اسلام اور مسلمانوں سے نفرت وتعصب کا رنگ اس قدر چڑھ چکا ہے کہ اللہ کی پناہ ! وہ مسلمانوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے ،ان پر بہتان تراشی کرنے اور انکی توہین و تذلیل کے ہمہ وقت حیلے ،بہانے اورحوالے ڈھونڈنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ میڈیا کی جانب سے یہ ایماندارانہ کوشش کبھی نظر نہیں آتی کہ ملک کے تمام فرقوں،ذاتوں میں آپسی بھائی چارہ قائم ہو.ایک دوسرے کے متعلق غلط فہمیاں دور ہوں اور ہر طرف محبت پروان چڑھے۔فی الوقت دہلی کے نظام الدین تبلیغی مرکز کو میڈیا نے اپنے نشانے پر لے رکھا ہے.۔ خبروں کے مطابق معلوم ہوا کہ اس مرکز میں 13 تا 15 مارچ کے عرصے میں کوئی بڑا اجتماع ہوا تھا،اس کے بعد کرونا وائرس کے پیش نظر ملک میں جاری کیے گئے لاک ڈاؤن کے سبب یہاں بہت سے لوگ پھنس کر رہ گئے،لہٰذا پس پردہ پوری حقیقت کو جانے بغیر میڈیا نے اس بات کا ایسا بتنگڑ بنایا جیسے تبلیغی جماعت کے لوگوں نے نظام الدین مرکز میں چھپ کر ملک کو کوروناوائرس کے منہ میں ڈھکیل دیا ہو. تبلیغی مرکز سے کرونا کا کنکشن جوڑ کر ٹی وی چینلوں پر صبح تاشام مباحثے چلائے جارہے ہیں. جن میں مدعو کئے گئے علماؤں اور مولاناؤں پر ٹی وی اینکر کھل کر اپنی مسلم دشمنی کی بھڑاس نکالتے دکھائی دے رہے ہیں. وہیں اس موضوع کی آڑ میں میڈیا کے سہارے ملک کی تمام فرقہ پرست تنظیمیں مسلمانوں کیخلاف سرگرم ہوگئی ہیں. طرح طرح کی زہرافشانیاں کی جانے لگی ہیں. کوئی اس بیماری کو کرونا بم کا نام دے رہا ہے تو کوئی 'کرونا جہاد'کہہ رہا ہے،کوئی اسے تبلیغی جماعت کا 'طالبانی عمل'قرار دے رہا ہے۔فرقہ پرست سیاستدان بھی اپنے خریدے ہوئے چینلوں کے ذریعے سیاسی فائدہ اٹھانے میں مصروف ہوگئے ہیں. لہٰذا ٹی وی چینلوں کے حالیہ مباحثوں کو دیکھ کر یہ قطعی نہیں لگتا کہ اس سنگین گھڑی میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لوگوں کو بیدار اور متحد کرنے کی ایماندارانہ کوشش کی جارہی ہو. بہر حال اسمیں کوئی شک نہیں کہ کرونا وائرس کی تباہ کاری سے بچنے کے لیے کوئی دوا یا ٹیکہ ابھی تک بنایا نہیں جا سکا ہے۔محض سوشل ڈسٹینسنگ ہی فی الحال اس سے بچنے کا واحد طریقہ ہے. لہذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ تبلیغی جماعت کا اجتماع ہو یا کوئی بھی نجی یا سرکاری تقریبات،ان میں فی الحال لوگوں کا ایک جگہ جمع ہونا انتہائی خطرناک ہے. میڈیا اور شرپرست عناصر کے ذریعے 13 تا 15 مارچ کو نظام الدین مرکز میں منعقد اجتماع کو کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے مدنظرحکومت کے احکام کی خلاف ورزی کہا جارہا ہےلیکن سچائی یہ ہے کہ اس کے کافی بعد تک خود حکومت کے مختلف اجتماعات منعقد ہوتے رہے. 14مارچ کو دہلی کے وزیر اعلی نے اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا جس میں 70 اراکین کے علاوہ انکی دگنی تعداد میں انکے خدمتگار موجود تھے. پارلیمنٹ کا اجلاس تو لاک ڈاؤن (24مارچ) کے اگلے دن تک چلتا رہا جس میں دونوں ایوانوں کے تقریبا آٹھ سو اراکین کے علاوہ ان کی خدمت پر مامور کم از کم ڈیڑھ ہزار کا عملہ تعینات رہتا ہے. اسی طرح جہاں ایک طرف سماجی فاصلے کے احکام دیے جارہے تھے مدھیہ پردیش میں کانگریس کی حکومت گرانے کے لیے جوڑ توڑ کا کھیل چل رہا تھا. پھر 200 سے زائد ارکان اسمبلی ہال میں جمع ہوئے ان کیخدمت گاروں کی تعداد اس کے علاوہ تھی. 24 مارچ کو بڑی دھوم دھام سے وزیراعلی شیوراج سنگھ چوہان کی حلف برداری بھی ہوئی. لہذا یہ کہا جاسکتا ہے جس وقت مرکز نظام الدین میں اجتماع کے بعد لاک ڈاؤن کے سبب کچھ لوگ پھنسے ہوئے تھے اس وقت سماجی فاصلے کے اپنے ہی احکام کی سرکاری طور پر دھجیاں اڑائی جارہی تھی لیکن حیرت انگیز طور پر یہ سب میڈیا کی بصارت سے بعید تھا. یا یوں کہیے کہ میڈیا نے جان بوجھ کر ان حقائق سے چشم پوشی کررکھی تھی .