مینڈھر//مینڈھرمیں پانی کی ہاہا کار مچی ہوئی ہے ۔جمعہ کے روز کئی علاقوں کے لوگوںنے وفود کی شکل میں تحصیلدار مینڈھر اور ایس ڈی ایم مینڈھر سے ملاقات کرکے پانی کی عد م دستیابی کی شکایات کیں۔اس دوران بھیرہ کنڈ، چھترال نڑول،بھاٹی دار، قصاب، گوہلد، چھجلہ، ڈھیری ڈبسی ، ٹائیں منکوٹ اور بالاکوٹ منکوٹ کے وفود نے ایس ڈی ایم مینڈھر ڈاکٹر تنویر احمد خان اور تحصیلدار مینڈھر جہانگیر خان سے ملاقات کر کے بتایاکہ ان کے علاقوں میں پانی کی سخت قلت پائی جارہی ہے ۔وفود کے ارکان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی دنوں سے پانی کی سپلائی میں مشکلات کاسامناہے اور محکمہ پی ایچ ای کی طرف سے کوئی متبادل انتظام نہیں کیاجارہا۔ان کاکہناتھاکہ یاتو انہیں پانی فراہم کیاجائے یاپھر نقل مکانی کرنے کیلئے احکام جاری کئے جائیں۔انہوںنے کہا کہ متعلقہ محکمہ کہیں بھی نظر نہیں آ رہا اور جو گاڑی سب ڈویژن مینڈھر میں پانی سپلائی کرنے کے لئے لگائی گئی ہے، وہ صرف آفیسران یا متعلقہ محکمہ کے ملازمین کے رشتہ دار یا خود ان کے گھروں تک محدود ہے اور عام لوگوں کو سپلائی نہیں مل رہی ۔ان کا کہنا تھا کہ گاڑی کے ذریعہ منظور نظر افراد کو ہی پانی ملتاہے ۔انہوںنے کہا کہ اس گاڑی کو کئی بار انہوںنے متعلقہ محکمہ کے ملازمین کے رشتہ داروں کے لینٹروں پر پانی ڈالتے دیکھاہے ۔لوگوں نے مزید کہا کہ حکومت و انتظامیہ جلد از جلد پانی کا کوئی بندو بست کرے ورنہ انسان ہی نہیں بلکہ مال مویشی بھی پیاسے مریںگے ۔ان کاکہناتھاکہ اگر پانی کا کوئی بندوبست نہیں ہوسکتاتو انہیں کسی ایسی جگہ منتقل کیاجائے جہاں پانی دستیاب ہو۔لیبر یونین کے صدر عبد المجید چوہدری و جنرل سکریٹری مشتاق فانی نے اس حوالے سے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ لوگ پانی کی بوند بوند کے لئے ترس گئے ہیں لیکن متعلقہ محکمہ کو ٹس سے مس نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ و متعلقہ محکمہ فوری طورپر پانی کابندو بست کرے ورنہ لوگ پیاسے مر جائیں گے ۔انہوںنے کہاکہ سب ڈویژن مینڈھر کو خشک سالی سے متاثرہ علاقہ قرار دیاجائے اور پانی کی سپلائی کے حوالے سے خصوصی انتظامات کئے جائیں۔انہوںنے احتجاج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر پانی کا بندو بست نہ کیا گیا تو پیاس کے مارے لوگ مجبوراًاحتجاج کریںگے۔