یہ کہاوت مشہور ہے کہ اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا لیکن دوسرے کی آنکھ کا تنکا دکھائی دے جاتا ہے. چند دنوں قبل ہندی فلموں کی گلوکارہ کنیکا کپور جب لندن سے لوٹی تو انہیں خود یہ پتہ تھا کہ وہ کورونا سے متاثر ہے. لیکن انہوں نے اسے چھپایا. وہ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ گئیں جہاں انہوں نے بہت سی تقاریب میں شرکت کی اور کئی بڑی شخصیات سے بھی ملیں.اس کے بعد جب ان کا ٹیسٹ کرایا گیا تو رپورٹ مثبت آئی.جس کے بعد ان سے جتنے لوگ ملے تھے سبھی اپنے اپنے گھروں میں قید ہوگئے. لیکن کونیکا کی اس خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ حرکت پر بھی میڈیا نے حال کی طرح اچھل کود نہیں دکھائی. بہرحال تبلیغی مرکز کا معاملہ اتنا تشویشناک نہیں تھا. دہلی حکومت اگر چاہتی تو لاک ڈاؤن کے فوراً بعد مرکز میں پھنسے لوگوں کے جانے کا انتظام کرسکتی تھی. کیونکہ نظام الدین مرکز کے ذمہ داروں نے امانت داری اور حکومت سے تعاون کا ثبوت دیتے ہوئے دہلی حکومت اور ایڈمنسٹریشن کو خط لکھا تھا اور یہ اپیل کی تھی کہ ان کے مرکز میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ پھنس گئے ہیں، انہیں منتقل کرنے کا کوئی نظم کریں لیکن پھر بھی اس وقت دہلی حکومت نے کوئی اقدام نہیں کیااور اب اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے وزیراعلی کیجریوال نے نظام الدین مرکز پر ہی ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دے دی ہے. دراصل ملک میں اچانک لاک ڈاؤن کے اعلان سے حالات بگڑنے لگے تھے. لاکھوں مزدور دہلی کی سڑکوں پر اتر آئے جس سے افراتفری جیسا ماحول بننے لگا تھا. اور مرکزی و دہلی کی صوبائی حکومت کی ناکامیوں کے چرچے شروع ہوگئے تھے. ان حالات میں اقتدار میں بیٹھے اپنے آقاؤں کے دفاع میں میڈیا طبقوں کا میدان میں آنا یقینی تھا. لہذا آنافانا میں میڈیا نے غریبوں اور مزدوروں کا ایشو اورحکومت و انتظامیہ کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کیلئے ہندو مسلم کارڈ کھیلنا شروع کردیا. کرونا وائرس کے متعلق ناکامیوں کو چھپانے کے لئے اس سے اچھا دوسرا کوئی بہانہ نہیں تھا کہ تبلیغی جماعت کے اجتماع کو کرونا وائرس سے جوڑ دیا جائے. اسی طرح کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سی اے اے مخالف مظاہروں اور دہلی فسادات کے تناظر میں ملک کا بھائی چارہ جو کچھ حد تک متاثر ہوا تھا ،کروناوائرس کے سبب اس پر پردہ پڑنے لگا تھا.اور پورا ملک انسانیت اور ہمدردی کے بندھن میں بندھتا چلا جارہا تھا، عوام بلا تفریق ذات و مذہب اس وباءسے لڑنے کے لیے متحد ہونے لگے تھے.نہ کوئی ہندو اور نہ کوئی مسلمان نظر آرہا تھا. لہٰذا یہ نظارہ نفرت کی کھیتی کرنے والے سیاستدانوں اوردن رات ہندو مسلم کرکے اپنی ٹی آر پی بڑھانے والی میڈیا کو کب راس آنے والا تھا؟ انہیں یہ ڈر تھا کہ عوام اگر اسطرح سمجھدار ہوجائیں گے تو وہ اصل مسائل کی جانب متوجہ ہوں گےاور حکومت کے لئے مشکلات کھڑی ہوجائیں گی. لہذا لوگوں
کو ایکدوسرے کے متعلق مشکوک کرنے کے لئے آزمودہ نسخہ لایا گیا ہےاور تبلیغی جماعت کی آڑ لیکر باضابطہ 'ہندو مسلم'کا کھیل شروع کر دیا گیالیکن یقیناً یہ تماشہ بھی زیادہ دن نہیں چل سکے گا۔فرقہ پرست عناصر اور گودی میڈیا ملک کے مختلف طبقات کے درمیان زہر گھولنے کے لیے چاہے جتنا زور لگا لیں بالآخر جیت سچائی کی ہوگی. جب کردار کشی کا گردو غبار چھٹے گا حقیقت خود بخود کھل کر سامنے آجائے گی. تبلیغی جماعت کے ذمہ داران بے قصور ثابت ہوں گے اور فرقہ پرستوں کے ساتھ بیشک میڈیا کا متعصبانہ کردار بھی ایک دن بے نقاب ہو جائےگا۔